عرب شہزادی مریم بنت عبداللہ امریکی فوجی کی محبت میں امریکہ جا پہنچی لیکن شادی کامیاب نہ ہو سکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرب حکمرانوں کی امریکا سے محبت کوئی راز نہیں۔ لیکن ایک عرب شاہی خاندان کی شہزادی کو ایک امریکی کمانڈو سے ایسی محبت ہو گئی جو داستانوں کا حصہ بن گئی۔

اس شہزادی کا نام مریم بنت عبداللہ الخلیفہ ہے، جن کی پیدائش 1980ء میں بحرین کے شاہی الخلیفہ خاندان میں ہوئی۔ شہزادی مریم اور امریکی کمانڈو جیسن جانسن کی پہلی ملاقات ایک شاپنگ مال میں ہوئی جس کے بعد ان کے درمیان روابط جاری رہے۔ ایک روز ایک شاہی گارڈ کی ان پر نظر پڑ گئی اور اس نے شہزادی کی والدہ کو اس معاملے کی خبر کر دی۔ شہزادی پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ انتہائی فلمی انداز میں کمانڈو کے ساتھ امریکا فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔

میرین کمانڈو جیسن بحرین میں انسداد دہشتگردی سپیشلسٹ کے طور پر تعینات تھا اور اس کی ذمہ داری بحرین میں موجود امریکی شہریوں کی حفاظت تھی۔ اس نے شہزادی کو ایک خاتون میرین کمانڈو کی وردی پہنائی اور فوجی طیارے میں اپنے ساتھ بٹھا کر امریکا لے گیا۔ بحرینی حکومت نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے شہزادی کو واپس لانے کی کوشش کی۔ قریب تھا کہ بحرینی حکومت کی درخواست پر انہیں واپس بھیج دیا جاتا کہ شہزادی نے یہ کہہ کر پناہ کی درخواست دائر کر دی کہ بحرین واپس جانے پر ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگا۔ بعد ازاں انہیں امریکا کی شہریت دے دی گئی۔

شہزادی اور کمانڈو کی شادی 1999 میں ہوئی لیکن 2004 میں ان کے درمیان طلاق ہو گئی۔ بعد ازاں ایک انٹریو میں کمانڈو جیسن نے طلاق کی حیران کن وجہ بتائی۔ اس کا کہنا تھا کہ شہزادی لاس ویگاس کی رنگین راتوں میں ایسی کھو گئی تھی کہ ان کی ازدواجی زندگی ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ امریکی میڈیا میں اس انوکھے معاشقے اور پھر طلاق کا خوب چرچا رہا اور اس کہانی پر مبنی The Princess and the Marine کے عنوان سے 2001 میں ایک فلم بھی بنائی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •