جگر جلال کا اغوا، سندہ میں ڈاکو راج اور خفیہ ہاتھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شکارپور سندہ میں ڈاکوئوں کے ایک گروہ کے ہاتھوں پاپولر لوک فنکار جگر جلال اسکے بھتیجے اور سازندوں کے ہائی پروفائیل اغوا جن کی رہائی صرف ان کے سرپرست سرداروں اور وڈیروں کی توسط سے پولیس عملداروں کی ان سے مذاکرات کے ذریعے عمل میں آئی وہ بھی ایک پولیس افسر کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل کے بعد۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس تاثر کو پختہ کر دیا ہے کہ سندہ میں حکومت کی رٹ نہیں بلکہ تاریخی ڈاکو راج اپنے تسلسل میں قائم ہے۔

“پولیس کی بجائے آپ لوگ ہماری رہائی کے لئے سرداروں اور نوابوں سے بات چیت کریں۔ گرفتاریوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ ہمیں وہاں رکھا گیا ہے جہاں نہ پولیس پہنچ سکتی ہے نہ فوج” یہ تھے وہ جملے جو مغویوں نے ڈاکوئوں کے موبائیل فونوں سے اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کر کے کہے۔ اس سے قبل علاقے کے متعلقہ اور برجستہ پولیس افسر ڈی ایس پی رائو شفیع اللہ نے مقامی صحافیوں سے جب یہ کہا کہ وہ علاقے میں ڈاکوئوں پر اثررسوخ رکھنے والے قبائلی سردار تیغو خان تیغانی کو بھی مغویوں کی واپسی کے لئے گرفتار کرنے سے ذریع نہیں کرے گا تو اپنے اس بیان کے چوبیس گھنٹوں کے اندر وہ بظاہر ایک آپریشن میں ڈاکوئوں کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔

اس سے قبل اسی ضلع شکارپور میں ڈاکوئوں اور پولیس کے افسروں کے درمیان دوستانہ اور شکوہ شکایت سے بھری گفتگو کی   آڈیو ریکارڈنگ سندھی میڈیا پر نشر ہو چکی ہے۔ یہ سندہ میں کوئی تعجب خیز بات بھی نہیں کہ ڈاکوئوں اور ان کے یرغمالیوں پر پولیس کی پہنچ نہیں لیکن مقامی میڈیا کے ایک حصے کی ہے۔ یہ بھی ہوا ہے کہ چند سال قبل خیرپور میرس سکھر شاہراہ پر رات دیر گئے ایک مسافر بس کو روک کر مسافروں کے اغوا کے بعد اتفاق سے بس میں سوار ایک صحافی کی توسط سے پولیس اور ڈاکئوں کے درمیان مذاکرات کے بعد بس کے یرغمالی مسافروں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

صحافی بچارہ کیا بیچتا تھا؟ ماضی قریب و بعید تک سندہ میں حکومتوں اور فوجی خفیہ ایجینسیوں نے بھی ڈاکوئوں سے مذاکرات کر کے غیرملکی مغوی اور ملکی وی آئی پیز ڈاکوئوں کے چنگل سے رہا کرائے ہیں۔

انیس سو اکانوے میں کشمور کے قریب دریائے سندھ کی مہم پر نکلے جاپانی سیاحوں کے ڈاکو غلام رسول شیخ عرف کمانڈو کے ہاتھوں اغوا اور اسی سال جولائی میں دادو کے قریب چینی انجینئروں کے ڈاکو لائق چانڈیو کے ہاتھوں اغوا پر ڈاکوئوں کے ان گروہوں سے باقائدہ مذاکرات کر کے مغوی چھڑائے گئے۔

چینیوں کی رہائی پر باقاعدہ کیٹی جتوئی نامی کچے کے مقام پر سندہ کے وزیر اعلی کے نمائندے اور فوج کی خفیہ ایجنسی کے کرنل نے ڈاکوئوں کے ساتھ چانڈیو سردار احمد سلطان کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ چینیوں کو اغوا کرنے والے ڈاکوئوں کے سرغنہ لائق چانڈیو نے تب جیل میں قید سندھی قوم پرست رہنما قادر مگسی اور اس کے دیگر قید پارٹی ساتھیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ لائق چانڈیو سمیت کئی ڈاکو بھی قادر مگسی اور اس کے پارٹی ساتھیوں کے ساتھ شامل تھے جب انہوں نے تیس ستمبر 1988 کو حیدرآباد سندہ شہر میں قتل عام کیا تھا جس میں تین سو کے لگ بھگ عورتیں، مرد، بچے قتل کیے گئے تھے۔ قتل ہونیوالوں میں بڑی تعداد اردو بولنے والے افراد کی تھی۔

قادر مگسی کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھی قوم پرستوں کے علاوہ تیس ستمبر کے قتل عام میں ملوث ڈاکوئوں میں لائق چانڈیو، لطیف چانڈیو، حسن چانڈیو، دادن چانڈیو، نور جان مگسی، جانو آرائیں عرف جان محمد (جس کے بارے میں عام رائے تھی کہ سابق نگران وزیر اعظم غلام مصطفی جتوئی کی زمینوں پر منشی تھا)، بہاول ڈیشک اور صاحب خان فقط چند نام تھے۔

باخبر اور سنجیدہ حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ فوجی آمر ضیا الحق کی گیارہ سالہ شخصی آمریت اور زندگی کے خاتمے کے بعد اعلان شدہ انتخابات میں بینظیر بھٹو اور اس کی پارٹی کو روکنے اور سندہ میں خونی نسلی بنیاد پر سندھی ووٹ تقسیم کرنے کی غرض سے خفیہ ایجینسیوں اور ضیا کی باقیات نے تیس ستمبر کا قتل عام کروایا تھا۔

اسی مقصد کے لئے دیہی سندہ پر، جو ضیا مخالف تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) میں ملک کا سب سے اگلا مورچہ رہا تھا، ڈاکوئوں کے ٹولے مسلط کرنا بھی ریاستی اداروں کی باقاعدہ منصوبہ بندی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ سندھ اور سندھ کے لوگ پھر 1983 کی طرح سر نہ اٹھا سکیں اور نہ ہی اسلام آباد اور راولپنڈی کے در و دیوار ہلا دینے والی کوئی تحریک چلا سکیں۔ دیہی سندہ میں ڈاکو، شہروں میں مہاجر نسل پرست اور سندھی نسل پرست منظم و مسلح گروہ پیدا کئے گئے۔

یہی سندہ کا دادو تھا جہاں کے لوگوں نے ضیا الحق کے دورے کے دوران، اپنا لباس زیریں اٹھا کر احتجاج کیا تھا۔

اب یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہا کہ شمالی سندہ سے رحیم یارخان تک کے جنگلات میں ڈاکو طاہر نقاش بٹ نامی ایک شخص کو اپنا استاد کہتے تھے جو خود کو ایس ایس جی کا بھگوڑا کمانڈو بتاتا تھا۔ طاہر نقاش بٹ کا اصل نام علی گوہر تونیو تھا اور اسکا تعلق خیرپور میرس سے تھا۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی لڑکی کا رشتہ نہ ملنے پر فوج چھوڑ کر انتقام لینے کو ڈاکو بنا تھا۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بھگوڑا نہیں، بلکہ حاضر سروس کمانڈو تھا۔

انہی دنوں کے کچھ سینئر پولیس افسر آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح انہوں نے خطرناک ترین ڈاکو پکڑے جن کے قبضے سے نہ صرف خفیہ اداروں کے اہل کاروں کے وزٹنگ کارڈ برآمد ہوئے تھے بلکہ پولیس کے عہدے داروں کو خفیہ لیکن معلوم اداروں کے اعلیٰ حکام کی طرف سے ٹیلیفون بھی موصول ہوتے کہ انہوں نے جو ڈاکو پکڑے ہیں، وہ انہی کے “بندے“ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب بینظیر بھٹو کی پیجارو جیپ پر قوم پرست رہنما جی ایم سید کے گائوں سن کے قریب ڈاکوئوں کی طرف سے فائرنگ ہوئی تھی تو جی ایم سید نے کچھ دنوں بعد اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کی جیپ پر حملہ کرنے والے کھوسو قبیلے سے تعلق رکھنے والے ان کے ڈاکو مرید تھے۔ جنہوں نے ان کو بتایا تھا کہ بینظیر بھٹو کی پجیرو پر حملہ انہوں نے ایک ریاستی اہل کار کے کہنے پر کیا تھا۔ مجھے اس پر کوئی تعجب نہیں ہوا تھا اور نہ ہی مجھے اب تعجب ہوا ہے کہ جب ایک اور خطرناک ڈاکو منیر مصرانی نے حالیہ دنوں میں اپنی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی ہے جس میں اس نے سندہ کے وزیر اعلی، وزیر اعظم اور فوج سے اپیل کی ہے کہ اسے اپنے پچاس ساتھیوں سمیت اسے کشمیر آزاد کروانے کو فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کی اجازت دی جائے۔ اس نے کہا ہے کہ “اہل ایمان کو کفار” پر غلبہ پانے کے لئے کشمیر میں لڑنے کی اجازت دی جائے۔ سندہ کا ڈاکو منیر مصرانی اپنی وڈیو میں کہتا ہے۔ ”فجر کی نماز پڑہ کر نکلیں گے اور مغرب کی نماز ہندوستان میں پڑھیں گے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •