جھوٹ کے کچرے سے سچ کی تلاش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کا کوئی بھی ملک، قوم یا معاشرہ ایسا نہیں ہے جو مختلف الخیال لوگوں پر مشتمل نہ ہو یعنی جہاں بھی کم از کم ایک سے زیادہ افراد ملکر رہتے ہیں وہاں ہر بات پر نہ سہی لیکن کسی نہ کسی بات ان کا آپس میں اتفاق نہ کرنا ایک عام سی بات ہے۔ بعض اوقات ایک ہی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے دو مختلف لوگوں کے پاس دو مختلف حل موجود ہوتے ہیں۔ اگر ایک ملک یا معاشرے کے سارے لوگ ایک ہی سوچ کے تابع ہو جائیں تو پھر معاشرے میں جھگڑے اور فساد کی جڑ ختم ہوجاتی ہے اور بظاہر تو یہ بات دیکھنے میں بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے کہ سارے لوگ ایک ہی رائے پر متفق ہو جائیں اور کسی بات پر جھگڑا ہی نہ ہو لیکن ایسی صورتحال میں اس بات کا کیا ثبوت ہو گا کہ سب لوگ ایک اچھی اور درست بات پر متفق ہوئے ہیں یا کہ ایک نقصان دہ بات پر اکٹھے ہوگئے ہیں۔

لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایسی صورتحال پیدا ہونا تقریباً ناممکن ہے کہ سارے لوگ ایک جیسے خیالات کے مالک ہو ں اور لوگوں کا مختلف الخیال ہونا ہمارے لیے اللہ کی دی گئی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے کیونکہ اس طرح ہم ایک ہی کام کو سرانجام دینے کے لئے موجود مختلف تجاویز کو زیر غور لا کر کوشش کرتے ہیں کہ سب سے بہتر طریقہ منتخب کرلیا جائے۔

یہی بات جب ملکی سطح پر کی جائے تو ملک کو چونکہ انفرادی طور پر نہیں چلایا جاسکتا اس کے لئے ایک متفقہ طور پر وضع کردہ ایک نظام موجود ہے جس کے تحت ہی ملک کا سارا انتظام چلایا جاسکتا ہے جس میں ہمارے آئین اور قانون کے تحت انتخابات میں جیتنے والی سیاسی پارٹی اپنی حکومت قائم کرتی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے پارٹی عمومی طور پر اسمبلی میں اپوزیشن کی نشتیں سنبھالتی ہے اور یوں اگلے پانچ سال کے لئے کام شروع ہو جاتا ہے۔

اب اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ ساری پارٹیاں ایک دوسرے کے منڈیٹ کا احترام کریں اور ملک اور عوام کی فلاح وبہبود کے لئے ملکر کام کریں اور اپوزیشن حکومت پر مثبت تنقید کے ذریعے عوام کے حقوق کا دفاع کرے اور حکومت کے درست اقدامات کی اگر تعریف نہیں بھی کرتی تو کم از کم بے جا تنقید نہ کرے اور قانون سازی میں اس کی مدد کرے تاکہ ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کے کام رکنے نہ پائیں اورجمہوریت بھی پھیلتی پھولتی رہے۔

اب اسے ہماری بدقسمتی کہیں، نا اہلی سمجھیں یا کوئی بھی نام دیں مگر اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ کبھی کسی بھی حکومت میں ایسا ماحول ہمیں دیکھنے کو نہیں ملا کہ جسے دیکھ کر سکون محسوس ہوا ہو یا حکومت اور اپوزیشن نے ملکر کوئی ایسا تیر مارا ہو کہ جس سے ملک کے سارے عوام کے دل باغ باغ ہو گئے ہوں۔ یہاں تو طریقہ کار یہ ہے کہ انتخابات میں فتح یاب ہونے کے بعد ایک دوسرے کو فتح کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اسمبلی کے دونوں اطراف سے باندھ باندھ کر جھوٹ بولنے کی مشق پورے پانچ سال ہی جاری رہتی ہے۔

نئی حکومت اپنا وقت پورا کرنے تک سارے برے کاموں کی ذمہ دار اپنے سے پہلی حکومت کو گردانتی ہے جبکہ اپوزیشن سارا زور اس بات پر لگاتی ہے کہ اس نئی حکومت نے تو ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور اپوزیشن کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ الغرض حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کو مشغلہ اسمبلی کے ہر اجلاس میں جاری رکھتے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں فکرمندی والی بات تو یہ ہے کہ ہماری اسمبلی ایسی مقدس جگہ ہے جہاں پر ممبران کو سو خون معاف ہیں۔ آپ کسی کو غدارکہیں، چور کہیں، ڈاکو کہیں، شیم شیم کے نعرے لگائیں یا کسی ممبر کی عزت اتار کے اس کے ہاتھ میں دے دیں کوئی آپ کا بال تک بیکا نہیں کرسکتا زیادہ سے زیادہ غیر پارلیمانی الفاظ اسمبلی کی کارروائی سے حذف کرائے جا سکتے ہیں اور بس۔

ہماری ساری بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب سارے ہی ایک دوسرے کو چور، کرپٹ، غدار کہتے ہیں تو اس بے چاری عوام کو کیسے پتہ چلے گا کہ کیا جھوٹ ہے اور کیا سچ ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہر پارٹی عوام سے ووٹ کر اسمبلی میں گئی ہے تو پاکستان کی مجموعی آبادی اگر 22 کروڑ مان لی جائے تو اب ساری آبادی نے کسی ایک جماعت کو تو ووٹ نہیں دیا ہے لیکن جس پارٹی کا لیڈر بولتا ہے کہتا ہے ملک کی بائیس کروڑ آبادی ان کے ساتھ ہے اب بندہ پوچھے کہ جب بائیس کروڑ آپ کے ساتھ ہے، بائیس کروٹ ہی آپ کے ہر مخالف کے ساتھ ہے تو اس طرح تو ہماری آبادی چین سے بھی بڑھ نہیں جائے گی۔

اس کے علاوہ بائیس کروڑ تو ووٹر بھی نہیں ہے یہاں تو جیتنے والی پارٹی کوئی ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ اور ہارنے والی بڑی پارٹ بھی کروڑ کے لگ بھگ ووٹ لے لیتی ہے تو پھر اکثریت کہاں ہے اور کس کے پاس ہے لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور ایک جھوٹ کے لئے سو جھوٹ اور بولنے پڑتے ہیں لیکن اس بات کی کس کو پرواہ ہے ہماری بلا سے۔

ابھی اگست کا مہینہ گزر رہا ہے وہ اگست جس میں آج سے تہتر سال قبل ہمارے آبا و اجداد نے قائداعظم کی بے لوث قیادت میں یہ سونے جیسا ملک ہمارے لیے انگریزوں سے حاصل کیا اور پھر کہیں جا کر ہم اس آزاد فضا میں سانس لینے کے قابل ہوئے۔ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت بھی قیام پاکستان کے وقت دیکھنے میں آئی جب ہندوستان میں شامل ہونے والے علاقوں کے مسلمانوں نے پاک سر زمین کی طرف ہجرت کی اور ان میں لاکھوں نے تن، من، دھن اور عزتوں کی قربانی دی تب کہیں ہمیں یہ وطن نصیب ہوا۔

اگر آپ نے ابھی تک ان حالات و واقعات کو نہیں پڑھا جو اس وقت مسلمانوں کو پیش آئے تھے تو ایسے واقعات کی کتابوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں ان میں ایک جو مجھے آج کل پڑھنے کا موقع ملا وہ عمیر محمود صدیقی کی کتاب ”ہم نے پاکستان کیسے بنایا“ ہے جس میں مسلمانان ہند کے خون سے لکھی گئی ہجرت آزادی کی سچی داستانیں بیان کی گئی ہیں۔ آپ یہ کتاب پڑھیں تو کتاب کا ہر ہر صفحہ اور لفظ آپ کے جسم میں خوف کی لہر دوڑا دے گا اور شاید تب آپ سب کو احساس ہو کہ اس اللہ کی دی ہوئی نعمت جیسے ملک کے ساتھ ہم کیا کررہے ہیں اور اپنے بزرگوں کی دی گئی قربانیوں کا ہم کیا صلہ دے رہے ہیں۔

کاش ہمارے ملک میں کوئی حکومت یا عدالت کوئی ایسا قانون بنا دے کہ کوئی کسی پر بغیر ثبوت کے کوئی الزام نہیں لگا سکتا اور جو لگائے گا اس کو اسی عبرتناک سزا دے جائے کہ دوسرے بھی اس کو دیکھ کر عبرت پکڑیں۔ اور عدالت ایسے مقدمات کا دنوں اور گھنٹوں میں فیصلہ کرے تاکہ اس عمل قبیح کی بیخ کنی کی جاسکے۔ ملک کو جو بھی مسئلہ درپیش ہوتا ہے حکومت الگ اور اپوزیشن الگ مورچہ زن ہو کر بیان بازی شروع کردیتی ہے۔ کسی شہر یا محلے میں کوئی کام ہوتا ہے تو اس کے کریڈت کا تمغہ موجودہ اور پرانا ایم این اے یا ایم پی اے دونوں اپنے کندھے پر سجانا چاہتے ہیں۔

اور اگر کوئی نقصان والا کام ہوتا ہے تو دونوں اس کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتے ہیں۔ اگر کوئی سربراہ بیرون ملک جاتا ہے تو حکومت ایسے دعوے کرتی ہے کہ جیسے اس ملک کو ہم نے فتح کرلیا ہے جبکہ دوسری طرف اپوزیشن یہ ثابت کرنے میں لگی رہتی ہے کہ ہمارے حکمران ملک بیچ کر آگئے ہیں۔ حکومت بیرونی قرضہ لینے کو اپنی فتح اور عوام کے لئے مبارک تصور کرتی ہے جبکہ اپوزیشن اس قرض کے بدلے قومی مفادات کوغیر ممالک پاس گروی رکھنے کے مترادف سمجھتی ہے۔ اور پھر ان دونوں کے نظریات حکومت میں اور اپوزیشن میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جس پر مرضی الزام لگا دیا جس کو مرضی سچ کا دیوتا قرار دے دیا۔

یہ سب کیا ہے جھوٹ در جھوٹ در جھوٹ۔ اور اگر اس سارے جھوٹ میں تھوڑا کہیں سچ ہو بھی سہی تو وہ جھوٹ کے کچرے سے بھرے ڈھیر میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔ جب بھی کوئی کمیشن بنتا ہے، جب بھی کوئی انکوائری ہوتی ہے اور جب بھی سچ جھوٹ کو الگ کرنا ہوتا ہے سارا معاملہ گڈ مڈ ہوجاتا ہے اور سچ جھوٹ کے کچرے میں دفن ہو جاتا ہے۔ اول تو ایسا انتظام اور اہتمام کیا جائے کہ سچ دفن ہی نہ ہونے پائے یا پھر پاکستان کے عوام کی ایسی ٹریننگ کی جائے کہ اسے جھوٹ کے تہہ در تہہ کچرے کے ڈھیر سے سچ تلاش کرنے کا فن آجائے۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ پاکستان زندہ باد

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد مشتاق، سعودی عرب کی دیگر تحریریں
محمد مشتاق، سعودی عرب کی دیگر تحریریں