دکھیاری ماں کا دعائیہ خط: اپنا ٹائم آئے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے بیٹے ریحان!

اب جبکہ تم مجھ سے اتنی دور چلے گئے ہو جہاں سے لوٹ کر کوئی واپس نہیں آتا، تو مجھے وہ دن یاد آ رہا ہے جب تم اس دنیا میں آئے تھے۔  ہم غریبوں کے ہاں ہسپتالوں میں جانے کا تکلف تو ہوتا نہیں۔  تم نے کراچی کی کچی بستی کے اسی تاریک گھر میں آنکھ کھولی تھی۔ اس گھڑی مجھے یوں لگا تھا ’جیسے کچھ دیر کے لئے ہماری کٹیا میں روشنی سی ہو گئی ہے۔  اس دن ہم سب کتنے خوش تھے۔  جس جس نے تمہیں دیکھا یہی کہا ”بالکل اپنی ماں پر گیا ہے، وہی آنکھیں، وہی پیشانی“ میں یہ سن کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوتی تھی۔

 تم واقعی پھول جیسے لگتے تھے، بالکل مہکتے ہوئے گلاب کی طرح۔ ہم نے تمہارا نام ریحان اس لیے رکھا کہ ہمیں کسی نے بتایا تھا کہ ریحان خوشبو دار پودے کو کہتے ہیں۔  کچی بستی کے اس تعفن زدہ ماحول میں تم ہمارے لئے خوشبو کا جھونکا تھے۔  پیارے بیٹے!  جب تم ایک سال کے ہوئے تھے اور تم نے پہلا قدم اٹھایا تھا تو اس روز میں کتنی خوش تھی۔ ہر کسی کو بتاتی پھرتی تھی۔ پھر تم نے قدم قدم چلنا شروع کیا تو اپنی کامیابی پر خود ہی خوش ہوتے تھے اور جب کبھی لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے ہوئے گر جاتے تو میں بسم اللہ کہہ کر بھاگتی، تمہیں زمین سے اٹھاتی، ان ہاتھوں اور پاؤں کو چومتی جنہیں چوٹ لگی ہوتی۔

مجھے یاد ہے تم نہانے سے کتراتے تھے۔  پھر بھی میرا دل چاہتا تم باہر جاؤ تو تمہارا منہ ہاتھ دھلا ہوا ہو۔ یاد ہے جب میں صابن سے تمہارا چہرہ دھوتی تھی تو تم اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں زور سے بند کر لیتے تھے پھر جب میں پانی ڈال کر صابن کا جھاگ اتارتی تو تمہارا چہرہ سفید گلاب کی طرح کھل اٹھتا۔ پھر میں تمہارے بالوں میں تیل ڈال کر مالش کرتی تو تمہیں بالکل اچھا نہ لگتا‘ لیکن مجھے معلوم تھا تیل تو بالوں کی خوراک ہے تیل نہیں ڈالوں گی تو گھنے بال کیسے اگیں گے۔  یہی وجہ ہے ’تمہارے بال گھنے تھے، سیاہ اور چمکیلے۔  بالکل تمہاری سیاہ اور روشن آنکھوں کی طرح۔

پیارے بیٹے!  ہم غریبوں کی قسمت میں ہمیشہ کی مفلسی لکھی ہے۔  ہم پر سکولوں کے دروازے بھی نہیں کھلتے۔  دیکھو نا ہماری بستی کے کتنے ہی بچے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے سکول نہیں جا سکتے۔  جب میں بازار جاتی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو سکول کی وردی میں دیکھتی تو سوچتی تم بھی اگر سکول کی وردی میں ہوتے اور تمہارے گلے میں بھی سکول بیگ ہوتا تو تم کتنے پیارے لگتے۔  لیکن میرے دل کی حسرت دل ہی میں رہ جاتی۔ پھر تم چھوٹے موٹے کام کرنے لگے۔  اپنے والد کا ہاٹھ بٹانے لگے۔  میں اکثر سوچتی ’یہ تو میرے بیٹے کے کھیلنے کے دن تھے۔  بچپن کے زمانے کو سارے سنہری زمانہ کہتے ہیں لیکن میرا بیٹا میری آنکھوں کے سامنے مزدوری کی چکی میں پس رہا تھا اور میں کچھ نہ کر سکتی تھی۔

میرے بیٹے!  مجھے تم بہت عزیز تھے۔  مجھے تم سے کتنی محبت تھی میں کوشش بھی کروں تو تمہیں اس کا یقین نہیں دلا سکتی۔ کاش میں تمہیں بچپن کی خوشیاں دے سکتی، کاش میں تمہیں سکول بھیج سکتی۔ لیکن ان سب چیزوں کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

بیٹے!  کبھی کبھار جب تم اور سب گھر والے سو رہے ہوتے تو میں رات کی خاموشی میں اکثر سوچتی ’ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس دنیا کی ہر آسائش ہے اور کچھ کے پاس دو وقت کے کھانے کا سامان بھی نہیں۔  کچھ لوگوں کے بچے لمبی لمبی کاروں میں سکول آتے جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کے پاس اپنے بچوں کو پڑھانے کی فیسیں بھی نہیں۔  تمہارے ابا بتاتے ہیں‘ اب تو غریب لوگ بھی اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم سکول میں پڑھانا چاہتے ہیں ’لیکن بیٹے ہمارا تعلق تو معاشرے کے اس طبقے سے ہے جن کے پاس اردو میڈیم سکول میں بھیجنے کے بھی پیسے نہیں۔

میں اکثر سوچتی ’تمہارا دل میں بھی تو کھلونوں سے کھیلنے کو مچلتا ہو گا، تمہیں بھی تو اچھے اچھے کھانوں کی خوشبو اپنی طرف بلاتی ہو گی، تمہارا دل بھی تو چاہتا ہو گا کہ تم نئے فیشن کے کپڑے پہنو۔ لیکن تم نے کبھی ایسی فرمائش نہیں کی۔ شاید تمہیں اپنے ماں باپ کی مفلسی کا اندازہ تھا۔ میں جب کبھی حوصلہ ہار جاتی تو تم مجھے تسلی دیتے اور مجھے ایسے لگتا کہ میرا بیٹا میرا سہارا بنے گا وہ سب محرومیاں جن کا سامنا میں نے کیا ہے‘ میرا بیٹا اس کا صلہ بنے گا۔

پیارے بیٹے!  تم نے کبھی دوسرے بچوں کی طرح مجھ سے کسی چیز کی فرمائش نہیں کی۔ اس کے بر عکس تم چھوٹا موٹا کام کر کے گھر کے خرچے میں مدد دیتے تھے۔  اپنے کپڑے لنڈے کے بازار سے خود لے آتے۔  ایک بار تم گھر آئے تو نئی شرٹ پہنے ہوئے تھے۔  سچ پوچھو تو تم اس میں بہت پیارے لگ رہے تھے۔  پھر اچانک میں نے اپنی آنکھیں دوسری طرف کر لیں۔  کہتے ہیں بعض دفعہ اپنوں کی نظر بھی لگ جاتی ہے۔  میں نے تم سے پوچھا تھا ’یہ شرٹ کہاں سے لی ہے رے؟

 تم نے بتایا تھا، فٹ پاتھ پر ایک شخص کپڑے بیچ رہا تھا وہاں سے لی ہے۔  میں نے کہا: اس کے اوپر کیا لکھا ہے۔  تم نے کتنے فخر سے بتایا تھا کہ تمہیں دکان دار نے کہا تھا: اس کے اوپر لکھا ہے ”اپنا ٹائم آئے گا“۔  میں نے کہا: اس کا کیا مطلب ہے تو تم نے ہنس کرکہا تھا ”ماں تجھے تو کچھ پتہ نہیں ’یہ ایک فلم کے ہیرو کی کہانی ہے جس کو اس کے ارد گرد والے لوگ اہمیت نہیں دیتے تھے لیکن اسے یقین تھا کہ ایک دن اس کا وقت بھی آئے گا۔ وہ گلیوں میں گھومنے والا عام سا لڑکا تھا۔ پھر ایک دن اس کا ٹائم آ گیا اور سب اس کے آگے پیچھے پھرنے لگے“۔

تمہاری بات سن کر میں ڈر گئی۔ اندر سے سخت پریشان ہو گئی۔ اس لیے بیٹا کہ یہ باتیں تو فلموں میں ہوتی ہیں یہ شاعر لوگ ہمیں سبز باغ دکھاتے ہیں کہ ایک دن امیروں کے تخت گرائے جائیں گے اور خلقِ خدا راج کرے گی۔ میرے بیٹے میرا باپ غریب تھا اور اس کا باپ بھی غریب تھا۔ غریبوں کا وقت کبھی نہیں آئے گا۔ غریبوں کا وقت آ بھی کیسے سکتا ہے؟ جب ان پر تعلیم، صحت اور انصاف کے دروازے بند ہوں۔

لیکن میں تمہارے خواب توڑنا نہیں چاہتی تھی۔ اب قربانی والی عید آ رہی تھی۔ تم نے ایک قصاب کی دکان پر کام سیکھ لیا تھا۔ اس روز ہفتے کا دن تھا۔ تم نے مجھے بتایا تھا کہ ایک گھر پر تم نے مزدوری کی رقم لینے کے لئے جانا ہے۔  جب تم دیر تک نہیں آئے تو ہم پریشان ہو گئے اور پھر ہمارے سروں پر قیامت ٹوٹ پڑی جب تمہارا مردہ جسم گھر آیا۔ تمہارا سارا جسم زخموں سے چور تھا۔ تمہاری کلائی پر اس رسی کے نشان تھے جس سے تمہاری کلائی کو جکڑ کر لوہے کی گرل سے باندھ دیا گیا ’پھر تمہاری پینٹ اتاری گئی اور پھر سب نے تمہیں اپنے نشانے پر رکھ لیا تھا۔

 تم نے ہر چوٹ پر چیخ چیخ کر دہائی دی لیکن ظالموں کا دل نہ پسیجا۔ تم پر یہ الزام تھا کہ تم چوری کی غرض سے آئے تھے۔  اگر ایسا تھا بھی تو تمہیں پولیس کے حوالے کرتے لیکن معاشرے کے یہ زور آور لوگ خود ہی پولیس اور خود ہی عدالت ہوتے ہیں۔  وہ دو گھنٹے تک تمہارے نازک جسم کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔  یاد ہے جب تم بچپن میں گرتے تھے تو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں چومتی تھی۔ آج میں تمہارے جسم کے ہر حصے کو چوم رہی تھی جہاں نیل پڑے ہوئے تھے۔

پیارے بیٹے!  تم نے آخری روز بھی وہی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس پر لکھا تھا ”اپنا ٹائم آئے گا“ یہ شرٹ خون میں بھیگ چکی تھی۔ مجھے وہ دن یاد آ گیا جب تم نے پہلی بار یہ شرٹ پہن کر آئے تھے اور میں سہم گئی تھی کیوں کہ میں جانتی تھی غریبوں اور زور آوروں کی جنگ میں فتح زور آوروں کی ہوتی ہے۔  ہماری حیثیت تو کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ نہیں۔  اپنا ٹائم اس وقت آئے گا جب تعلیم، صحت اور انصاف کے دروازے امیروں کی طرح غریبوں کے لئے بھی کھلیں گے۔ اپنا ٹائم کب آئے گا؟

پیارے بیٹے!  تم آسمان کی بلندیوں سے اس کی راہ دیکھتے رہنا اور میں بھی بستی کی دھول اڑاتی گزرگاہوں پر اس کی منتظر رہوں گی۔

(بشکریہ: دنیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 133 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui