’خطرناک ترین قیدیوں’ کے لیے بنائی گئی امریکہ کی ’سخت ترین‘ جیل میں زندگی کیسی ہے؟

الیسیندار کوریا - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپرمیکس جیل، فلورنس، کولوراڈو

Getty Images
کولوراڈو کی ‘سپرمیکس’ جیل کو اپنے دور دراز ہونے اور سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے ‘الکاٹراز آف دی راکیز’ کہا جاتا ہے

اسے امریکہ کے سب سے محفوظ جیلوں میں تصور کیا جاتا ہے جہاں ملک کے بدنام ترین مجرموں کو رکھا جاتا ہے۔

اور ممکنہ طور پر یہیں میکسیکو کے منشیات فروش گروہ سینالوا کے سابق سربراہ خواکین ’ایل چاپو’ گوزمین کو بھی رکھا جائے گا جنھیں میکسیکو اور امریکہ دونوں ممالک میں عوام کا نمبر ایک دشمن تصور کیا جاتا ہے۔

نیو یارک کے ایک جج نے انھیں امریکہ میں کوکین، ہیروئن اور دیگر منشیات پھیلانے اور ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ اور اسلحے سے متعلق دیگر جرائم میں ملوث ہونے پر تاحیات قید اور اس کے علاوہ 30 سالہ علامتی قید کی سزا سنائی ہے۔

استغاثہ نے ایل چاپو کو ’ظالم اور خون کا پیاسا’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے قتل اور اپنے مخالف گروہوں سے جنگوں کے ذریعے طاقت حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیے

’میں تو جیل میں ہی اچھا تھا‘

برازیل کی التمیرا جیل میں ہلاکت خیز ہنگامہ آرائی

بدنام ’انقلابی‘ کو تیسری بار عمر قید

بدنامِ زمانہ ڈرگ لارڈ جن کا مقابلہ شاید صرف کولمبیا کے پابلو ایسکوبار کر سکتے ہیں، دو مرتبہ میکسیکو کی سخت ترین سکیورٹی والی جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جس میں ایک مرتبہ تو انھوں نے اپنے سیل سے ایک میل طویل سرنگ تک کھودی اور فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

مگر اس مرتبہ اگر امریکی حکام کامیاب ہو جاتے ہیں تو گوزمین تیسری مرتبہ کبھی فرار نہیں ہو سکیں گے۔

’الکاٹراز آف دی راکیز’

یونائیٹڈ سٹیٹس پینی ٹینشری ایڈمنسٹریٹو میکسیمم فیسیلٹی جسے قریبی شہر کی نسبت سے اے ڈی ایکس فلورنس، یا صرف ’سپر میکس’ بھی کہا جاتا ہے، جنوبی کولوراڈو کی بلند صحرائی زمینوں میں راکی ماؤنٹین کے قریب ہی قائم ہیں۔

کیلی فورنیا کی بدنامِ زمانہ جیل پر اس کا نام ’الکاٹراز آف دی راکیز’ پڑا۔ سنہ 1994 میں کھلنے والی اس جیل سے اب تک ایک بھی قیدی فرار نہیں ہو سکا ہے۔

اے ڈی ایکس جیل، اے ڈی ایکس فلورنس، کولوراڈو

Getty Images
1994 میں قائم ہونے والے اس جیل سے آج تک کوئی بھی فرار نہیں ہو سکا ہے۔

اس جیل کو تیار ہی ملک کے خطرناک ترین قیدیوں کو رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہاں ایل چاپو کی ملاقات اونابومبر کہلانے والے امریکہ کے مقامی دہشتگرد ٹیڈ کازنسکی، سنہ 1995 کے اوکلاہوما بم دھماکوں کے ذمہ دار ٹیری نکولس، اور سنہ 2013 میں بوسٹن میراتھون بم دھماکوں کے منصوبہ ساز زوخر سارنائیو سے ہوئی۔

اے ڈی ایکس فلورنس میں 490 مرد قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے اور یہ فلورنس فیڈرل پینی ٹینشری کمپلیکس کا حصہ ہے جس میں دو مزید جیلیں بھی ہیں۔

جیل میں موجود تمام 376 قیدی، جن میں سے کئی عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں، دن میں 23 گھنٹے تک اپنے انفرادی سیلوں میں بند رہ کر گزارتے ہیں جس میں ان کا انسانوں کے ساتھ انتہائی کم رابطہ ہو پاتا ہے۔

فوجداری مقدمات کے دفاعی وکیل اور امریکہ کے سابق فیڈرل پراسیکیوٹر ڈنکن لیوین کہتے ہیں کہ ’ویسے تو تمام جیلیں افسردہ کن ہوتی ہیں مگر یہ جیل خاص طور پر انسانیت سے عاری ہے۔ یہ دنیا کی سب سے الگ تھلگ جگہوں میں سے ایک ہے۔ یہاں زندگی کی کوئی بھی بیرونی علامت موجود نہیں ہے۔’

لیوین نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ قیدیوں کا صرف گارڈز یا پھر ایک دوسرے سے بہت ہی کم میل جول ہوتا ہے تاکہ ان کی جانب سے کسی کو نقصان پہنچانے کے امکانات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ دنیا کا محفوظ ترین جیل ہے۔ اسے خاص طور پر بنایا ہی دنیا کے سب سے خطرناک قیدیوں کو رکھنے کے لیے تھا۔’

اے ڈی ایکس جیل، اے ڈی ایکس فلورنس، کولوراڈو

Google Images
فلورنس فیڈرل پینیٹنشری کمپلیکس میں اس جیل کے علاوہ دو دیگر جیلیں بھی ہیں

کنکریٹ کا ہر سیل سات مربع میٹر پر محیط ہے جس میں ایک پلنگ، ایک میز اور ایک بینچ ہے۔ اس کے علاوہ سٹین لیس سٹیل سے بنا ٹوائلٹ، سنک اور شاور بھی ہے۔

سیلوں کی دیواریں موٹی اور کنکریٹ کی بنی ہیں جبکہ ان کے دروازے ٹھوس فولاد کے بنے ہیں۔ ان آہنی دروازوں میں ایک چھوٹی سی کھلی جگہ سے کھانا اور دوائیں دی جاتی ہیں۔ گارڈز، ماہرینِ نفسیات اور دیگر اسٹاف کے ساتھ تمام میل جول سیل کے اندر ہی ہوتا ہے۔

تمام سیل راہداری کے ایک ہی جانب بنائے گئے ہیں، چنانچہ دروازہ کھلنے پر بھی قیدی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ پاتے۔ قیدیوں کو صرف 10 سینٹی میٹر چوڑی ایک عمودی کھڑکی سے قدرتی روشنی ملتی ہے جس کے ذریعے وہ آسمان کا ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ سکتے ہیں اور بس۔

کچھ سیلز میں ریڈیو یا ٹی وی ہوتا ہے جن پر انتظامیہ کے منتخب کردہ تعلیمی اور مذہبی پروگرام یا پھر فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔

’ذہنوں کو شکستہ کرنے کے لیے بنایا گیا جیل’

قیدیوں کو اپنے سیل سے نکلنے کی اجازت صرف ملاقات اور تفریح و ورزش کے وقت، یا پھر صرف ایسے علاج کے وقت ہوتی ہے جو کہ سیل کے اندر نہیں ہو سکتا۔

ملاقات کے دوران قیدیوں اور ملاقاتیوں کے درمیان ایک موٹا شیشہ ہوتا ہے اور وہ ٹیلی فون کے ذریعے بات کرتے ہیں۔ قیدیوں کو ای میل تک رسائی نہیں ہوتی اور وہ ایک مہینے میں 15 منٹ کی صرف تین فون کالز کر سکتے ہیں۔

ورزش کا وقت صرف دن میں ایک یا دو گھنٹے ہوتا ہے اور وہ بھی صرف کام کے دنوں میں۔

کچھ قیدیوں کو جیل کی اندر ہی قائم ایسے جمنازیم میں اکیلے لے جایا جاتا ہے جس میں کوئی کھڑکیاں نہیں ہوتیں۔ کچھ کو کم از کم تین گارڈز کنکریٹ کی دیواروں اور لوہے کی سلاخوں والی چھت سے بنے ایک باہری علاقے میں لے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں ایک انفرادی پنجرے میں رکھا جاتا ہے جسے پنجرے کے بجائے قلعہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا۔

اے ڈی ایکس جیل، اے ڈی ایکس فلورنس، کولوراڈو

Getty Images
فی الوقت قید 376 قیدیوں میں سے تقریباً تمام ہی دن میں 23 گھنٹے تک تنہائی میں گزارتے ہیں

مجموعی طور پر پانچ قیدی، ہر کوئی اپنے پنجرے میں بند، ایک وقت میں ایک ساتھ باہر رہ سکتے ہیں۔ مگر انھیں ایک دوسرے کو دیکھنے اور ان سے بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

جنھیں بہت ہی خطرناک تصور کیا جاتا ہے، انھیں ورزش کے لیے ایک علیحدہ جگہ لے جایا جاتا ہے جہاں وہ بالکل الگ تھلگ رہتے ہیں۔

ہیومن رائٹس ڈیفنس سینٹر سے تعلق رکھنے والی ایک وکیل ڈیبورا گولڈن، جنھوں نے کئی مرتبہ اے ڈی ایکس فلورنس کا دورہ کیا ہے، کہتی ہیں کہ اس میں اور دیگر سخت ترین سکیورٹی والے جیلوں میں فرق یہ ہے کہ یہاں قیدیوں کو تمام وقت دیگر افراد سے مکمل طور پر الگ تھلگ ان کے سیل میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ ‘سخت ترین سکیورٹی والے ایک عام جیل میں بھلے ہی کڑی نگرانی رکھی جاتی ہے مگر لوگ اپنے سیل سے نکل سکتے ہیں، چل پھر سکتے ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لی سکتے ہیں۔ مگر سپرمیکس ان جیلوں سے کافی مختلف ہے۔ یہاں پر انسانوں سے میل جول بہت ہی کم ہے۔’

ہیومن رائٹس ڈیفینس سینٹر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پال رائٹ ان سے اتفاق کرتے ہیں۔

بی بی سی نیوز برازیل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘اے ڈی ایکس فلورنس میں ہر چیز، چاہے اس کی عمارت ہو، اس کے سیلز کا ڈیزائن ہو یا پھر کوئی بھی دوسری چیز، اس سب کا مقصد انسان سے رابطہ کم سے کم رکھنا ہے۔ بنیادی طور پر اسے بنایا ہی لوگوں کو ذہنی طور پر تباہ کرنے کے لیے ہے۔

خطرناک ترین قیدیوں کا مسکن

مگر یہ حالات صرف امریکہ کے سب سے خطرناک ترین قیدیوں کے لیے ہی ہیں۔

ریاضی کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر ٹیڈ کازنسکی جنھوں نے سنہ 1978 سے سنہ 1995 کے درمیان دھماکوں کے ایک سلسلے میں تین افراد کو ہلاک اور 20 سے زائد کو زخمی کیا تھا، یہاں یکے بعد دیگرے عمر قید کی تین سزائیں گزار رہے ہیں۔

ٹیری نکولس سنہ 1995 میں اوکلوہوما میں 168 افراد کی جان لینے والے ٹرک بم حملے کے نتیجے میں 161 بار دی گئی عمر قید کی سزائیں بھگت رہے ہیں۔

یہاں پر سابق ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ ہانسین بھی ہیں جو کہ سنہ 1979 سے سنہ 2001 تک سوویت یونین اور روس کے لیے جاسوس رہ چکے ہیں، 15 بار دی گئی عمر قید کی سزا گزار رہے ہیں۔

بوسٹن میراتھون میں دھماکوں کے ذمہ دار زوخر سارنائیو قید ہیں اور اپنی سزائے موت پر عملدرآمد کا انتظار کر رہے ہیں۔

سپرمیکس کے دیگر مشہور قیدیوں میں گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد دینے والے القاعدہ رکن زکاریاس موساوی، سنہ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر بم حملے کے ذمہ دار رمزی یوسف، اور سنہ 1996 کے اولمپک گیمز کے دوران اٹلانٹا اولمپک پارک پر حملے سمیت کئی بم حملوں کے ذمہ دار ایرک رڈولف شامل ہیں۔

خاردار تاریں، جیل

Getty Images
ماہرین کے مطابق قیدِ تنہائی انسانی دماغ کو تبدیل کر دیتی ہے جس سے ان کے لیے دوبارہ لوگوں سے میل جول بنانا مشکل ہوجاتا ہے

اس کے علاوہ اے ڈی ایکس فلورنس میں قید کاٹ رہے افراد میں ‘شو بومبر’ رچرڈ ریڈ بھی ہیں جنھوں نے سنہ 2001 میں امیریکن ایئرلائنز کے ایک طیارے کو اپنے جوتوں میں چھپے بم کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش کی تھی، جبکہ سنہ 2009 میں ایک جہاز کو اپنے انڈرویئر میں چھپائے گئے بم کے ذریعے اڑانے کی کوشش کرنے والے عمر فاروق عبدالمطلب بھی شامل ہیں۔

لندن کی فنسبری پارک مسجد کے سابق امام ابو حمزہ المصری بھی یہاں قید ہیں۔ برطانیہ کے سب سے مشہور بنیاد پرست مذہبی رہنما کو امریکہ منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ دہشتگردی کے الزامات میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

انھوں نے جیل کے حالات کے بارے میں شکایت کی ہے۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ ‘بلاتوقف’ برطانیہ کی جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔

’دنیا کی سب سے مایوس کن جگہ’

مگر جیلوں اور اصلاحی مراکز پر نظر رکھنے والے ادارے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کریکشنز انفارمیشن کونسل (سی آئی سی) کی ایک رپورٹ کے مطابق اے ڈی ایکس فلورنس کے زیادہ تر قیدیوں کو سزا سنائے جانے کے فوری بعد اس جیل نہیں بھیجا جاتا۔

اس میں بتایا گیا کہ 90 فیصد کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی مثلاً فرار کی کوشش، گارڈز یا دیگر قیدیوں پر حملے کی وجہ سے وہاں منتقل کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی قیدی ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور نقادوں کا کہنا ہے کہ تنہائی ان مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔

ہیومن رائٹس ڈیفنس سینٹر کی ڈیبورا گولڈن کہتی ہیں کہ ‘دو ہفتے تنہائی میں رہنے کے بعد انسانی دماغ میں تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں اور دیگر افراد سے میل جول بہت مشکل ہوجاتا ہے۔’

مگر ڈنکن لیوین کہتے ہیں کہ ‘سپرمیکس میں ہر کسی کو قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔’

وہ کہتے ہیں کہ یہ ‘دنیا کی مایوس کن جگہ ہے جہاں آپ کبھی بھی نہیں جانا چاہیں گے، ملاقاتی کے طور پر بھی نہیں۔’

DO NOT DELETE OR TRANSLATE – Digihub tracker for 49030745

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9988 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp