ماحول دوستی: درخت لگانے کا شوق جب جنون بن جائے

عفیفہ چوہان - صحافی، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

درخت

BBC
لاہور کی رہائشی مریم نے اپنے گھر میں 500 سے زیادہ پودے لگا رکھے ہیں

مجھے لگتا ہے کہ ہم اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو پودوں میں کیوں نہیں؟

مریم لاہور کی ایک کامیاب بزنس وومین ہیں۔ انھیں قدرت سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں سیکڑوں کی تعداد میں پودے اور درخت لگا رکھے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انھیں بچپن سے ہی پودے لگانے کا شوق تھا۔

مجھے قدرت سے بہت محبت ہے۔ مجھے شوق ہے کہ میرے آس پاس سبزہ ہو، ہر چیز سبز ہو۔

بچپن سے ہی ان کا مٹی اور پودوں سے تعلق رہا ہے۔ وہ اپنے سکول میں بھی پودے لگایا کرتی تھیں۔ پھر جیسے جیسے بڑھتی گئیں ان کا شوق بھی ان کے ساتھ بڑھتا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے؟

پودے خوشبو کے ذریعے باتیں کرتے ہیں!

جنگلات کی کٹائی سے کیا نقصان ہوتا ہے؟

کراچی میں گرمی کا علاج صرف ’درخت لگاؤ‘ مہم؟

درخت

BBC
‘یہاں پر آپ بیٹھیں، آپ کو یہاں پر پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں آتی ہیں’

گذشتہ چند سال سے یہ شوق ان کے لیے جنون کی کیفیت اختیار کر گیا ہے۔

مریم کے گھر میں کچھ جگہ خالی تھی جہاں انھوں نے پودے لگانا شروع کر دیے۔ اب تک وہ اپنے گھر میں 500 سے زیادہ پودے لگا چکی ہیں۔

اتنے درخت لگانے کے باوجود مریم کے دل میں مزید پودے اگانے کی حسرت رہتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب بھی وہ ان پودوں کے باغ میں بیٹھتی ہیں تو سوچتی ہیں کہ یہاں دو تین اور درخت ہونے چاہیے۔

یہاں پر آپ بیٹھیں، آپ کو یہاں پر پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں آتی ہیں۔ سارا دن اور شام یہاں بس یہی ہوتا ہے۔

درخت

BBC
مریم کے دل میں مزید پودے اگانے کی حسرت رہتی ہے

ماحول دوست

مریم چاہتی ہیں کہ وہ ماحولیاتی نظام کو مزید بہتر کریں۔ ان کا خیال ہے کہ صرف باتیں کرنے سے آپ اپنے ماحول کو بدل نہیں سکتے، اسکے لیے آپ کو محنت کرنا پڑتی ہے۔

ہمارے ملک میں درختوں کی ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ سے بچنے کا ایک اہم راستہ زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ چیونٹیوں سے لیکر انسان، پرندے اور جانور سب کی زندگیاں درختوں سے جڑی ہیں۔ وہ اسی تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے مزید درخت لگانا چاہتی ہیں۔

مریم کے گھر میں لگائے جانے والے تمام درخت دیسی ہیں۔ ان کے خیال میں دیسی درخت فضا میں موجود گیسز کو زیادہ جذب کرتے ہیں اور فضا کو صاف رکھتے ہیں۔ ان کے لگائے درختوں میں شہتوت، ششم، امرود د،فالسہ، کچنار، بوتل برش، جامن، لیموں، پیپل اور بہت سے دوسرے درخت شامل ہیں۔

ان کے مطابق لاہور کے موسم اور درجہ حرارت کے پیش نظر یہ درخت کافی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں باہر لایا کوئی درخت نہیں لگایا۔

انھوں نے بتایا کہ ان دنوں پیپل کے درخت آسانی سے نہیں ملتے۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنے گھر میں بیسیوں پیپل کے درخت لگائے ہیں۔

درخت

BBC
درختوں پر لگے پھلوں کی تلاش میں کئی قسم کے پرندے یہاں رونق لگاتے ہیں

پرندوں کا ٹھکانہ

مریم نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں بڑھتی آلودگی اور درختوں کی کٹائی نے پرندوں سے ان کا مسکن چھین لیا جس کی وجہ سے روایتی پرندے یہاں سے منہ موڑ گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ تمام پرندے جنھیں وہ اپنے بچپن میں دیکھتی تھیں اور شہر میں آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں، انھیں اب وہ اپنے درختوں پر دیکھتی ہیں۔

ان درختوں کی ٹھنڈک، گھنے سائے اور ان پر لگے پھلوں کی تلاش میں کئی قسم کے پرندے یہاں رونق لگاتے ہیں۔ خاص کر ان کے امرود کے درختوں پر دیسی طوطے آتے ہیں اور اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔

درخت

BBC
مریم نے پیپل اور گل مہر کے نایاب درخت بھی لگائے ہیں

کوئل، ہدہد، بلبل اور دوسرے پرندے بھی یہاں کے سبزے کو دیکھ کر زیادہ مائل ہونے لگے ہیں۔

یہاں کئی اقسام کی چڑیاں آتی ہیں جو کافی بڑی ہوتی ہیں اور منھ سے عجیب و غریب آواز نکالتی ہیں۔ اور ایک بہت ہی چھوٹا سا پرندہ آتا ہے۔ جو شاید ہم نے کتابوں یا انٹرنیٹ پر دیکھا ہے یا ٹی وی پر۔ اب میں خود یہاں انھیں دیکھتی ہوں اور حیران بھی ہوتی ہوں۔

اسی سبزے میں گل مہر کے درخت بھی لگائے گئے ہیں۔ مریم بتاتی ہیں کہ ان درختوں کی جانب کافی شہد کی مکھیاں راغب ہوتی ہیں اور وہ شہد بھی خوب بناتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ملائیشیا: ’ٹراپیکل‘ خطے میں 100 میٹر لمبا درخت دریافت

دنیا کے سات مقدس ترین پودے

کراچی میں گرمی کا علاج صرف ’درخت لگاؤ‘ مہم؟

درخت

BBC
امرود کے درختوں پر دیسی طوطے آتے ہیں اور اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں

””زیادہ درخت، زیادہ آکسیجن ””

مریم کے ایک دوست بلال رضا کارانہ طور پر شہر کے اندر اور باہر ہونے والی شجر کاری کی مہم میں پودے فراہم کرتے ہیں۔

بلال نے ہی مریم کے گھر میں پودوں کا انتظام کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مریم کے گھر میں دیسی درخت اگانے کی ایک خاص وجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں دیسی درخت زیادہ آکسیجن بناتے ہیں جو ہماری ضرورت کے عین مطابق ہیں۔

انھوں نے ایک اندازے کے مطابق بتایا کہ ایک درخت لگ بھگ 30 بچوں کے لیے آکسیجن فراہم کرتا ہے۔ جتنے زیادہ رخت ہوں گے، اتنی زیادہ آکسیج بنے گی۔

درخت

BBC
مریم نے اسی جنگل میں اپنے بچوں کے لیے جھولے بھی لگا رکھے ہیں

بلال بتاتے ہیں کہ انھوں نے مریم کے ساتھ مل کر زمین کو مختلف طریقوں سے ذرخیز بنایا اور پھر اس میں پودے لگائے ہیں۔

مریم شجر کاری کی مہم چلانے میں بھی خاصی سرگرم ہیں۔ وہ وقتا فوقتاً بلال کے ساتھ لاہور کے مختلف پارکوں اور خالی جگہوں پر پودے لگاتی رہتی ہیں۔

مریم بتاتی ہیں کہ وہ اپنا پورا دن اپنے گھر میں لگے جنگل میں اپنے بچوں کے ساتھ گزارتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کا قدرت سے تعلق مضبوط ہوسکے۔ وہ انھیں درختوں پر لگے پھل توڑ کر کھاتی ہیں۔

مریم نے اسی جنگل میں اپنے بچوں کے لیے جھولے بھی لگا رکھے ہیں جہاں ان کے بچے اور وہ خود قدرت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

مریم کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے اپنا فرض ادا کر رہی ہیں اور چاہتی ہیں کہ مستقبل میں وہ اپنے اس مقصد کو جاری رکھیں اپنے لیے اور سب کے لیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10794 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp