افغانستان میں انڈیا اپنی فوج کیوں نہیں بھیجتا؟

راکیش سود - سابق سفارتکار اور فیلو، آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی فوجی

Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے متنازع ٹویٹس اور بیانات کے ذریعے تنازعات کو ہوا دینے کی عادت رہی ہے۔ اس کی حالیہ مثال 21 اگست کو ان کا وہ بیان ہے جس میں انھوں نے انڈیا اور پاکستان کا نام ایسے ممالک کے طور پر لیا ہے جو دہشت گردی کے خلاف مناسب اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔

چونکہ امریکہ طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے لہذا ٹرمپ نے یہ بیان دولت اسلامیہ (آئی ایس) اور خاص طور پر افغانستان کے تناظر میں دیا ہے۔

انھوں نے پہلے کہا کہ روس، ایران، عراق، افغانستان اور ترکی اپنی اپنی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

پھر انھوں نے کہا کہ ‘دیکھیے وہاں انڈیا بھی ہے لیکن وہ جدوجہد نہیں کررہا ہے۔ پاکستان پڑوس میں ہے وہ جدوجہد کر رہا ہے لیکن بہت کم ، بہت کم۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ امریکہ وہاں سے سات ہزار میل کے فاصلے پر واقع ہے۔’

انڈیا کا مو‎قف کیا رہا ہے؟

ٹرمپ نے یہ بیان اس وقت دیا جب طالبان سے مذاکرات کے بعد امریکی فوجیوں کے انخلا کے تناظر میں افغانستان میں دولت اسلامیہ کی موجودگی کے بارے میں ان سے سوالات پوچھے گئے۔

اس سے قبل 17 اگست کو دولت اسلامیہ نے کابل میں ایک شادی کی تقریب میں خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں 65 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس بیان میں ٹرمپ نے اپنی سہولت کے مطابق طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کے گرد پیچیدہ مقامی سیاست پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ افغان حکومت مسلسل شکایت کر رہی ہے کہ یہ گفتگو عام طور پر ان کی عدم موجودگی میں کی جاری ہے۔

تاہم امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے پاکستان خوش ہوگا کیونکہ پاکستان طالبان کا حامی رہا ہے اور وہ طویل عرصے سے طالبان کو علیحدگی پسند گروپوں کی بجائے ایک سیاسی کھلاڑی کے طور پر قبول کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب انڈیا نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ ‘افغان قیادت، افغانوں کے مالکانہ حقوق اور افغانوں کے کنٹرول’ کے صلح جو عمل کے ساتھ ہے۔ لہذا انڈیا نے امریکہ-طالبان مذاکرات پر بہت جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کیا۔

افغانستان میں غیرملکی فوج کی موجودگی گذشتہ 40 سال سے جاری ہے۔ اس کا آغاز سنہ 1979 میں سوویت یونین کی مداخلت کے بعد ہوا جو ایک دہائی تک جاری رہا۔

سنہ 1992 میں پاکستان کی حمایت سے مجاہدین افغانستان میں برسر اقتدار آئے لیکن مجاہدین رہنماؤں کے باہمی جھگڑے کی وجہ سے ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔

اس کے بعد پاکستان نے طالبان کی حمایت شروع کردی اور سنہ 1996 میں طالبان نے کابل پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ 11 ستمبر سنہ 2001 کو امریکہ کے ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد افغانستان میں امریکی مداخلت کو بھی 18 سال مکمل ہوچکے ہیں۔

طالبان

EPA

کیا امریکی فوج کے جانے سے امن قائم ہوگا؟

پہلے تو افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کا خیرمقدم کیا گیا لیکن بعد میں امریکی فوج کی مسلسل غلطیوں کی وجہ سے علاقے میں صورتحال بگڑتی گئی۔

آج افغانستان اپنے ملک میں غیر ملکی فوج کی موجودگی نہیں چاہتا ہے کیونکہ اس نے ملک میں امن کے بجائے تشدد اور عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے۔

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے ساتھ ہی اس ملک میں امریکی فوج کے خلاف جدوجہد ختم ہوجائے گی لیکن ملک میں جدوجہد کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے متعلق مقامی طور پر کوئی اتفاق رائے قائم نہیں ہو سکا ہے۔

دریں اثنا طالبان نے جنگ بندی سے انکار کرتے ہوئے افغان سکیورٹی فورسز اور افغان اہلکاروں کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ طالبان کو اقتدار میں کس طرح شامل کیا جائے گا کیونکہ طالبان انتخابی عمل کو مسترد کرتا ہے۔

بہر حال امریکہ اس غیر یقینی سے پریشان نہیں ہے کیونکہ اس کی ساری توجہ افغانستان سے نکلنے پر ہے۔ امریکی فوجیوں کے افغانستان چھوڑنے اور صورتحال کے مزید بگڑنے کے درمیان اگر تھوڑا بھی فاصلہ رہتا ہے تو امریکہ اپنی عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

امریکی فوجیوں کی محدود موجودگی

امریکی فوجیوں کی واپسی کا انحصار افغانستان کی صورتحال کے بجائے آئندہ سال امریکی صدر کے انتخابات پر ہوگا۔

یاد رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے بارے میں بیان دینے سے ایک روز قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی افغانستان میں محدود موجودگی کی جانب اشارہ کیا تھا۔

طویل عرصے سے یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی وزارت دفاع افغانستان کے پانچ چھ اڈوں پر اپنی فوج کی موجودگی برقرار رکھے گا جبکہ طالبان نے ابھی تک اس پر اتفاق نہیں کیا ہے۔

ایسی صورتحال میں امریکہ کو امید ہے کہ پاکستان اس تجویز کے متعلق طالبان کو تیار کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے۔ عوامی طور پر یہ توجیہ پیش کی جارہی ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی سے علاقے میں دولت اسلامیہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تقویت ملے گی۔

لیکن چین، ایران اور روس اسے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان ممالک کے مطابق امریکہ ان اڈوں کو ان کی نگرانی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

دوسری جانب افغانستان سے مکمل طور پر امریکی فوجوں کے انخلا کا مطلب پاکستان کے لیے یہ ہوگا کہ اس پورے خطے میں امریکہ کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔

جبکہ اگر امریکہ اپنے فوجیوں کی محدود موجودگی برقرار رکھے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستانی فوج پر ان کے فوجیوں کا انحصار بڑھ جائے گا اور پاکستان کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔

افغان فوج کی تربیت

EPA

افغانستان میں انڈیا نے کیا کیا؟

پچھلے 18 سالوں میں ہندوستان نے افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انڈیا نے افغانستان میں مجموعی طور پر تین شعبوں میں اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے۔ ان میں بنیادی سماجی ڈھانچے (سڑکیں، ڈیمز، بجلی پیدا کرنے والے مراکز، ٹی وی اسٹیشنوں، پارلیمنٹ کی عمارتوں)، انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد (سکولوں میں بچوں کے لیے کھانا، صحت کی سہولیات) اور ہنر کے فروغ کے لیے ہزاروں افغان نوجوانوں کو وظائف فراہم کے انسانی وسائل کا فروغ شامل ہے۔

انسانی وسائل کے فروغ کے تحت افغان فوجیوں اور افسروں کو ہندوستانی فوجی تنصیبات میں تربیت حاصل کرنے کی سہولت بھی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا نے ضرورت پڑنے پر افغان فوج کو ہیلی کاپٹر بھی فوری طور پر فراہم کرائے ہیں۔

اس سے قبل انڈیا نے افغانستان میں بین الاقوامی سلامتی فورسز میں اپنی فوج بھیجنے کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

افغانستان میں فوج بھیجنے کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستانی فوجیوں کو امریکی اور نیٹو کی کمان میں کام کرنا ہوتا جس سے پاکستان کے ساتھ بھی کشیدگی میں اضافہ ہوتا۔

اگر آج ہندوستانی فوج کے جوان افغانستان میں موجود ہوتے تو امن کی بجالی کے بجائے انڈیا کو افغانستان کی گروہ میں بٹی اندرونی سیاست میں گھسیٹا جاتا۔

افغان سماج کے ہر طبقے میں انڈیا کے لیے جو خیرسگالی کا جذہہ ہے وہ وہاں انڈیا کی فوج کی موجودگی سے نہیں ہوتا۔

انڈیا کے لیے یہ خیر خواہی اس لیے ہے کہ ہندوستان نے افغانستان کی اندرونی سیاست میں کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کی ہے اور اب تک وہ افغانستان کی ترقی میں قابل اعتماد شراکت دار ثابت ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10865 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp