ایف اے ٹی ایف: انڈین میڈیا کی جانب سے ’بلیک لسٹ‘ کیے جانے کی خبر کی پاکستانی تردید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی وزارت خزانہ کی جانب سے انڈین میڈیا پر پاکستان کے خلاف چلنے والی ان خبروں کی تردید آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فنانشل ٹاسک فورس کی علاقائی تنظیم ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستانی رپورٹ کو ’میوچیول ایوالیوایشن پروسیجر‘ میں شامل کر لیا ہے اور یہ پہلے سے وضع کیے ہوئے طریقہ کار کے تحت ہوا ہے جس کے مطابق پاکستان کو ہر سہ ماہی طور پر اپنی کارکردگی کا بتانا ہوا ہے۔

پریس ریلیز میں ایک بار پھر انڈین میڈیا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو غلط قرار دیا گیا اور ان کی تردید کی گئی۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

’پاکستان میں بہتری، پر خطرے کی پوری سمجھ نہیں‘

پاکستان کا نام ’گرے لسٹ‘ میں، دفتر خارجہ کی تصدیق

اے پی جی کے اجلاس میں کیا ہوا؟

آسٹریلیا کے دار الحکومت کینبرا میں جاری ایشیا پیسیفیک گروپ کے پانچ روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اے پی جی کے اجلاس میں پاکستان سمیت چھ ممالک کی کارکردگی کا مفصل جائزہ لیا گیا تھا اور اس کی تفصیلات اکتوبر 2019 میں شائع کی جائیں گی۔

اس اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی بات چیت ہوئی اور شدت پسند گروہوں کو مالی امداد روکنے کے لیے نئے طریقہ کار وضع کرنے کے بارے میں گفتگو ہوئی۔

انڈین میڈیا پر کیا خبر چلی؟

انڈین میڈیا میں مختلف ذرائع نے خبر دی تھی کہ کینبرا میں ہونے والے اجلاس میں اے پی جی نے پاکستانی رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے لازمی قواعد کی دی ہوئی فہرست پوری نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ جون میں ایف اے ٹی ایف کے ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ اکتوبر تک ایکشن پلان مکمل کر لے ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور ممکنہ طور پر انھیں بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان

AFP

’انڈیا فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے‘

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پانچ اگست سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ماحول کشیدہ ہے اور آج وہاں ‘خون خرابہ ہونے کا خدشہ ہے۔’

وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے چند روز قبل بھی مسئلہ کشمیر پر بند کمرے میں بات چیت کی تھی اور وہ ایک بار پھر انھی کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ اگر آج انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی کسی بھی نوعیت کا واقعہ پیش آتا ہے تو وہ پاکستان پر انگلیاں اٹھا سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈین میڈیا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے اور خود ‘فالس فلیگ’ یعنی دھوکہ دینے کے لیے خود سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی ناساز واقعہ کرا کر پاکستان پر انگلیاں اٹھا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی وزیر خارجہ نے کشمیر کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کو ایک اور خط لکھا جس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر روشنی ڈالی اور اس پر پاکستانی خدشات کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان نے پانچ اگست سے انڈیا کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور انڈیا کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اعلان کیا ہوا ہے جب کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بارے میں بند کمرے میں اجلاس بھی کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10787 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp