ہیر مان جا: ’فلم میں آئٹم نمبر نہیں، صرف مہندی نمبر ہیں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حریم فاروق اور علی رحمان

BBC
حریم فاروق اور علی رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہو یا انڈیا رومانوی کامیڈی فلمیں عوام میں زیادہ مقبول ہوتی ہیں

رواں برس عیدالاضحیٰ پر پاکستانی سنیماؤں میں متعدد فلمیں ریلیز ہوئی ہیں اور انڈین فلموں پر پابندی کی وجہ سے امید کی جا رہی ہے کہ تمام فلمیں ہی اچھا کاروبار کریں گی۔ حریم فاروق اور علی رحمان کی فلم ’ہیر مان جا‘ بھی ان فلموں میں شامل ہے۔ ان دونوں اداکاروں نے بی بی سی کی فیفی ہارون سے اپنی فلم، فلمی کریئر اور پاکستانی فلمی صنعت پر بات کی۔

حریم فاروق اور علی رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہو یا انڈیا رومانوی کامیڈی فلمیں عوام میں زیادہ مقبول ہوتی ہیں اور اسی لیے وہ اپنی فلم کی کامیابی کے بارے میں پرامید ہیں۔

’انڈیا اور پاکستان دونوں میں ان فلموں کی مانگ بھی زیادہ ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ اگر پاکستان میں اسی قسم کی زیادہ فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی فلمیں بنیں گی تو لوگ سینما گھروں کا رخ کریں گے۔’

یہ بھی پڑھیے

’میں علی کی جگہ ہوتا تو میں بھی یہی کرتا‘

آخر کنگنا رناوت کو اتنا غصہ کیوں آتا ہے؟

فلم ’پرچی‘ کا پرچہ

اس سوال پر کہ شائقین کو ان کی فلم کیوں دیکھنی چاہیے، حریم کا کہنا تھا کہ ’ہیر مان جا میں ہیر اور کبیر کا ایک انوکھا تعلق ہے جو بہت سے لوگوں کو یقیناً پسند آئے گا۔‘

حریم فاروق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مستقل مزاجی سے فلمیں بنانے کی ضرورت ہے۔

’ہم زیادہ فلمیں اسی لیے بنا رہے ہیں کہ ہمیں مستقبل اچھا نظر آ رہا ہے مگر ہمیں مستقل مزاجی اپنانا ہو گی۔ جیسے ہماری ڈرامہ انڈسٹری کا پوری دنیا میں نام ہے کیونکہ انھوں نے کافی عرصے تک مستقل اچھا کام کر کے دکھایا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سینما کلچر واپس آ جائے۔‘

اس سوال پر کہ کیا انڈین فلموں کی بندش سے پاکستانی فلموں پر سنیما کے ناظرین کو تفریح فراہم کرنے کے حوالے سے جس ذمہ داری میں اضافہ ہوا ہے کیا وہ اسے پورا کر پائیں گی، حریم فاروق کا کہنا تھا کہ ’یہ آہستہ آہستہ ہوگا۔ ہمیں ابھی اور زیادہ فلمیں بنانے کی ضرورت ہے۔‘

حریم نے کہا کہ ’فلم بنانا ایک بہت مشکل کام ہے۔ جو بھی کر رہا ہے بہت دل سے کر رہا ہے۔ کسی بھی پروڈیوسر کا پہلا ہدف پیسے کمانا نہیں ہوتا۔ لوگ یہ سینما سے اپنی محبت کے لیے کرتے ہیں جس میں بہت ساری غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔’

علی رحمان کا کہنا تھا کہ وہ ہر قسم کی فلم دیکھتے ہیں خاص کر کے پاکستانی۔ ‘میں (سینما) سیکھنے اور دیکھنے جاتا ہوں۔ یہ میرا کام ہے۔’

https://youtu.be/i4qTVlNIctY

آئٹم نمبر نہیں، صرف مہندی نمبر‘

حریم فاروق ماضی میں کہتی رہی ہیں کہ انھوں نے اپنی فلم ‘پرچی’ میں آئٹم نمبر نہیں مہندی نمبر کیا اور اب بھی ان کا یہی کہنا ہے کہ ان کی نئی فلم ‘ہیر مان جا’ میں بھی مہندیوں پر ڈانس کے لیے خاص گانے شامل کیے گیے ہیں۔

‘میرے خیال میں یہ بات ضروری ہے کہ آپ ایک گانے کو کس طرح کر رہے ہیں۔ ‘بلو ہائے’ (فلم پرچی کا گانا) مہندی نمبر تھا۔ یہ مصالحہ فلم ہے اور اس میں بھی مہندی نمبرز ہیں بس اس فلم میں ہماری بلو علی ہیں۔’

علی رحمان کا اس بات پر کہنا تھا کہ ‘اس بار میں نے ڈانس کیا ہے۔ عثمان خالد بٹ کی شاگردی میں اس میں میرا سولو ڈانس نمبر ہے۔ ان کے شاگرد فیضان نے مجھے سیکھایا۔ امید ہے لوگوں کو پسند آئے گا۔ گانا بھی بہت اچھا ہے۔’

’آسانی سے محبت نہیں ہوتی‘

حریم فاروق کہتی ہیں کہ وہ محبت کے جذبے پر یقین رکھتی ہیں تاہم انھیں اتنی آسانی سے کسی سے محبت نہیں ہوتی۔ ‘میں اپنے کام میں اتنی مصروف رہتی ہوں۔ کچھ لوگوں کو وقت نہیں ملتا یا ان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔’

تاہم ‘ایک وقت پر دو لوگوں سے محبت’ ہونے کے سوال پر علی کا جواب تھا انھیں اس کا تجربہ ہوا ہے۔ ‘سوچا نہیں تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن مجھے نہیں ہوا۔ جس کے ساتھ میں تھا، اُسے ہوا تھا۔’

یہ بھی پڑھیے

’سیاسی بیان بازی فنکاروں کا کام نہیں‘

’شوبز سے منسلک فیملی کے فائدے بھی ہیں، نقصانات بھی‘

آرین خان کی بالی وڈ میں بطور اسسٹنٹ ہدایتکار انٹری

سپر ہِٹ جوڑی

لوگوں میں حریم اور علی کی جوڑی کافی مقبول ہو چکی ہے۔ اس پر حریم کا کہنا تھا: ‘لوگ ہمیں ایک ساتھ بہت پسند کرتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کیوں۔ ہماری بہت اچھی دوستی ہے۔’

علی نے اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ‘یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ 1960 کی دہائی سے اب تک جو جوڑی بھی ہٹ ہوجاتی ہے تو پروڈوسر چاہتے ہیں کہ وہی جوڑی بار بار ان کی فلموں میں آئے۔ یہ لوگوں کی بھی ڈیمانڈ ہوتی ہے اور ہم لوگوں کو خوش کرنے کے لیے فلمیں بناتے ہیں۔’

حریم فاروق اور علی رحمان

BBC
پاکستان کے شائقین میں حریم اور علی کی جوڑی کافی مقبول ہو چکی ہے

‘ہم نے ساتھ کافی سارے پروجیکٹ کیے ہیں لیکن شاید لوگوں کو (ڈرامہ) دیارِ دل سے لگن ہو گئی تھی۔ ہمارے کردار ایسے تھے کہ نہ چاہتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو مل گئے۔’

’مردوں کے خلاف نہیں‘

حقوق نسواں پر حریم نے کہا ‘میں مردوں کے خلاف نہیں۔ میں ان تمام مردوں کی عزت کرتی ہوں جنھوں نے میرا ساتھ دیا۔میرے ابو میری سب سے بڑی انسپیریشن ہیں۔’

انھوں نے مزید کہا ‘لیکن آپ جو کرنا چاہتے ہیں، جو پہننا چاہتے ہیں، آپ وہ کریں۔ بس آپ کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ نہ ہی کسی کی زندگی میں رکاوٹ پیدا کریں۔ مرد اور عورت دونوں کے پاس یہ حق ہے کہ وہ جو چاہیں وہ کریں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10771 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp