بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی پوری آبادی محصور، ٹیلی رابطے مفلوج، راستے مسدود

ریاض مسرور - بي بي سي سرینګر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر میں سیکورٹی فورسز

Getty Images

2004 میں کشمیر کے حالات نسبتاً پرسکون تھے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں آج جیسی تلخی نہیں تھی، اور مسلح تشدد کے واقعات کی تعداد بھی بہت کم تھی۔ حریت کانفرنس کے بعض لیڈر حکومت ہند کے ساتھ مذاکرات کے ایک اور دور کی تیاری میں مصروف تھے۔ لیکن اُسی سال جب یورپی یونین کا ایک پارلیمانی وفد کشمیر آیا تو وفد کے اراکین نے کشمیرکے طول و عرض میں موجود فوجی، نیم فوجی اور پولیس تنصیبات اور اہلکاروں کی تعداد کو دیکھ کر کہا تھا کہ کہ ’کشمیر ایک خوبصورت قید خانہ‘ہے۔

گزشتہ پندرہ برس کے دوران کشمیر میں کم از کم تین مرتبہ ہمہ گیر عوامی تحریک برپا ہوئی جسے دبانے کے لیے وسیع پیمانے کا کریک ڈاون کیا گیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے، ہزاروں دیگر زخمی ہوگئے، سینکڑوں جیلوں میں ہیں۔ ان تحریکوں کے دوران کئی کئی مرتبہ کرفیو نافذ رہتا تھا، موبائل انٹرنیٹ معطل رہتا تھا، لیکن سڑکیں مکمل طور پر مسدود اور رابطے اس درجہ مفلوج نہیں تھے۔ گزشتہ پانچ دن سے کشمیر کے لوگ ایک دوسرے کا حال چال پوچھنے سے قاصر ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

کشمیر: سخت کرفیو میں انڈیا مخالف مظاہرے جاری

انڈیا کا کشمیر کی ’نیم خودمختار‘ حیثیت ختم کرنے کا اعلان

محبوبہ مفتی:’پاکستان پر انڈیا کو ترجیح دینے میں غلط تھے‘

کشمیر کےواحد زنانہ ہسپتال، لل دید میں مریضوں کے تیمارداروں نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ انہیں بھی ہسپتال میں نظر بند کیا گیا ہے۔ شوپیان کے بلال احمد نے بتایا: ’میں اپنی بہن کو لے کر ہسپتال کیسے پہنچا وہ میرا خدا ہی جانتا ہے، لیکن اب جب کہ خدا کے فضل سے اس کی بیٹی ہوئی ہے اور ہم یہ خوش خبری گھروالوں کو نہیں دے سکے ہیں۔‘ یہی حال اُن لاکھوں والدین کا ہے جن کے بچے یا اقربا ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کاروبار یا تعلیم کے سلسلے میں مقیم ہیں۔

کشمیر میں مظاہرے

Getty Images

لال چوک کے ایک دکاندار عبدالمجید کہتے ہیں: ’حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ دس لاکھ لوگ {ہندوستان سے} باہر ہیں۔ سرکاری دفتروں میں چند فون لائنز سے یہ مسلہ حل ہوگا کیا۔ حکومت کو چاہیَے کہ کم از کم مواصلاتی رابطوں کا کوئی ایک ذریعہ ہی بحال کرے۔‘

واضح رہے تیس سال میں پہلی مرتبہ کشمیر میں لینڈلائن، وائرلیس فونز اور ہر طرح کی انٹرنیٹ سہولت معطل ہے۔ حالانکہ حکومت نے دفعہ 144نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن سڑکوں پر کرفیو سے بھی بدترین حالات ہیں۔ اگست اور ستمبر کشمیر میں شادیوں، حج سے واپسی اور امتحانات کا سیزن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ میوہ باغات میں دواپاشی کا وقت ہے جبکہ چند ہفتوں میں شالی کی فصل کاٹنے کا وقت ہے۔ عبدالمجید کہتے ہیں: ’جس طرح کی بندشیں ہیں، ہم اس وقت صرف یہ سوچتے ہیں کہ کیا ہم حاجیوں کا استقبال کرنے، شادیوں کی تقریب میں شرکت کرنے، بچوں کو امتحانات کے لیے بھیجنے یا فصل کاٹنے کے لیے زندہ رہیں گے کیا۔‘

واضح رہے حکومت کے احکامات پر بیس ہزار یاتری اور سیاح وادی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

درین اثنا گورنر ایس پی ملک نے اعلان کیا ہے کہ لوگوں کو عید منانے میں تکلیف نہیں ہوگی، کیونکہ “مختلف بستیوں میں غذائی اجناس کی موبائل وین بھیجی جائیں گی، سبزیاں اور گوشت کے لیے منڈیاں قائم ہوں گی جہاں لوگوں کی رسائی ممکن ہوگی۔ ‘

تیس سالہ تاریخ میں سخت ترین کرفیو اور مواصلاتی بلاکیڈ کی وجہ سے افواہوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ، تاہم پولیس حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ روز کے دوران پرتشدد مظاہروں کے سو سے کم وارداتیں ہوئیں جن میں بیس سے زیادہ افراد چھرے اور اشک آور گیس کے گولے لگنے سے زخمی ہوگئے۔ سرینگر کے قمرواری علاقے میں پولیس نے مشتعل ہجوم کا تعاقب کیا تو کچھ نوجوان دریا میں کود پڑے جس کے باعث ایک نوجوان غرقاب ہوگیا۔

قابل ذکر ہے کہ 5 اگست کو بھارتی پارلیمان میں وزیرداخلہ امیت شاہ نے بھارتی آئین میں کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی اختیارات کو ختم کرنے اور جموں کشمیر ریاست کو جموں کشمیر اور لداخ کے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا بل پیش کیا جسے دونوں ایوانوں میں منظور کیا گیا۔ اس قانون کے مطابق اب لداخ بغیر اسمبلی والا علیحدہ مرکز کے زیرانتظام خطہ ہے جبکہ جموں کشمیر بھی مرکز کے زیرانتظام خطہ ہوگا لیکن یہاں قانون سازاسمبلی ہوگی۔

کشمیر

Getty Images

عام لوگوں کو خدشہ ہے کہ بھارتی شہریوں پر کشمیر میں جائیداد خریدنے یا نوکری حاصل کرنے پر پابندی کے خاتمے سے کشمیریوں کی شناخت ختم ہوجائے گی، تاہم وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو قوم کے نام خطاب میں کہا کہ آئین کی دفعہ 370 جموں کشمیر اور لداخ کی ترقی میں بڑی رکاوٹ تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب ’نوجوان خود اپنی تقدیر کے مالک ہوں گے، اور تینوں خطے ترقی کی نئی منازل طے کریں گے۔ ‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9950 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp