مشاہیر ادب کی رومانی داستانیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راشد اشرف کی مرتب کردہ کتابیں پڑھنے والوں کی زندگی خاصی آسان کر دیتیں ہیں۔ وہ ماضی کے گم شدہ خزانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے شاندار جوہر پارے پیش کرتے ہیں کہ دل خوش ہو جاتا ہے۔ دل ہی تو ہے بھی راشد اشرف صاحب کی مرتب کردہ ایک ایسی ہی کتاب ہے جسے ایک بار اٹھا لیں تو مکمل پڑھے بغیر رکھنے کو دل نہیں مانتا۔ مختلف خود نوشتوں، رسائل اور کتب وغیرہ سے اکٹھی کی ہوئی یہ مشاہیر ادب کی رومانوی داستانیں ہیں جن کو پڑھنا بذات خود ایک رنگین تجربہ ہے

کتاب کا پہلا حصہ تیس مضامین پر مشتمل ہے جو بنیادی طور پر خود نوشتوں سے لئے گئے اقتباسات پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہ مختلف رسائل سے لئے گئے انتخاب پر مشتمل ہے جس میں نو مضامین شامل ہیں

شکیل عادل زادہ کی خود نوشت میں ان کے رشتے داروں کے توسط سے مینا کماری کے باندرا ممبئی میں گزارے ہوئے دو ہفتوں کی روداد ہے۔ اس وقت گو کہ شکیل صاحب محض دسویں کے طالب علم تھے لیکن عشق کے سارے سبق پڑھے ہوئے تھے۔ گھر میں ان کے شوہر کے ہمراہ تاش کی بازی میں شرط ہارنے پر مینا کماری کے ملائم ہاتھوں نے شکیل صاحب کے پیر چھو کر گویا انھیں سن کر دیا۔ مینا کماری کے سر کا درد شکیل صاحب نے دم سے ٹھیک کیا اور جہاں پر تین دفعہ دم کا عمل کرنا تھا وہاں کئی بار کر ڈالا۔ کہانی میں مبالغہ آرائی کا شائبہ ہے

ساقی فاروقی کی آپ بیتی بجا طور پر پاپ بیتی کہلانے کی حقدار ہے۔ اس میں مسز آفریدی کا وہ ہوش ربا قصہ ہے جس میں محترمہ بذات خود محبت کا تاوان دینے موصوف کے پاس آتی تھیں اور ان وصل نما ملاقاتوں کو نیا نام وصالیہ بھی ساقی صاحب کی اختراع ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب ایک جاننے والے صاحب نے ان دونوں کو اکٹھا ایک ہی کمرے میں دریافت نہ کر لیا

خود نوشت بسنگ آمد میں کپٹیں ایس ایم ادریس نے اپنی اور نرس کپٹین ثریا کی کہانی بیان کی ہے جو تاش میں رمی کی بازی سے شروع ہو کر ایک کلرک کی خودکشی پر ختم ہوئی۔ انکوائری ہوئی تو ٹیم میں کپٹین صاحب بھی شامل تھے۔ اس دن ڈیوٹی پر موجود نرس کپٹین ثریا کو بیان کے لئے بلوایا گیا۔ انکوائری کے سوالات سے پریشان ہو کر نرس صاحبہ پھٹ پڑی اور معنی خیز انداز میں کپتان صاحب کو مخاطب ہو۔ کر کہا۔ یہاں پر تو بڑے افلاطون بن رہے ہو اپنی ڈیوٹی میں کیا کرتے ہو؟

کتاب میں قدرت اللہ شہاب کا ایمن آباد کی ہندو لڑکی چندراوتی سے عشق کا تذکرہ بھی شامل ہے جسے گورنمنٹ کالج کا انگریزی پروفیسر گولڈن گرل کہتا تھا۔ شہاب صاحب اس طوفانی عشق کی رو میں یوں بہتے کہ چندراوتی کو سائیکل پر بیٹھا کر لاہور سے ایمن آباد کا تیس میل کا سفر باتوں میں گزا ر دیتے۔ اس صاف ستھری پاکیزہ سی محبت نے اردو ادب کو ایک شاھکار جملہ دیا۔ جب مجھے ۔ چندراوتی سے محبت شروع ہوئی اسے مرے ہوئے تیسرا روز تھا

علی گڑھ یونیورسٹی میں شعبہ فارسی کے سربراہ ڈاکٹر سید تقی ہادی کو بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ ڈیوٹی پر مامور نرس نے خوب خدمت کی۔ صحت یاب ہونے پر ہسپتال چھوڑتے ہوئے نرس سے پوچھا کہ وہ اس کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ نرس نے کہا مجھ سے شادی کر لیں۔ کچھ عرصے بعد شادی ہو گئی

احسان دانش کا شمعی نامی طوائف سے ایک مختصر سی ملاقات کا احوال فلم دیوداس کی چندرمکھی کی یاد دلاتا ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کے یہاں شراب کی بجاے پان کا دور چل رہا تھا۔ شمعی احسان دانش کو اس بات پر رضامند کرتی ہے کہ وہ روز اس کے کوٹھے پر تشریف لایا کریں کیوں کہ اس کے پاس بہت اچھی اچھی کتابیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے یہ انکشاف کیا کہ وہ خود بھی شعر کہتی۔ ہے۔ احسان دانش گھر آکر یہ سوچتے رہے کے اس عورت میں طوائفیت کیوں نہیں آیی اور شب و روز اخلاقی تخریب کے کچوکے کھا کر بھی اس کی روح میں شرافت کی جھلک کیسے باقی ہے

قتیل شفائی اقبال بانو کے ساتھ شب بسری کا قصہ یوں بیان کرتے ہیں کہ کام کی وجہ سے ان کے گھر آنا جانا تو ویسے ہی تھا ایک دن بارش کی وجہ سے رات گزارنی پڑی اور پھر وہی ہوا جو ایسی برسات کی راتوں میں ہوتا ہے۔ ان کی کتاب مطربہ میں شامل نظمیں اقبال بنو سے رفاقت کے ساڑھے چار سالوں پر مبنی ہیں۔ اقبال بانو سے شادی بھی طے تھی لیکن بات وہاں آکر ٹوٹ گئی جہاں اقبال بانو کی طرف سے شادی کے بعد دو سال تک فنکشنز میں جانے کی اجازت مانگی گئی

جوش ملیح آبادی یادوں کی برات میں بیس سالہ خاتون سے عشق کا احوال بیان کرتے ہیں جب ان کی عمر پچاسی برس تھی۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ جس کو جوش صاحب عشق سمجھتے رہے وہ دراصل بینک میں ملازمت حاصل کرنے کا بہانہ تھا۔ خاتون ملازمت ے جوش صاحب سے ملتی رہی اورسب کچھ نچھاور کرتی رہی تاہم کام نکل جانے کے بعد اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا جس کا جوش صاحب کو خاصا قلق تھا

آغا کشمیری کہتے ہیں بمبئی جانے کے لئے ریلوے سٹیشن پر موجود تھے جب ایک خوبصورت جوان لڑکی کو روتے ہوے پایا۔ لوگوں کی بے حسی پر غصہ آیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا بمبئی کے ایک مسلمان گھرانے کی ہے۔ کوئی لفنگا بھگا کر لے آیا تھا اور اب چھوڑ کر بھاگ گیا۔ آغا صاحب نے خاتون کا بھی ٹکٹ لیا اور دونوں ریل میں بیٹھ گئے۔ ایک سٹیشن آیا تو کچھمرد آن پہنچے اور دونوں کو پکڑ لیا اور لڑکی سے پوچھا اچھا اس بدمعاش کے ساتھ بھاگی تھی۔ لڑکی نے ان میں سے ایک کے ساتھ لپٹ کر رونا شروع ہو گئی اور پوری معصومیت سے بولی ہاں یہی وہ بدمعاش ہے جو دھوکہ دے کر مجھے بھگا کر لے گیا تھا۔ آغا صاحب کی خوب پٹائی ہوئی

کیڈٹ کالج پٹارو کے استاد مختار کریمی کی داستان عشق اداس کر دینے والی ہے۔ نیلی آنکھوں والی عائشہ کو ٹیوشن پڑھاتے پڑھاتے دل دے بیٹھے لیکن اقرار دونوں طرف سے نہ ہوا۔ پھر وہ امریکا چلی گئی اور دو محبت کرنے والے خاموشی سے جدا ہو گئے۔ برسوں بعد خبر ملی کہ عائشہ نے پی ایچ ڈی کے بعد کالج میں پڑھانا شروع کردیا تھا اور ایک لا علاج مرض میں میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئیں۔ وفات کی بعد ان کی آواز میں مختار صاحب کے لئے ایک آڈیو ریکارڈنگ ملی جس میں کہا گیا ”سر محبت اور عشق میں فرق کا پوچھتے ہوئے آپ نے کہا تھا عشق اس کو کہتے ہے جس کے لئے سب محبتیں قربان کر دی جائیں تو سر! میں نے آپ پر سب محبتیں قربان کر دیں

۔ نوٹ : راشد اشرف صاحب کی مرتب کردہ دلچسپ کتاب دل ہی تو ہے۔ خود نوشتوں سے مشاہیر ادب کی رومانی داستانیں، اٹلانٹس پبلیکیشنز کراچی سے حاصل کی جا سکتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •