کشمیر کہانی۔ ۔ ۔ ( 9 )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماؤنٹ بیٹن نے جناح صاحب اور لیاقت علی خان کے ساتھ اپنا پورا پلان شیئر کیا کہ اب جبکہ سی آئی ڈی پنجاب کے پاس پکی انفارمیشن ہے کہ جناح صاحب کو کراچی میں چودہ اگست کو قتل کرنے کا پلان بن چکا ہے تو اس کو ناکام کیسے بنانا ہے۔ ماؤنٹ بیٹن کا خیال تھا کہ بہتر ہوگا ’وہ فوری طور پر پنجاب کے گورنر سر ایوین جینکنز سے سفارشات مانگیں کہ ان کے خیال میں اس سازش کو ناکام کیسے بنایا جا سکتا ہے اور ساتھ ساتھ ان دو عہدیداروں سے بھی مشورہ مانگیں‘ جنہیں پہلے نامزد کر دیا گیا تھا کہ وہ پندرہ اگست کے بعد دونوں ملکوں کے معاملات کو دیکھیں گے۔

اس پر لیاقت علی خان اپنی کرسی سے اچھلے اور احتجاجی لہجے میں بولے : آپ قائد اعظم کو قتل کرنا چاہتے ہیں؟ لارڈ ماؤنٹ بیٹن بولا: مسٹر خان اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں جناح صاحب کو قتل کرانا چاہتا ہوں تو پھر اس کار میں ’مَیں بھی جناح صاحب کے ساتھ بیٹھ کر جاؤں گا اور ان کے ساتھ میں بھی قتل ہونا پسند کروں گا‘ لیکن میں ہندوستان کے ساٹھ لاکھ سکھوں کے لیڈروں کو فوری طور پر جیل میں نہیں ڈالوں گا ’جب تک مجھے ان دونوں گورنرز کی رائے نہیں مل جاتی یا وہ دونوں اس بات سے اتفاق نہیں کر لیتے کہ ہاں مجھے سکھوں کے لیڈروں کو جیل میں ڈال دینا چاہیے۔

وائسرائے کی سٹڈی میں گفتگو ختم ہو چکی تھی۔ وائسرائے نے جناح صاحب ’لیاقت علی خان اور سی آئی ڈی کے لاہور سے گئے افسر کو رخصت کر دیا تھا۔ سی آئی ڈی افسر اپنی سکیورٹی بارے خاصی احتیاط کر رہا تھا کیونکہ اسے یہی ہدایات دی گئی تھیں کہ کسی قیمت پر کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے کہ وہ دہلی میں کیا کر رہا تھا‘ لہٰذا اسی رات ٹرین سے وہ واپس لاہور کے لیے روانہ ہو گیا۔ سی آئی ڈی افسر کے پاس ایک بریف کیس تھا جو ٹشو پیپرز سے بھرا ہوا تھا تاکہ کوئی مسئلہ ہو تو دھوکا دیا جا سکے کہ اس میں تو کوئی اہم چیز نہیں تھی۔

جبکہ اس کے پاس ماؤنٹ بیٹن کا گورنر پنجاب کے نام لکھا ہوا ایک خط تھا ’جو اس افسر نے اپنے انڈرپینٹ میں چھپایا ہوا تھا۔ لاہور پہنچ کر وہ فوری گورنر سے ملنا چاہ رہا تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ اس وقت گورنر پنجاب لاہور میں فلیٹیز ہوٹل میں موجود ہیں۔ سی آئی ڈی افسر سیدھا وہیں پہنچا اور وائسرائے کا وہ خط گورنر پنجاب کے حوالے کیا۔ گورنر ایوین کے بارے میں مشہور تھا کہ ان سے بہتر پنجاب کے بارے میں اور کوئی انگریز نہیں جانتا تھا۔ گورنر پنجاب نے وہیں وائسرائے ہند کا خط پڑھا‘ مایوسی کی حالت میں اپنے کندھے اچکائے اور ایک گہری سانس بھر کر بولا: لیکن ہم کر ہی کیا سکتے ہیں ’ہم انہیں کیسے روک سکتے ہیں؟

تیرہ اگست کا دن آ چکا تھا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کراچی جانے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ جہاز دہلی ایئرپورٹ پر تیار کھڑا تھا۔ سی آئی ڈی نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پھر بتایا کہ جناح صاحب کو قتل کرنے کے منصوبے میں تبدیلی نہیں آئی تھی۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن ایک افسر کے ساتھ جہاز کے پیچھے چلا گیا تاکہ کوئی اور گفتگو نہ سن سکے۔ افسر بولا: ساری انٹیلی جنس رپورٹس کنفرم کر رہی ہیں کہ پلان موجود ہے ’کل چودہ اگست جمعرات کی صبح ایک یا زیادہ بم اس اوپن کار پر پھینکے جانے کا منصوبہ ہے جس میں بیٹھ کر جناح صاحب نے کراچی کی سڑکوں سے گزرنا ہے۔

افسر نے بتایا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود وہ اب تک آر ایس ایس کے ان لوگوں کو ٹریس کرنے میں ناکام رہے تھے‘ جنہیں کراچی جناح صاحب کو قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن کو پتا نہ چلا کہ کب اس کی بیوی بھی اسے جہاز کے ایک کونے میں ایک افسر سے باتیں کرتے دیکھ کر خاموشی سے پیچھے آ گئی ہے۔ ماؤنٹ بیٹن کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ لیڈی ماؤنٹ بیٹن نے اس افسر کے وہ آخری الفاظ سن لیے اور بولی: میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی۔ ماؤنٹ بیٹن سختی سے بولا: ہرگز نہیں ’کوئی وجہ نہیں بنتی کہ ہم دونوں ایک ساتھ بم سے اڑا دیے جائیں۔

میاں بیوی کی باتوں سے بے پروا سی آئی ڈی کا افسر ماؤنٹ بیٹن کو بریفنگ دیتا رہا۔ وہ بولا: ہماری جناح صاحب سے بات ہوئی ہے ’وہ ہر صورت کھلی کار میں ہی جانا چاہتے ہیں‘ ہمارے پاس آپ دونوں کی حفاظت کے محدود طریقے ہیں ’اس تباہی سے بچنے کا ایک ہی حل ہے‘ آپ کراچی پہنچ کر جناح صاحب کو قائل کریں کہ وہ کل کا جلوس کینسل کر دیں۔

ماؤنٹ بیٹن کراچی پہنچ کر جناح صاحب کو جلوس کی شکل میں جانے سے روکنے میں اسی طرح ناکام رہا جیسے وہ انہیں پاکستان بنانے سے نہیں روک سکا تھا۔ جناح صاحب اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو جناح صاحب سے یہ شکایت تھی کہ وہ ضدی مزاج کے ہیں ’جس بات پر ڈٹ جاتے ہیں‘ ایک انچ پیچھے نہیں ہٹتے۔ جناح صاحب کے مقابلے میں کانگریس کی قیادت ماؤنٹ بیٹن کے خیال میں بہت لچک دکھاتی تھی۔

اب بھی کراچی پہنچ کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے جناح صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن اسے ناکامی ہوئی۔ روانگی کا وقت آیا تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی ٹینس تھا۔ اسے علم نہیں تھا کہ وہ بھی جناح صاحب کے ساتھ بم سے اڑا تو نہیں دیا جائے گا۔ جناح صاحب کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے کراچی کی سڑکوں پر کھلی کار میں جانے سے انکار کر دیا اور اپنا پلان کینسل کر دیا یا پھر کار کو تیزی سے وہاں سے گزار کر لے جایا گیا جب لوگ ان کا ہر طرف انتظار کر رہے ہوں تو یہ بزدلی سمجھی جائے گی۔

اگر جناح صاحب اتنے ہی بزدل ہوتے تو ایک نئے ملک کا مطالبہ ہی نہ کرتے۔

یہ سب باتیں سن کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کیا کہ وہ بھی جناح صاحب کے ساتھ اسی اوپن کار میں بیٹھے گا اور کراچی کی انہی سڑکوں پر سے گزرے گا۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ جناح صاحب کے لیے اس نے خود کو بھی حملہ آوروں کے سامنے ایکسپوز کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جن کی ضد کو وہ ناپسند کرتا تھا۔

جناح صاحب اور ماؤنٹ بیٹن ایک ساتھ باہر نکلے تو ایک بلیک اوپن رولس رائس انہیں کراچی کی سڑکوں پر سے لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ ایک لمحے کے لیے ماؤنٹ بیٹن نے لیٖٖڈی وائسرائے کو دیکھا جو دوسری گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس کی گاڑی کے ڈرائیور کو سخت ہدایات دی تھیں کہ وہ اس کی کار کے پیچھے جڑا رہے۔ جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن گاڑی میں بیٹھ رہا تھا تو ایک لمحے کے لیے اسے اپنے خاندان کے تمام لوگوں کے انجام یاد آئے جو اسی طرح تشدد آمیز انداز میں مارے گئے تھے۔ تو کیا اس کا انجام بھی انہی جیسا ہونے والا تھا؟ حالات پھر خاندان کے ایک اور ممبر کو اس نازک لمحے پر لے ہی آئے تھے؟

اسے اپنے گریٹ انکل زار الیگزینڈ دوم یاد آئے ’جنہیں تیرہ فروری 1881 کو سینٹ پیٹرز برگ میں عوام کے ایک ہجوم نے مار ڈالا تھا۔ گرینڈ ڈیوک رشتہ دار یاد آیا جسے اسی انداز میں 1904 میں ایک تخریب کار نے بم سے اڑا دیا تھا۔ کزن اینا یاد آئی جو سپین اپنی شادی کے لیے جا رہی تھی کہ ایک ہجوم نے اس کی بگھی پر حملہ کر دیا تھا اور کوچوانوں کی لاشیں بگھی کے اندر اس کے شادی کے ڈریس پر آن گری تھیں اور ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔

تو کیا اس کی خاندانی تاریخ میں وہ سب کچھ آج دوبارہ ہونے والا تھا؟ آج اس شاہی خاندان کے وائسرائے کی قسمت میں بھی کراچی کی سڑکوں پر کسی آر ایس ایس کے کارکن کے ہاتھوں مارا جانا لکھا تھا؟

جونہی وہ گاڑی میں بیٹھے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی آنکھیں جناح صاحب سے جا ملیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا لیکن بولے کچھ نہیں۔ گاڑی چل پڑی تھی۔ ہر طرف انسان ہی انسان نظر آرہے تھے جن کے چہروں پر خوشی پھیلی ہوئی تھی۔ اس تین کلومیٹر سفر کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی دستے وہاں تعینات کیے گیے تھے ’جن کی پشت مجمع کی طرف تھی۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سوچا‘ اگر قاتل نے بم پھینکنے کے لیے باہر نکالا تو یہ فوجی دستے اسے کیسے روکیں گے کیونکہ مجمع کی طرف تو ان کی پشت تھی۔ وہ تو مجمع کو دیکھ ہی نہیں رہے تھے۔

جوں جوں دھیرے دھیرے اوپن گاڑی چل رہی تھی لارڈ ماؤنٹ لاشعوری طور پر مجمع کو ہی بڑی بے چینی سے دیکھ رہا تھا جیسے وہ اس قاتل کے چہرے کو تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہو جس نے ابھی گرینیڈ سے جناح صاحب اور اس پر حملہ کرنا تھا۔ (جاری)
بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •