کشمیر کہانی۔ ۔ ۔ ( 6 ) ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلاب سنگھ نے ایک کروڑ روپے میں انگریزوں کے ساتھ کشمیر کی ڈیل تو کر لی تھی لیکن اب اسے کشمیر میں بغاوت کا سامنا تھا۔ سکھوں کے نامزد کردہ گورنر نے اس کے لیے مسائل کھڑے کر دیے تھے۔ اس پر گلاب سنگھ کے پاس ایک ہی حل بچا تھا کہ وہ انگریزوں سے رابطہ کرے، جنہیں اس نے پچھتر لاکھ روپے کی نقد ادائیگی کرنی تھی، اور ان کی مدد سے پورے کشمیر کا قبضہ لے۔ انگریزوں کو اگر اپنے پچھتر لاکھ روپے نقد اور پچیس لاکھ روپے کی کشمیر کی پہاڑیاں چاہیے تھیں تو انہیں پورا اقتدار بھی لے کر دینا ہوگا۔

1846 میں گلاب سنگھ نے انگریز فوج کی مدد سے باغیوں کو شکست دے کر کشمیر پر اپنی حکمرانی قائم کرلی تھی۔ یوں دہلی پر گوروں کی حکومت اور کشمیر کے درمیان تعلقات کا آغاز 1849 میں ہوا۔ یہ تعلقات پنجاب حکومت کے ذریعے قائم ہوئے اور مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنا ایک ایجنٹ لاہور میں مقرر کر دیا تھا؛ تاہم انگریز حکومت نے سری نگر میں فوراً اپنا ایجنٹ مقرر نہیں کیا؛ البتہ چند برس بعد انگریزوں نے اپنا پہلا خصوصی نمائندہ سری نگر میں تعینات کر دیا۔ یہ نمائندہ بھی کشمیر میں صرف گرمیوں کے دنوں میں ٹھہرتا تھا۔

مہاراجہ گلاب سنگھ 1857 میں انتقال کر گیا اور اس کی جگہ اس کے بیٹے رنبیر سنگھ نے اقتدار سنبھال لیا؛ تاہم دہلی اور سری نگر کے درمیان تعلقات اس طرح چلتے رہے ؛ تاہم 1877 میں دہلی سرکار نے ایک تبدیلی کی اور اپنے افسر خاص کو حکم دیا کہ وہ اب انڈین حکومت کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہے گا اور جو بھی وادی میں سیاسی ایشوز ہوں گے ان پر بریف کیا کرے گا۔ 1885 میں مہاراجہ رنبیر سنگھ بھی انتقال کر گیا تو اس کی جگہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے لے لی اور افسر خاص کے عہدے کا نام بدل کر Resident in Kashmir کر دیا گیا، جو اب مستقل سرینگر میں تعینات تھا۔

اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل مہاراجہ ہری سنگھ کو یہ گدی 1925 میں منتقل ہوئی۔ وہ جموں اور کشمیر کا حکمران تھا۔ جب ہندوستان تقسیم ہو رہا تھا تو اس وقت کشمیر بہت اہم جگہ پر واقع تھا۔ مشرق میں تبت تو شمال مشرق میں چین کا صوبہ سنکیانگ اور افغانستان، شمال میں گلگت۔ قریب ہی شمال میں افغانستان کا علاقہ واکان اور مغرب میں گلگت سے کاشغر تک کا روٹ تھا۔ اس سے چند میل پرے روس کا علاقہ ترکمانستان تھا۔

جموں اور کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی جو بعد میں تقسیم کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ لداخ میں زیادہ بدھ مذہب کے ماننے والے ہیں۔ اگرچہ ریاست میں اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف یہ شکایات آرہی تھیں کہ حکومت اور فوج میں ہندوؤں کو زیادہ نوکریاں ملی ہوئی ہیں۔ ان نا انصافیوں کے ردعمل کے طور پر 1932 میں شیخ عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی تاکہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔

مہاراجہ کے خلاف کئی دفعہ احتجاج ہوا اور شیخ عبداللہ کو متعدد بار گرفتار بھی کیا گیا۔ شیخ عبداللہ نے 1946 میں مہاراجہ کی حکمرانی کے خلاف ایک تحریک شروع کی جس کا نام تھا: Quit Kashmir اس پر شیخ کو جیل میں ڈال دیا گیا؛ تاہم اس وقت تک شیخ عبداللہ وادی کے لوگوں کی بڑی تعداد کی ہمدردیاں لینے میں کامیاب ہو چکے تھے۔

جب تین جون کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کو تقسیم کرنے کا اعلان کیا تو اس کے ذہن میں کشمیر کی ریاست کا مستقبل بھی تھا۔ ایک ایسی ریاست جو رقبے کے حساب سے ہندوستان کی چند بڑی ریاستوں میں سے ایک تھی اور اوپر سے اکثریتی آبادی مسلمان تھی لیکن اس کا حکمران ایک ہندو راجہ تھا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن مہاراجہ ہری سنگھ کو اچھی طرح جانتا تھا۔ راجہ ہری سنگھ دراصل 1922 میں برطانیہ سے آئے پرنس آف ویلز کے دورے میں ان کا سٹاف افسر تھا۔ نوجوان لارڈ ماؤنٹ بیٹن اپنے کزن کے ہمراہ ہندوستان کے اس دورے پر تھا۔ اس نے کشمیر میں راجہ ہری سنگھ کے ساتھ پولو تک کھیلی ہوئی تھی۔ اس لیے پرانی جان پہچان کے نام پر مہاراجہ نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے لگنے کے بعد دو تین دفعہ کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔

اب وقت آ گیا تھا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کشمیر کا دورہ کرے تاکہ اس ریاست کا معاملہ حل ہو کہ کشمیری کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں، ہندوستان یا پاکستان۔ یوں جولائی 1947 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن سری نگر میں مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ بیٹھا تھا تاکہ اسے سمجھا سکے کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں کسی ایک کے ساتھ مل جائے۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملنا چاہیے کیونکہ اس کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔

یہ وہ علاقہ تھا جس کے بارے چوہدری رحمت علی نے بات کی تھی تو کہا تھا کہ Pakistan میں K کشمیر کے لیے ہے۔ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے یہ دلیل مان لی تھی کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ جانا چاہیے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ ہری سنگھ کو بتایا کہ اس کی کانگریس راہنما سردار پٹیل سے بات ہوگئی تھی اور یہ فطری بات بھی تھی کہ کشمیر کے راجے کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہیے اور ہندوستان کی مستقبل کی حکومت راجہ کے اس فیصلے کو سراہے گی اور کوئی اعتراض نہیں کرے گی۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پریشان حال مہاراجہ کو بتایا کہ سری نگر آنے سے پہلے اس کی سردار پٹیل سے اس معاملے پر بڑی تفصیل سے بات ہوئی، اور سردار پٹیل نے ضمانت دی تھی کہ اگر مہاراجہ ہندوستان کی بجائے پاکستان کے ساتھ مل جائے تو وہ اس فیصلے پر اعتراض نہیں کریں گے۔ ایک تو آبادی مسلمان تھی اور پھر جغرافیائی طور پر بھی اس ریاست کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہیے۔ راجہ کی آنکھوں میں پریشانی اور غیریقینی کی صورتحال دیکھ کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن فوراً بولا: ہاں میری جناح سے بھی بات ہوئی ہے، انہوں نے یہی گارنٹی دی ہے کہ اگر کشمیر کا راجہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرلے تو وہ اسے پوری عزت و احترام دیں گے چاہے وہ مسلمان ریاست کاہندومہاراجہ ہی ہے۔

مہاراجہ ہری سنگھ کو اب کچھ ذاتی خطرات لاحق ہوچکے تھے۔ جو اندیشے اس کے ذہن میں تھے ان سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاعلم تھا۔ مہاراجہ کو پتا تھا کہ ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد اسے جلد یا بدیر یہ گدی چھوڑنی پڑے گی۔ نیشنل کانفرنس پہلے ہی اس کے خلاف تحریک شروع کرچکی تھی اور اس پر سنگین الزام تھا کہ وہ فوج اور حکومت میں مسلمانوں کو اکثریت میں ہوتے ہوئے نوکریاں نہیں دیتا۔ شیخ عبداللہ کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر اس کے خلاف کرچکا تھا اور کشمیر چھوڑ دو کی تحریک چل رہی تھی۔

پاکستان سے خطرہ تھا کہ کچھ دنوں بعد اسے اٹھا کر پھینک دیا جائے گا۔ خطرہ ہندوستان سے بھی تھا کہ نہرو جیسا سوشلسٹ لیڈر، جو اس سے نفرت کرتا تھا، بھارت کے ساتھ الحاق کی شکل میں کب اسے برداشت کرے گا اور وہ اپنی ریاست کھو بیٹھے گا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو اس وقت ایک طرف کھائی تو دوسری طرف دریا نظر آرہا تھا۔ ریاست بچانے کا کوئی طریقہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد مہاراجہ نے آخرکار اپنے ہونٹ کھولے۔ لارڈماؤنٹ بیٹن بے چینی سے اس کے جواب کا انتظار کررہا تھا۔ مہاراجہ بولا: میں کسی صورت پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کروں گا۔

ماؤنٹ بیٹن بولا: اگرچہ فیصلہ تم نے کرنا ہے لیکن میرا خیال ہے تم سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کرو کیونکہ تمہاری ریاست کی نوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔ لیکن اگر تم پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کرنا چاہتے تو پھر دوسرا آپشن یہ ہے کہ تم ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلو۔ اگر تمہارا یہ فیصلہ ہے تو پھر میں ایک انفنٹری ڈویژن کشمیر بھیج دیتا ہوں تاکہ وہ تمہاری سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔

مہاراجہ کا ذہن کسی اور طرف مصروف تھا۔ وہ کافی دیر تک لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دیکھتا رہا جیسے سوچ رہا ہو کہ کیا اسے یہ بات لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے کرنی چاہیے اور اگر اس نے کر دی تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا کیا ردعمل ہوگا۔ وہ کتنی حمایت کرے گا کیونکہ اس کی حمایت کے بغیر مہاراجہ اپنے اس پلان پر عمل نہیں کرسکتا تھا جو اس کے ذہن میں پل رہا تھا اور اب تک اس نے کسی سے شیئر نہیں کیا تھا۔

آخر مہاراجہ ہری سنگھ نے گلا صاف کیا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے مدعا رکھ دیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن مہاراجہ کی بات سن کر غصے سے سرخ ہو گیا اور بولا ”ہرگز نہیں، یہ تو بالکل نہیں ہو سکتا“۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے منہ سے انکار سن کر مہاراجہ کا رنگ فق ہوگیا جبکہ وائسرائے ہند مہاراجہ کی بات سن کر پہلے ہی لال پیلا ہورہا تھا۔ (جاری)
بشکریہ دنیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •