انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ’370 کے خاتمے کے حق میں مسلمانوں کے جلوس‘ کی وائرل ویڈیو کی حقیقت

فیکٹ چیک ٹیم - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے کہ حال ہی میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی ملک کے آئین میں خصوصی حیثیت تبدیل کیے جانے کے اعلان کے بعد ’جب کشمیر میں ایک گھنٹے کے لیے کرفیو میں نرمی کی گئی تو بعض لوگوں نے سڑکوں پر آ کر آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے حق میں جلوس نکالا۔‘

تقریباً ایک منٹ کی اس وڈیو میں سفید کپڑے پہنے ہوئے کچھ لوگ دکھائی دیتے ہیں جو ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

اس ویڈیو میں بھیڑ میں سب سے آگے چلنے والے دو نوجوانوں نے ہاتھ میں انڈیا کا پرچم اٹھا رکھا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس ویڈیو کو کچھ فیس بک گروپ اور غیر تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا ہے۔ ان سبھی پوسٹ میں یہ بتایا گیا کہ یہ ویڈیو کشمیر کی ہے۔

مزید پڑھیے

سپریم کورٹ: ’کشمیر پر کوئی فوری فیصلہ نہیں دیا جا سکتا‘

کیا کشمیر واقعی ’خوبصورت قید خانہ‘ ہے؟

کشمیر: سخت پابندیوں میں عید پر حالات پرامن

’عید گزرنے دو، کشمیر میں طوفان آئے گا‘

اتوار کو انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسیوں سے جموں اور کشمیر سے آنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا کہ جموں اور کشمیر میں عید سے پہلے کرفیو میں نرمی کی گئی تاکہ لوگ عید کی تیاری کر سکیں۔ پیر کی صبح وزارت داخلہ کے ترجمان نے بھی سرینگر میں عید کی نماز پڑھتے ہوئے کچھ تصاویر جاری کیں۔

ہم نے اپنی تحقیق سے معلوم کیا کہ سوشل میڈیا پر جس ویڈیو کو کشمیر کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے وہ وادی کشمیر کی نہیں بلکہ ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو کی ہے اور اس کا کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ویڈیو کی سچائی

یہ وائرل وڈیو فروری 2019 کی ہے اور ویڈیو میں جو لوگ ہیں ان کا تعلق بوہرہ فرقے سے ہے۔ ریورس ایمج سرچ کی مدد سے دیکھا گیا کہ یہ ویڈیو سب سے پہلے کیسے شیئر ہوئی تھی تو معلوم ہوا کہ لنڈا نیومائی نام کی ایک ٹوئٹر صارف نے اسے 19 فروری 2019 کو ٹویٹ کیا تھا۔ لنڈا کی ٹوئٹر پروفائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکن ہیں۔

انھوں نے #indianarmyourpride اور #standwithforces کے ساتھ اس وڈیو کو ٹویٹ کیا تھا اور لکھا تھا کہ ’سی آر پی ایف کے شہید جوانوں کی یاد میں بوہرہ مسلمانوں نے بنگلورو میں ایک جلوس نکالا۔‘

17 فروری 2019 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں شدت پسندوں نے سی آر پی ایف کے قافلے پر حملہ کیا تھا جس میں 40 سے زیادہ جوان ہلاک ہو گئے تھے۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق پلوامہ حملے کے بعد ہلاک ہونے والے فوجیوں کی یاد میں بنگلورو کی طرح ممبئی میں بھی مسلمانوں نے جلوس نکالے تھے۔

اس جلوس میں شرکت کرنے والے مسلمان کون ہیں؟

انڈیا کی مغربی ریاستوں خاص طور پر گجرات اور مہاراشٹر میں رہنے والے داؤدی بوہرہ مسلمانوں کو کاروباری طور پر کامیاب طبقہ سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ برس وزیراعظم نریندر مودی اس طبقے کے پیشوا سیدنا مفضل سیف الدین سے ملنے اندور گئے تھے۔

ہم نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں بوہرہ جماعت کے ممبئی میں دفتر سے رابطہ کیا اور انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ویڈیو بنگلورو میں سی آر پی ایف کے جوانوں کے لیے نکالے گئے جلوس کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بوہرہ جماعت نے پلوامہ کے حملے کے خلاف اور شہیدوں کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بنگلورو، ممبئی اور اندور سمیت کئی شہروں میں اس طرح کے جلوس نکالے تھے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10806 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp