عمران خان کشمیر کا مقدمہ لڑنے اقوام متحدہ جائیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشیمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے پاکستان کی سیاسی قیادت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عید منائی جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا کے غیر آئینی اقدامات پر صرف پاکستان کو نہیں چین کو بھی اعتراض ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مانک پائیاں مہاجرین کیمپ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سیکورٹی کونسل کے رکن نہیں، ہمیں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکیل کی ضرورت تھی۔ میں اس لیے چین گیا اور آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ میں چین کی طرف سے کشمیر کا مقدمہ سکیورٹی کونسل میں لڑنے کے لیے وکالت نامہ لے آیا ہوں۔‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نواز کے سینیٹر اقبال ظفر جھگڑا سمیت دیگر پاکستانی رہنماؤں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور عوامی اجتماعات اور پریس کانفرنسز سے خطاب کیے۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظفر آباد کی مسجد میں عید کی نماز کے بعد ایک ریلی نکالی گئی جس میں ان رہنماؤں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

’عید گزرنے دو، کشمیر میں طوفان آئے گا‘

سرینگر میں چند گھنٹوں کی نرمی کے بعد پھر ’لاک ڈاؤن‘

’میں اپنے بیٹے کو بھی بندوق اٹھانے کے لیے تیار کروں گا`

کیا کشمیر واقعی ’خوبصورت قید خانہ‘ ہے؟

عمران خان کا اقوام متحدہ کا دورہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگلے ماہ (ستمبر میں) وزیر اعظم عمران خان آپ کا مقدمہ لڑنے اقوام متحدہ جا رہے ہیں۔ انھوں نے ملک سے باہر موجود ہر پاکستانی سے اپیل کی کہ جب انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اقوام متحدہ میں جائیں تو وہ پاکستانی اقوام متحدہ کے باہر احتجاجاً موجود ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ’اصولی، قانونی طور پر آپ کا مقدمہ بہت مضبوط ہے۔‘

عمران خان کے اقوام متحدہ جانے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ان انڈین اقدامات کے خلاف اقوام متحدہ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ شملہ معاہدہ اور لاہور ڈیکلریشن کے باوجود (مسئلہ کشمیر پر) کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شملہ معاہدے میں معاملات کو دوطرفہ روابط سے حل کرنے کا ذکر تھا لیکن اس پر حملہ بھارت نے خود کیا ہے اس لیے پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے معاہدوں کو ریویو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’نیشنل سکیورٹی کونسل میں وزیر اعظم عمران خان نے میری سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ہم ان معاہدوں کا جائزہ لیں گے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’انڈیا کشمیریوں کی آہ و بکا پر اپنے کان بند کر لیتا ہے، منھ پھیر لیتا ہے۔ اس لیے ہم اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔‘

کشمیری رہنماؤں سے ملاقات میں شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحی پر مظفرآباد سے متفقہ پیغام پوری دنیا تک گیا ہے کہ پاکستان اور اس کی تمام سیاسی جماعتیں کشمیر کے معاملے پر ایک آواز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سیاسی، آئینی اور قانونی طور پر اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان 14 تاریخ کو مظرآباد تشریف لا رہے ہیں اور وہ پارلیمان سے خطاب کریں گے۔

’اگر پاکستان کا وزیر اعظم نہیں لڑے گا تو کون لڑے گا‘۔

پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جہاں تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قیادت دکھائے۔

’اگر پاکستان کا وزیر اعظم نہیں لڑے گا تو کون لڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کشمیریوں کے حقوق پر تاریخی حملہ ہوا ہے۔

’ہمارا مقابلہ ایک ایسے شخص سے ہے جو گجرات کا قصائی ہے، اب کشمیر کا قصائی بن گیا ہے۔‘

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو سیاست سے بالاتر رکھا جائے۔

’آج بلاول صاحب یہاں تشریف لائے، ہم نے اکٹھے نماز عید ادا کی، ایک اچھا پیغام دنیا بھر میں گیا لیکن میں ان سے بھی یہی کہوں گا کہ سیاست کریں لیکن کشمیر کے پرچم میں ملغوف کر کے نہ کی جائے۔‘

کشمیری رہنماؤں سے ملاقاتیں

شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے بھی ملاقات کی اور مشترکہ پریس کانفرس بھی کی۔

مسعود خان نے کہا کہ انڈیا نے کشمیر میں اضافی فوج تعینات کر کے ’کشمیریوں کا قتل عام‘ شروع کردیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ہی جب پولینڈ کے وزیر خارجہ کی پاکستانی وزیر خارجہ کو فون کال سے متعلق بتایا گیا تو شاہ محمود قریشی نے اس کال کو اہم قرار دیتے ہوئے پریس کانفرنس ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کشمیر کے جھنڈے تلے پاکستان کی سیاست نہیں کرنی چاہیے، کشمیر کے ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان ملائشیا ،ترکی ،برطانیہ ، انڈونیشیا اور باقی ممالک کے سربراہان سے گفتگو کر رہے ہیں۔

’میری بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے ہو رہے ہیں، آج بھی میری پولینڈ کے وزیر خارجہ سے بات ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی بھرپور کوشش اور جدوجہد جاری رکھے گا ’لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری کاوشیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوں گی جب تک دنیا بھر میں موجود پاکستانی اور کشمیری اس جدوجہد کے ہراول دستے میں شامل نہیں ہوتے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10744 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp