برطانیہ میں مقیم برِصغیر کے باشندے کشمیر کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

ہیزل شیرنگ اور فرانچسکا جیلٹ - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مظاہرہ

Reuters
مسئلہ کشمیر برطانیہ میں موجود جنوبی ایشیائی باشندوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے؟

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں جمعرات کو انڈیا کے ہائی کمیشن کے باہر ہزاروں مظاہرین جمع تھے۔ نم آنکھیں لیے ایک خاتون سمیت یہ مظاہرین ‘ہم کیا چاہتے؟ آزادی!’ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔

انڈیا کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے باعث شہر کا یہ مرکزی حصہ مفلوج ہو کر رہ گیا تھا اور مظاہرین نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر آ کر انڈیا کے اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔

ساتھ ہی قدرے کم تعداد میں کچھ انڈین نژاد برطانوی انڈیا کا یوم آزادی منا رہے تھے۔ کسی ناخوش گوار واقعہ سے بچنے کے لیے پولیس پوری تیاری کے ساتھ وہاں موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کی ویڈیوز، تصاویر دلی میں نہ دکھائی جا سکیں

کشمیری رہنما شاہ فیصل کو حراست میں لے لیا گیا

کشمیر کے تنازع پر لندن میں مودی حکومت کے خلاف مظاہرہ

مگر مظاہرین کے لیے یہ یوم سیاہ تھا اور کئی لوگوں نے بازوں پر کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور انڈیا کے زیر انتظام کمشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور وہاں کی صورتحال کو اجاگر کرنے کے لیے ہاتھوں میں کتبے اٹھائے ہوئے تھے۔

لندن میں یہ مظاہرہ اسی دن کیا گیا جب دلی میں انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کا انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو اس کی نیم خود مختار حیثیت سے محروم کرنے کا فیصلہ کشمیر کو اس کی ‘کھوئی ہوئی عظمت’ لوٹا دے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مسئلہِ کشمیر جنوبی ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے؟

رزاق راج

BBC
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے لیڈز کے لیکچرار رزاق راج نے کہا کہ وہ انڈین مصنوعات نہیں خریدیں گے

34 سالہ رِز علی اس مظاہرے میں شرکت کے لیے پیٹربرا سے تین گھنٹے کا سفر کر کے پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ان کے آبا و اجداد کی جائے پیدائش ہے اور وہاں کی موجودہ صورتحال پر وہ برہم ہیں۔ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں انھوں نے کہا: ’وہ دوسرے ہٹلر ہیں۔‘

البتہ یہ مسئلہ ان کی روزمرّہ زندگی یا برطانیہ میں مقیم انڈینز سے ان کے تعلقات کو متاثر نہیں کرتا۔ رز علی کے مطابق ‘ہم مسلمان ہیں اور ہمارا مذہب ہمیں پُرامن رہنا سکھاتا ہے۔’

لیڈز کے ایک لیکچرار رزاق راج نے، جن کے والدین پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم ہیں، بتایا کہ اس سیاسی بحران سے ان کی روزمرہ زندگی پر تو کوئی خاص اثر نہیں پڑا لیکن وہ اب انڈین مصنوعات نہیں خریدیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہم سب ایشیائی ہیں اور ہمارا ورثہ بھی ایشیائی ہے۔ انڈین میرے لیے اتنے ہی عزیز ہیں جتنا کوئی اور۔ بات انڈینز کی نہیں بلکہ انڈین حکومت ہے۔’

‘ان کے اور بھی مسائل ہیں’

لیکن ان مظاہروں سے دور جنوبی ایشیا کے چند فلاحی کارکنوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ سماجی ناانصافی کا مقابلہ کرنے سے برادریوں کو ان کے عقیدے اور نسل سے بالاتر ہو کر متحد کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سے نئی نسل کے منقسم ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

30 سالہ نیلم ہیرا کا تعلق ہڈرزفیلڈ سے ہے اور وہ انڈین سکھ ہیں۔ مگر بقول ان کے یہ کہ وہ نسلی طور پر کون ہیں، سوشل میڈیا کے علاوہ کہیں اور موضوعِ گفتگو نہیں بنی۔ ’سوشل میڈیا پر شاید اس لیے کیونکہ وہاں لوگوں کے لیے بحث کرنا آسان ہے۔‘

وہ ‘سسٹرز’ نامی ایک فلاحی ادارے کی بانی ہیں جو تولیدی صحت کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرتی ہے اور وہ خود جنوبی ایشیائی برادریوں کی خواتین کے ساتھ کام کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں

’انڈیا معاملہ وہاں لے گیا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہے‘

’خدشہ ہے کہ انڈیا نیا قتل عام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے‘

محمد حنیف کا کالم: کشمیر مانگو گے۔۔۔

انھوں نے کہا کہ ‘جب صحت یا امراض تفریق نہیں کرتے تو پھر ہم کیوں کریں؟’

نیلم ہیرا نے مزید بتایا کہ ان کے ساتھ ماضی میں پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی کے بارے میں کبھی بھی کسی میٹنگ یا آن لائن کمیونٹی میں بات نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین کے پاس فکر کرنے کے لیے اس سے زیادہ اہم باتیں ہیں۔ یہ خواتین مسلسل تکلیف میں ہوتی ہیں ’اس لیے انھیں یہ خیال نہیں آتا کہ کشمیر کے بارے میں بحث کریں یا کسی کی سائیڈ لیں۔ یہ ان کے لیے اہم نہیں ہوتا، ان کے مسائل اور ہیں۔’

’نوجوان نسل شناخت پر غور کرتی ہے‘

خاقان قریشی برمنگھم میں جنسی حقوق یا ایل جی بی ٹی کے حقوق کے علمبردار ہیں۔ اور وہ ہیرا کی طرح یہ سمجھتے ہیں کہ مشترکہ اہداف مختلف مذاہب اور قومیت والوں کو متحد کرتے ہیں۔

49 سالہ خاقان مختلف پسِ منظر سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں اور ایک رضاکارانہ طور پر چلائے جانے والے ادارے ’برمنگھم ایشین ایل جی بی ٹی‘ کا حصہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘سب کوشش کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کو ساتھ لے کر چلیں۔ یوں ہم ایک دوسرے سے جڑ رہتے ہیں۔ اگر میں کسی بھی شخص سے رابطہ کرتا ہوں تو میں اس کے عقیدے اور مذہب کو نہیں دیکھتا۔ یہ ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔‘

مگر انھیں تشویش ہے کہ نوجوان نسل کے معاملے میں ہر بار ایسا نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگ اپنی شناخت کے بارے میں زیادہ احتیاط برتنے لگے ہیں، خاص طور پر جب بات سیاسی شناخت کی ہو۔‘

’میں اور میرے ساتھی مل کر ان چیزوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جو سب میں مشترک ہیں۔ ہم دوستی کرنے پر زور دیتے ہیں، چاہے کوئی پاکستانی ہو، مسلمان، ہندو، سکھ یا انڈین ہو۔‘

’میرا خیال ہے کہ نوجوان نسل شناخت کو زیادہ اہمیت دیتی ہے اور علیحدہ رہنا پسند کرتی ہے۔‘

’مذہب کو سیاسی رنگ دینا‘

پراگنا پٹیل نے ساؤتھ ہال سسٹرز نامی سیکولر تنظیم قائم کی ہے جس میں سیاہ فام اور اقلیتی خواتین شامل ہیں۔ یہ لوگ صنفی بنیادوں پر تشدد کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں لوگوں کو عدم مساوات کے خلاف متحد کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’لیکن ہمارے سینٹر کے باہر تو اس کے الٹ ہورہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگ مزید تقسیم ہو رہے ہیں اور دوسرے اقلیتی گروہوں کو تو چھوڑیے جنوبی ایشیائی باشندوں میں یکجہتی پیدا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہب کو سیاسی رنگ دیا جانے لگا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ نوجوانوں میں ایسی سوچ کے پروان چڑھنے کے زیادہ امکانات ہیں ’جس میں وہ یہ سوچیں کہ وہ دوسروں کے مخالف ہیں‘ کیونکہ انھیں تقسیمِ ہند سے متعلق کچھ یاد نہیں جب سنہ 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے پر ہندوستان کو دو ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور لگ بھگ 10 لاکھ افراد ہلاک جبکہ لاکھوں نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

ان کے مطابق یہ نوجوان دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی میں بڑے ہوئے ہیں۔

کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟

اگست کے اوائل میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر یہاں فوجی دستوں کی تعیناتی کی گئی جبکہ پورا علاقہ مفلوج ہوگیا۔

آرٹیکل 370 ایک ایسی آئینی شق تھی جس کے ذریعے جموں اور کشمیر کی ریاست کو خصوصی حیثیت حاصل تھی جس کے تحت وہاں امور خارجہ، دفاع اور مواصلات کے علاوہ تمام معاملات پر قانون سازی ہو سکتی تھی۔

مواصلات کے تمام ذرائع معطل، مقامی رہنما نظر بند اور ہزاروں فوجی وادی میں تعینات کر دیے گئے تھے۔

اقوامِ متحدہ نے ان بندشوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمل حقوق انسانی کی صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

پچھلے ہفتے بی بی سی نے وادی میں پولیس کو سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین پر فائرنگ کرتے اور آنسو گیس پھینکتے فلم بند کیا تھا۔ انڈیا کی حکومت نے پہلے ایسے کسی مظاہرے کی خبر کو مسترد کیا تھا البتہ منگل کو انڈیا کی وزارتِ داخلہ نے ایک اعلامیے میں اس مظاہرے کی تصدیق کی تھی۔

کشمیر پر انڈیا اور پاکستان دونوں کا دعویٰ ہے اور اس کے بٹے ہوئے حصے ہی دونوں کے زیرِ انتظام ہیں۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند شورش ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے باعث پچھلی تین دہائیوں میں ہزاروں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ انڈیا، پاکستان پر شر پسندوں کی معاونت کا الزام لگاتا آیا ہے لیکن پاکستان ان الزامات کو رد کرتا رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے لیے صرف اخلاقی اور سفارتی مدد فراہم کرتا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے متنازع فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے لیے ایک ’نئے دور‘ کا آغاز ہے۔ اس فیصلے پر انڈیا میں متعدد لوگوں نے جشن بھی منایا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10758 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp