ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر میں دلچسپی کی کیا وجوہات ہیں؟

ہرش پنت - تجزیہ نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران، ٹرمپ، مودی

Getty Images

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتوار کے روز جی سیون کے سربراہی اجلاس کے دوران ملاقات کرنے والے ہیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نریندر مودی سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے آرٹیکل 370 کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور جموں و کشمیر کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد کشیدگی میں اضافے کو کم کرنے کے منصوبے کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر اس ملاقات میں نریندر مودی کی علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے منصوبے کے بارے میں سننا چاہیں گے۔ اس کے علاوہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے کشمیری عوام کے انسانی حقوق کے احترام کے متعلق بھی بات ہو سکتی ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے مابین ثالثی کی تجویز کے بعد سے صدر ٹرمپ مسلسل کشمیر کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں خواہ کئی بار غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: صدر ٹرمپ کے مودی اور عمران خان سے رابطے

’انڈیا اتنا کمزور نہیں کہ امریکہ کی بات مان لے‘

صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی دوبارہ پیشکش

اس ہفتے کے اوائل میں امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کی اپنے انداز میں انوکھی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’کشمیر ایک بہت ہی پیچیدہ جگہ ہے۔ یہاں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی ہیں۔ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ مل کر شاندار طریقے سے رہ سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں میں صرف ثالثی کر سکتا ہوں۔ آپ کے پاس دو کاؤنٹی ہیں جو زیادہ دنوں تک اکٹھے نہیں رہ سکتے اور براہ راست میں کہوں تو صورت حال بہت دھماکہ خیز ہے۔‘

مودی اور ٹرمپ

Getty Images

مودی اور عمران کو ٹیلیفون

ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے وزیر اعظم یعنی نریندر مودی اور عمران خان کے ساتھ ٹیلیفون پر بھی گفتگو کی۔ مودی نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو میں واضح طور پر کہا کہ ’خطے کے کچھ خاص رہنماؤں کے انڈیا مخالف اشتعال انگیز بیانات امن کے لیے سازگار نہیں ہیں‘ جس کے بعد ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے کشمیر کے بارے میں نرم بیان دینے کے لیے کہا۔

صدر ٹرمپ کے طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا طریقہ کار دور رس کے بجائے فوری طور پر اثر انداز ہونے والا ہوتا ہے۔ اور فی الحال اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے نہایت غیر متوقع اور ڈرامائی انداز میں کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کی تھی جو نہ صرف میڈیا کی سرخیاں بنیں بلکہ سیاسی طور پر بھی ہنگامہ آرائی نظر آئی۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں عمران خان کے ساتھ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’اگر میں مدد کرسکا تو میں ثالثی کرنا پسند کروں گا۔‘

اسی ماہ کے اوائل میں انھوں نے جاپان کے شہر اوساکا میں نریندر مودی سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’دو ہفتے قبل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تھا اور ہم اس موضوع پر بات کر رہے تھے اور پھر انھوں نے مجھ سے کہا کہ کیا آپ ثالثی کرنا چاہیں گے؟ تو میں نے پوچھا کہاں؟ انھوں نے کہا ’کشمیر‘۔ کیونکہ یہ کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور آپ (عمران خان) بھی اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ اگر میں مدد کرسکتا ہوں تو میں ثالثی کرنا پسند کروں گا۔‘

عمران اور ٹرمپ

Getty Images

ٹرمپ کی پیشکش کسی جھٹکے سے کم نہیں

حقیقت میں ٹرمپ کی پیشکش بہت سارے انڈینز کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھی کیونکہ یہ گذشتہ ایک دہائی سے جاری امریکی پالیسی کے بالکل برعکس تھی جس کے تحت امریکہ کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلہ کے طور پر دیکھتا آيا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ براک اوباما سمیت متعدد امریکی صدور کو کشمیر کا مسئلہ متوجہ کرتا تھا لیکن واشنگٹن انتظامیہ کو بخوبی اندازہ تھا کہ اگر وہ انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو انھیں کشمیر میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ ایسے میں وہ کیا وجوہات ہیں کہ ٹرمپ نے ایسا بیان دیا جس سے انڈیا میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا؟

اگر کوئی چاہے تو تمام تر سازشی نظریات کو جوڑ کر کچھ نتائج اخذ کرسکتا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ ٹرمپ جو سوچتے ہیں اس کا اندازہ لگانا ایک مشکل کام ہے اور خاص طور پر جب وہ سنجیدہ جیو پولیٹیکل معاملہ ہو۔ جب خود امریکی محکمہ خارجہ کو ٹرمپ کی سوچ کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے تو پھر انڈیا کے لیے تو یہ ایک مشکل امر ہے ہی۔

عمران خان

Getty Images

اس کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹرمپ مسئلہ کشمیر میں مداخلت کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی افغانستان پالیسی کے لیے پاکستان کی حمایت کو یقینی بنا سکیں۔

ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کو افغانستان سے نکالنا چاہتے ہیں۔ وہ امریکی صدارتی انتخابات کے پس منظر میں ایسی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ اگلے سال وہ دوبارہ اپنی فتح کو یقینی بنا سکیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ طالبان اور امریکہ نے امریکی فوجیوں کی واپسی کے فارمولے پر اتفاق کیا ہے اور جلد ہی اس کا باضابطہ اعلان کیا جاسکتا ہے۔

اس امن معاہدے کے لیے ٹرمپ کو پاکستان کی حمایت کی ضرورت ہے اور پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ پاکستان کی حمایت کریں۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو کم کرنا ٹرمپ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس کے لیے وہ عمران خان کو مطمئن کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

دوسری طرف انڈیا نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر بناکر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ انڈیا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ واضح پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان اپنی مایوسی میں مسلسل تنازعہ کشمیر کو افغانستان کے مسئلے سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

طالبان کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کچھ جماعتیں مسئلہ کشمیر کو افغانستان سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، اس سے صورتحال بہتر نہیں ہو گی کیونکہ تنازعہ کشمیر کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ٹرمپ

Getty Images

پاکستان اپنے سٹریٹیجک ابہام کے پیش نظر افغانستان کا صحیح طور اندازہ نہیں لگا پا رہا ہے۔ افغانستان میں اقتدار میں جو بھی آئے وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے انڈیا کی طرف دیکھا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی آگے بڑھ کر تجویز کے باوجود انڈیا نے امریکہ کو واضح طور پر بتایا ہے کہ کشمیر انڈیا اور پاکستان کے مابین دو طرفہ مسئلہ ہے اور اس میں کسی تیسرے کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ملکی سطح پر بھی اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر انڈیا میں اس صورتحال میں کوئی تبدیلی آنے والی نہیں ہے۔

کشمیر سے متعلق ٹرمپ کی تمام تر کوششوں کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نہ تو خطے کی زمینی حقیقت بدل سکتا ہے اور نہ ہی کشمیر سے متعلق انڈین پالیسی۔

بقیہ عالمی برادری اس معاملے کو کس طرح دیکھ رہی ہے اسے فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے اس بیان سے دیکھا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا: ’مسئلہ کشمیر کا حل انڈیا اور پاکستان کے مابین نکلنا چاہیے کسی تیسرے کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی جی سیون اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایسے ہی جذبات کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

(مصنف آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے شعبہ مطالعہ کے ڈائریکٹر ہیں اور وہ کنگز کالج لندن میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر بھی ہیں۔ اس مضمون میں ان کے ذاتی خیالات پیش کیے گئے ہیں۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10837 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp