ایرانی آئیل ٹینکر: یونان نے ٹینکر کو اپنی بندرگاہ سے دور کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایرانی ٹینکر

Getty Images
تہران نے کہا تھا کہ اس نے اپنے جہاز ’ گریس ون‘ کا نام تبدیل کر کے ایڈریان ڈاریا رکھ دیا ہے

یونان نے حال ہی میں جبرالٹر میں روکے جانے والے ایرانی بحری ٹینکر کو وہاں سے شام جانے کے سلسلے میں کسی قسم کی مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یونان کے نائب وزیر خارجہ مٹلڈیس واروِسٹسیوٹس کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ’اس بحری جہاز کو شام کی جانب جانے کے سلسلے میں مدد کرنے کا تیار‘ نہیں ہے۔

یونان کی جانب سے اس بات کا اعلان امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی اس دھمکی کے بعد ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جو بھی ملک ایرانی ٹینکر کی مدد کرے گا، امریکہ اس پر بھی پابندیاں لگا دے گا۔

یاد رہے کہ ’ایڈریان ڈاریا-1 ‘ نامی ایرانی ٹینکر اتوار کو جبرالٹر سے روانہ ہوا تھا اور پروگرام کے مطابق اس کی اگلی منزل یوان کی بندرگاہ ’کالاماٹا‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ضبط ایرانی آئل ٹینکر جبرالٹر سے روانہ ہو گیا

امریکہ نے ایرانی آئل ٹینکر ضبط کرنے کا وارنٹ جاری کر دیا

برطانیہ نے ایرانی ٹینکر چھوڑنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی

یاد رہے کہ جبرالٹر کی مذکورہ بندرگاہ برطانیہ کے پاس ہے اور وہاں پر موجود برطانوی حکام نے اس ٹینکر کو جولائی میں سمندر میں روک لیا تھا۔

اور پھر جمعہ کو ایران کی جانب سے آخری وقت پر ایک درخواست کے جواب میں جبرالٹر کے حکام نے ایرانی ٹینکر پر لگائی گئی پابندی اٹھا لی تھی اور ٹینکر وہاں سے مشرق کی جانب بحیرہ روم میں روانہ ہو گیا تھا۔

جولائی میں ٹینکر کے ضبط کیے جانے کے بعد ایران نے کہا تھا کہ وہ اپنی بحری افواج کو ٹینکر کے ساتھ ساتھ چلنے کے لیے بھیج سکتا ہے۔

بحری جہاز

EPA

اس وقت ایڈریان ڈاریا الجزائر کی ایک بندرگاہ پر کھڑا ہے۔

یونان کا موقف کیا ہے؟

یونان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ امریکہ نے ان کے ملک پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایرانی ٹینکر کی کسی طرح مدد نہ کرے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے یونان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قطع نظر امریکی دباؤ کے، یونان کی کسی بندرگاہ پر اتنے بڑے ٹینکر کو لنگر انداز ہونے کی سہولت ہی موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ایڈرین دریا-1 پر 20 لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر ٹینکر نے یونانی پانیوں میں ٹھہرنے کے لیے لنگر گرا دیے تو یونان کیا کرے گا، تو نائب وزیر خارجہ مٹلڈیس واروِسٹسیوٹس کا کہنا تھا کہ ’اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔‘

امریکہ سمجھتا ہے کہ اس ٹینکر کا تعلق پاسدارانِ انقلاب سے ہے، جسے امریکہ پہلے ہی ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

اس سلسے میں امریکی وزیر خارجہ مسٹر پومپیو نے کہا تھا کہ ’ہم انہیں (پاسدارانِ انقلاب) کو ان وسائل سے محروم کرنا چاہتے ہیں جن کے زور پر وہ دہستگردی کی خوفناک مہم چلاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ جو بھی ملک اس (ٹینکر) کو ہاتھ لگاتا ہے، اس کی مدد کرتا ہے، یا اسے اپنی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دیتا ہے، وہ امریکہ کی جانب سے پابدنیوں کا خطرہ مول لے گا۔‘

مسٹر پومپیو کا مزید کہانا تھا کہ اس ٹینکر کو شام کی جانب جانے سے روکنے کے لیے امریکہ ہر وہ اقدام کرے گا جو وہ کر سکتا ہے۔

بحری جہاز جا کہاں رہا ہے؟

دستاویزات کے مطابق ایڈریان ڈاریا-1 کی منزل یونان کی کالاماٹا کی بندرگاہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تیل بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے والی ایک ویب سائیٹ ’ٹینکر ٹریکر ڈاٹ کام‘ کے ایک بانی سمیر مدانی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایرانی ٹینکر اصل میں نہر سویز کے راستے واپس ایران جانا چاہتا ہے۔

’چونکہ اس ٹینکر پر بہت زیادہ تیل لدا ہوا ہے، اس لیے اب انہیں تقریباً دس لاک بیرل تیل (اس ٹینکر سے اتار کر ) کسی دوسرے بحری جاز پر چڑھانا پڑے گا۔ زیادہ توقع یہی کہ کہ اِس جہاز پر بھی ایرانی پرچم لگا ہوگا۔ اگر اس ٹینکر کو شام جانا بھی ہےتو اس کے لیے بھی یہ ٹینکر بہت بھاری ہے۔‘

یاد رہے کہ یہ ٹینکر سیدھا بحیرہ روم کی جانب نہیں گیا بلکہ اب تک یہ تقریباً پورے افریقہ کا چکر کاٹ چکا ہے، حالانہ بحیرہ روم کی جانب جانے کے لیے نہر سویز کا راستہ بہت کم ثابت ہوتا۔

اس معاملے کا پس منظر کیا ہے؟

ایرانی حکام کی جانب سے آئل ٹینکر کو شام نہ بھیجنے کی یقین دہانی کے بعد جبرالٹر کے حکام نے جمعرات کے روز ایرانی بحری جہاز کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس سے پہلے تہران نے کہا تھا کہ وہ اس جہاز کے لیے، جس کا نام گریس ون سے تبدیل کر کے ایڈریان ڈاریا رکھ دیا گیا،نیوی کا حفاظتی دستہ بھیجنے کے لیے تیار تھا۔

اس جہاز کو اس کے 29 رکنی عملے سمیت چار جولائی کو جبرالٹر میں برطانیہ کے رائل میرینز کی مدد سے تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

اس اقدام سے برطانیہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدگی اختیار کر گئے اور گزشتہ ہفتوں میں ایران نے برطانیہ کے پرچم والے ایک ٹینکر سٹینا امپیرو کو آبنائے ہرمز میں پکڑ لیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10737 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp