جاوید شاہین کی دو نظمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

28 اکتوبر 1932 کو امرتسر میں پیدا ہونے والے جاوید شاہین پچاس کی دہائی میں نوجوان غزل گو کے طور پر سامنے آئے۔ زمانے کی ہوا سے ہٹ کر فارسی آمیز رنگ اختیار کیا۔ ظاہر ہے یہ سکہ ان دنوں چلنے والا نہیں تھا۔ ایک طرف فیض کا ڈنکا بج رہا تھا‘ خیال آگے طرف دیکھتا ہوا اور لہجہ مڑ مڑ کے رفتگی سے آنکھ ملاتا ہوا۔ دوسری طرف ناصر کا طوطی بول رہا تھا ‘ تمکنت اور وارفتگی میر سی مگر اپنے عصر کی خوشبو لئے ہوئے۔ لیکن جاوید نے شعر کو سخن کا پردہ بنائے رکھا۔ حرف سے وابستگی قائم رکھی۔ تجربے سے خوفزدہ نہیں ہوئے نہ زندگی میں اور نہ ہنر میں۔ خاص بنے اور عام رہے۔ غیر ملکی شاعری کے تراجم سے ہوتے ہوئے نثری نظم تک آئے۔ جہاں مزاحمتی رجحان نے انہیں ایک مخصوص رنگ عطا کیا۔ نثری نظم میں ایسی کاٹ جو گہرے سیاسی ایقان‘ جرات فکر اور فنی ریاضت کے سنگم بنا ممکن نہیں ہو سکتی۔ جاوید شاہین نے ساٹھ برس تک شعر کی راس رچائی۔ ایسے بھی تھے کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات۔ 23 اکتوبر 2008 کو لاہور میں وفات پائی۔

جاوید شاہین کے شعری مجموعے، زخم مسلسل کی ہری شاخ، صبح سے ملاقات، محراب میں آنکھیں، ڈر سے نکلنے والا دن اور نیکیوں سے خالی شہر کے عنوان سے شائع ہوئے۔ 1993 میں عشق تمام کے نام سے پانچ شعری مجموعوں کی کلیات بھی شائع ہوئی۔ جاوید شاہین نے “مرے ماہ و سال” کے عنوان سے اپنی خود نوشت بھی لکھی۔

آئیے جاوید شاہین کی دو نثری نظمیں پڑھتے ہیں۔

ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے

تمام آباد جگہوں کے درمیان

ابھی تھوڑی سی جگہ خالی ہے

میرے دل کے اندر

میںنے کتنی قیمت ادا کی ہے

اسے خالی رکھنے کی

اس سے پہلے کہ نفرت یہاں قبضہ کر لے

کوئی جھوٹ اپنا حق ثابت کر دے

تم ایک پودا لگا دو

کسی زندہ لمحے کا

کسی روشن لفظ کا

میں وعدہ کرتا ہوں

اسے مرنے نہیں دوں گا

آنے والے زمانے کے لئے

اپنے زمانے کا

کفارہ ادا کرنے کے لئے

٭٭٭ ٭٭٭

میرے حصے کی جگہ

میں جہاں کھڑا ہوں

بس اتنی جگہ میری ہے

گرم ہواﺅں سے

میرا بدن چھلنی ہے

سرد پانیوں سے

میرے پاﺅں شل ہیں

میں جہاں کھڑا ہوں

وہیں پر کھڑا رہوں گا

کہ دنیا میں سچ کو

بس اتنی ہی جگہ ملتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جاوید شاہین کی دیگر تحریریں
جاوید شاہین کی دیگر تحریریں