کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی عالمی تنہائی کی وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2004 کے دو واقعات پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا باعث بنے اور سوالات پیدا ہوائے کہ آئندہ ملک کو درپیش خارجہ امور سے متعلق چیلنجز سے پاکستانی خارجہ پالیسی چلانے والی اسٹیبلشمنٹ کیسے نمٹے گی اور خارجہ پالیسی کی راہ میں حائل مشکلات کو ملک کے اندر کس رنگ میں پیش کیا جائے گا؟ اس حوالے سے یہ بنیادی تبدیلی کا نکتہ آغاز تھا۔

پہلا واقعہ جنوری 2004 میں پیش آیا۔ یہ سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والا ایک مشترکہ بیان تھا جس میں ملک کے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو یقین دلایا تھا کہ ”پاکستان کی سرزمین کو وہ کسی بھی طور پردہشت گردی کی حمایت کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ “ دوسرا واقعہ مارچ 2004 میں ہوا تھا جب امریکی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں القاعدہ کی تلاش اور بیخ کنی کے لئے 80 ہزار فوجیوں کو وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) بھجوایا گیا۔ یہ اُن القاعدہ عناصر کے خلاف کارروائی تھی جو افغانستان پر امریکی حملے کے بعد وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔

ان دونوں واقعات کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ تعلقات جیسے خارجہ پالیسی کے بنیادی روایتی معاملات پس منظر میں چلے گئے۔ ان واقعات کا نتیجہ یوں نکلا کہ فوجی اور سول ارکان پر مشتمل پاکستانی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کرنے والے غیرملکی صرف ایک ہی طرح کے سوالات پوچھنے لگے۔ وہ کسی دوسرے ملک کے دارالحکومت جاتے یا پھر کوئی اسلام آباد انہیں ملتا آتا تو گفتگو کا بنیادی محور ملک کو درپیش داخلی سلامتی کی صورتحال تک محدود ہوکر رہ جاتا۔

جنوری 2004 کے مشرف واجپائی ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ میں اس وقت کی فوجی حکومت نے غیراعلانیہ طورپر تسلیم کرلیا کہ پاکستانی ریاست کو دہشت گرد گروہوں کا سامنا ہے جو ہمسایہ ممالک میں سرحد پار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اس مشترکہ بیان کے تین ماہ بعد یعنی مارچ 2004 میں منظم ترین اور سب سے زیادہ وسائل کے ساتھ فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ 1971 میں مشرقی پاکستان میں کیے گئے فوجی آپریشن کے بعد یہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کی جانے والی سب سے بڑا فوجی کارروائی تھی جو اس مرتبہ قبائلی علاقوں میں کی گئی۔

اس فوجی کارروائی کے خلاف دہشت گرد گروہوں کا ردعمل کچھ تاخیر سے آیا۔ دہشت گردوں نے جولائی 2007 میں خود کش بمباروں کی کھیپ بھجوانا شروع کی جس کا سلسلہ دسمبر 2010 تک جاری رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ قبائلی ایجنسیوں میں دہشت گرد گروہوں اورعسکریت پسندوں کے خلاف بیک وقت فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا۔

اس صورتحال کا ایک پہلو جسے بہت ہی کم توجہ حاصل ہوپائی وہ یہ تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی کے اپنے روایتی معاملات سے یکسر محروم ہوگئی۔ یہ وہ معاملات تھے جنہیں خارجہ پالیسی اسٹیبشلمنٹ عالمی سطح پر اجاگر کیاکرتی تھی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ دنیا کی تنازعہ کشمیر میں دلچسپی کم ہوگئی یا پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر لانے اور امن عمل کے لئے ان کے اصرار میں کمی واقع ہوگئی۔

2004 کے ابتدائی مہینوں میں دورہ کرنے والے امریکی سفارتکاروں نے پاکستانی عسکری گروہوں اور ان کی مقبوضہ کشمیر میں حملوں کے بارے میں کھل کر بات کرنا شروع کردی تھی۔ مثال کے طورپر امریکی حکام نے کھل کر کہاکہ پاکستان کے فوجی حکمرانوں نے وعدہ کیا ہے کہ عسکری گروہوں کو لائن آف کنٹرول عبورکرکے کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

معدودے چند ایسے محب وطن صحافی تھے جو اسلام آباد میں ہر غیرملکی مہمان یا سفارتکار سے یہ سوال پوچھا کرتا تھے کہ اُن کا ملک کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن پھر ان کی جگہ اس طرح کے سوالات ہونے لگے کہ کیا قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوجی آپریشن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں مددگار ثابت ہورہا ہے؟

مجھے یاد ہے کہ ان ہی دنوں میں نے پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک سینئر افسر کا انٹرویو کیا تھا۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد اس بدلتی ہوئی عالمی دنیا کی بات کی تھی جس کا پاکستانی دفتر خارجہ کو سامنا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ ”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے یا پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں یا پاکستانی خارجہ پالیسی کے دیگر روایتی موضوعات میں اب کوئی بھی دلچسپی نہیں رکھتا۔ “

افغانستان میں امریکی مداخلت کے برسوں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے آغاز پر پاکستانی سفارتکاری زیادہ تر امریکی سفارتی کوششوں کا حصہ تھی۔ اس وقت اس بیانیہ کے ذریعے دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کی جاتی کہ دہشت گردی القاعدہ جیسے عالمی دہشت گرد گروہ کررہے ہیں اور عالمی امن کو ان دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اس وقت کہاجاتا تھا کہ پاکستانی فوج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا تقاضا ہے کہ دنیا اس کی حمایت کرے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی سربراہان اور وزرا خارجہ اسلام آباد آکر پاکستانی فوج کی حمایت کرتے۔ اس طرح دنیا بھر کے دارالحکومتوں سے پاکستانی فوجی قیادت کی حمایت میں بیانات اور تقاریر کا انبار جمع ہوگیا تھا۔

لیکن ان سب سرگرمیوں کے نتیجے میں کشمیر کا معاملہ پس منظر میں چلاگیا۔ اگر کہیں کشمیر تنازعہ کا حوالہ دیا بھی جاتا تو یہ پاکستانی عسکری گروہوں کی بنا پر ہوتا جو زیادہ تر عالمی برادری کے رکن ممالک کے مطابق کشمیر میں بھارتی ریاست کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ یہ امر باعث حیرانی نہیں کہ اس وقت پاکستان میں قائم تین عکسری گروہوں جو مقبوضہ کشمیر میں کام کررہے تھے۔ لشکر طیبہ، حرکت المجاہدین اور جیش محمد کے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے تعلقات تھے۔ اس کے نتیجے میں کشمیر کا معاملہ عالمی دہشت گردی کے تناظر میں زیربحث آنے لگا ناکہ مظلوم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حوالے سے۔

ابتدائی برسوں میں پاکستانی ریاست اس تعریف کی وصولی میں بہت مصروف تھی جو اسے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں اور اس کے حامی نیٹ ورک کے خلاف فوجی کارروائی پر مل رہی تھی لیکن اسے یہ ادراک نہیں رہا کہ اس سارے عمل کا کشمیر کے مسئلے پر کیا اثر مرتب ہورہا ہے۔

اسی اثنا پاکستانی ریاست منتشر معاشرے کا بھی سامنا کررہی تھی جو اس نکتے پر شدید قسم کے اختلافی دھڑوں میں تقسیم تھا کہ کیا پاکستانی فوج کودہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ دار بنناچاہیے یا نہیں؟

ان واقعات کے پیش نظر یہ دومتضاد رجحانات پاکستانی ریاست کو خارجہ پالیسی چیلنج سمجھنے میں حاوی ہورہے تھے۔ اول یہ کہ خارجہ پالیسی کے روایتی معاملات پس منظر میں چلے گئے اور دوسرے یہ کہ پاکستانی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کی رسائی اور عالمی دارالحکومتوں میں شنوائی و اثرونفوذ میں بڑی حد تک کمی واقع ہوگئی۔ اسی اثنا پاکستانی ریاست نے ایک بڑی پراپیگنڈہ مہم شروع کردی جس کا مقصد مقامی آبادی کو قائل کرنا تھا کہ ریاستی ادارے داخلی سطح پر نہ صرف ریاست کے دشمنوں سے لڑ رہے ہیں بلکہ درحقیقت عالمی سطح پر بھی بہترین قومی مفاد کے لئے برسرپیکار ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ نے خارجہ پالیسی مقامی عوام کو مدنظر رکھ کر بنانا شروع کردی۔ پہلی وجہ ریاستی اداروں کی اس ضرورت کا ادراک تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائیوں کے لئے مقامی رائے عامہ کی مکمل حمایت درکار ہے۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ عسکری گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں ہی خارجہ پالیسی کے سب سے بڑے موضوعات بن گئیں۔ ملک میں آنے یا بیرون ملک جانے پر بنیادی گفتگو انہیں معاملات پر ہوتی اور پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں آ جا کے یہی معاملہ باہمی نکتہ کلام بن کر رہ گیا۔ لہذا اس صورتحال میں مقامی رائے عامہ نے پاکستانی خارجہ پالیسی کی اہمیت کا ایک ایسا تصور قائم کرلیا جو ملکی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

یہ امکان اب کم ہی ہے کہ کشمیر کا معاملہ دوبارہ اتنی ہی اہمیت حاصل کرلے جتنی ماضی میں اسے کبھی پاکستانی خارجہ پالیسی میں حاصل تھی۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے، اس پر پاکستانی معاشرے میں انتہائی کم ردعمل سامنے آیا ہے۔ جو سرگرمیاں ہو رہی ہیں وہ ریاستی سرپرستی میں ہو رہی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عالمی برادری اس سنگین صورتحال کے باوجود بھی کشمیر کے معاملے پر کان دھرنے کو تیار نہیں یعنی بہری ہوچکی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •