عمران حکومت کی کارکردگی: تصویر کہانی سے توسیع کہانی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

18 اگست 2018 ء کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم کا حلف لیا تھا۔ وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد انھوں نے قوم سے وعدہ کیا کہ سو دن بعد کارکردگی یعنی ملک کو درست سمت پر ڈالنے کے لئے کیے گئے اقدامات سے سب کو آگاہ کریں گے۔ سو روزہ کارکردگی کو قوم کے سامنے رکھنے کے لئے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس دن یہ تقریب منعقد ہونی تھی اس سے ایک، دودن قبل ”سوروزہ کارکردگی“ سے متعلق تمام قومی اخبارات میں کواٹر پیج کا اشتہار شائع ہوا۔

جس پر لکھا تھا ”ہم مصروف تھے“ جس دن قومی اخبارات میں یہ اشتہارشائع ہوا، اسی روز قوم کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ”سو روزہ کارکردگی“ کے صفحات بھی اشتہار والے صفحہ کی طرح بنجرزمین والا ہی ہوگا اور جیسے ہی ہم نئے پاکستان کے لئے ورق الٹائیں گے آگے پرانے پاکستان کے گھمبیر مسائل ہنستے مسکراتے ہمارے استقبال کے لئے کھڑے ہوں گے۔ جن لوگوں نے اس دن اخبارات کے صفحات نئے پاکستان دیکھنے کے لئے الٹائیں ہوں گے وہ اس کی شہادت ضرور دیں گے کہ جس صفحہ پر اشتہار شائع ہوا تھا اس کی دوسری طرف پرانے پاکستان سے بھی زیادہ خوف ناک منظر تھا۔ جس نے یہ منظر نہیں دیکھا تووہ آج بھی یہ تجربہ کرسکتے ہیں۔

18 اگست 2019 ء کو بھی ”ایک سالہ کارکردگی“ رپورٹ پیش کرنے کا بہت شورتھا۔ اس بار تقریب کا انعقاد وزیراعظم ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ اس تقریب سے قبل اخبارات میں کوئی اشتہار شائع نہیں ہوا۔ ”ایک سالہ کارکردگی“ رپورٹ کی تقریب کے بعد جو تصویراخبارات میں شائع ہوئی وہ موجودہ دور حکمرانی کا مکمل نوحہ ہے۔ وفاقی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان ڈائس کے پیچھے کھڑی تقریب سے مخاطب ہے جبکہ سیٹج کی کرسیوں پر تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی، وزیر اعظم کے معاون برائے سیاسی امور نعیم الحق اور دیگرغیرمنتخب افراد براجمان ہیں۔

یہ کل چھ غیرمنتخب لوگ ہیں جو وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں ملک کے منتخب وفاقی وزراء کی کارکردگی کو قوم کے سامنے پیش کررہے تھے۔ اخبارات میں چھپی یہ تصویرحکمران وقت سے سوال کر رہی ہے کہ وہ نمائندے جنھوں نے گزشتہ انتخابات میں آپ ہی کے پارٹی ٹکٹ پرحصہ لیا، عوام نے ووٹ دے کران کومنتخب کیا، ان میں کوئی ایک بھی اس قابل نہیں تھا کہ ”ایک سالہ کارکردگی“ کا جائزہ قوم کے سامنے پیش کرتا۔ صدیوں قبل ایک پیغامبر نے اپنی قوم سے یہی پوچھا تھا کہ ”الیس منکم رجل رشید۔“ آج پوری پاکستانی قوم وزیراعظم عمران خان سے پوچھ رہی ہے کہ منتخب ارکان میں کوئی ”رجل رشید“ نہیں؟ یہ تو تھی تصویر کی کہانی کہ جس نے کم از کم حکمران جماعت کی حد تک یہ بات درست ثابت کردی کہ پاکستان تحریک انصاف قحط الرجال سیاسی جماعت ہے۔

اب آتے ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی طرف۔ وزیراعظم کے دفتر سے جواعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں لکھا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کی گئی ہے۔ وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ علاقائی امن وامان کی صورت حال کا تقا ضایہی تھا۔ اب آپ کو میں لے چلتا ہوں پڑوسی ملک افغانستان جہاں نو سال سے جنگ جاری تھی۔ امریکا اس جنگ کا سرخیل ہے۔ اس وقت کے میدان جنگ یعنی افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوج کے سربراہ جنرل سٹینلے میکرسٹل نے صدربارک اوبامہ، نائب صدرجو بائیڈن، کابل میں امریکی سفیر کارل ایکنبری اور دیگر حکومتی عہدے داروں کے خلاف جون 2010 ء میں رولنگ سٹون (Rolling Stone) نامی جریدے کو انٹرویودیا۔

جنرل میکرسٹل نے اس متنازعہ بیان پرمعذرت بھی کی لیکن معذرت کے باوجود امریکی صدرباراک اوبامہ نے ان کو برطرف کیا۔ جنرل میکرسٹل کو برطرف کرنے کے بعد امریکی صدربارک اوبامہ نے بیان جاری کیا کہ ”افراد نہیں اداروں کو طاقت ور بنانا ہے، افغانستان میں کمانڈر تبدیل کیا ہے پالیسی نہیں۔“ اگر امریکی صدراس وقت افغانستان میں جاری جنگی صورت حال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے تو علاقائی اور عالمی امن وامان کی صورت حال کا تقاضا تھا کہ وہ درگزر سے کام لیتے لیکن انھوں نے ”فرد کی پالیسی یا ڈاکٹرائن“ کی بجائے ”ادارے کی پالیسی یا ڈاکٹرائن“ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا۔ افغانستان میں اس وقت جنگ عروج پرتھی، اوبامہ کا فیصلہ حماقت تھا، لیکن اس فیصلے نے ثابت کیا کہ افراد نے اپنی اننگز کھیل کر جانا ہوتا ہے جبکہ ادارے قائم رہتے ہیں۔

امریکا کی مثالوں کو چھوڑ دیتے ہیں اس لئے کہ کوئی یہ توجیہ پیش کرسکتا ہے کہ وہاں جمہوریت مضبوط اورادارے طاقت ورہیں۔ لیکن کمزور جمہوریت اورناتواں اداروں والے ملک اسی پاکستان میں بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ نومبر 2007 ء میں جنرل اشفاق پرویز کیانی آرمی چیف مقرر کیے گئے۔ انھوں نے ملاکنڈ ڈویژن (سوات آپریشن) میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن کیا۔ اس وقت کے صدرآصف علی زرداری نے 2010 ء میں ان کی مدت ملازمت میں دوسری ٹرم کے لئے توسیع کی، لیکن نومبر 2013 ء میں جب وہ فارغ الخدمت ہورہے تھے تواس وقت ملک میں امن وامان کی صورت حال یہ تھی کہ روزانہ تین، چار دھماکے معمول تھے۔ کراچی کی صورت حال انتہائی خراب تھی۔ دہشت گردی اور دہشت گرد عروج کی حدوں سے بھی باہرنکل گئے تھے۔ داخلی سلامتی اور علاقائی امن وامان کی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ناگزیر تھا کہ جنرل کیانی کو مزید توسیع دی جائے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ بالکل وہی حالات تھے جس طرح کے حالات جنرل میکرسٹل کوہٹاتے وقت تھے۔

جنرل اشفاق پرویزکیانی کے بعد نومبر 2013 ء میں جنرل راحیل شریف فوج کے سربراہ مقرر کیے گئے۔ انھوں نے وزیر ستان میں دہشت گردوں کے خلاف ”ضرب عضب“ کے نام سے کامیاب فوجی آپریشن کیا۔ ملک کی داخلی امن وامان، سرحدوں کی تشویش ناک صورت حال اور علاقی سلامتی کو اگر مد نظر رکھ کر فیصلہ کر لیا جاتا تو مدت ملازمت میں توسیع ان کا حق تھا۔ لیکن اس وقت کی حکومت نے فرد کی بجائے ادارے کوترجیح دی اور نومبر 2016 ء میں ان کی جگہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان سنبھالی۔ کمانڈ سنبھالنے کے بعد انھوں نے پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن ”ردالفساد“ کا آغاز کیا۔ رواں برس نومبر میں ان کی مدت ملازمت ختم ہونے والی ہے، لیکن وزیراعظم عمران خان نے تین مہینے قبل ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبر دی ہے۔

خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے باوجود پاکستان نے ابھی تک تین سپہ سالار تبدیل کیے ہیں۔ اگر دوران جنگ اور علاقائی امن وامان کی صورت حال کے پیش نظرآرمی چیف کو تبدیل نہیں کرنا تو پھر اس جنگ میں شراکت داری کا آغاز کرنے والے جنرل پرویزمشرف کوابھی تک آرمی چیف ہوناچاہیے تھا۔ اگر وہ نہیں تو پھر جنرل کیانی کو ابھی تک سربراہ ہونا چاہیے تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •