سات انسانی جذبات جو وقت کے ساتھ بدل گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جذبات

Getty Images
جذبات اور ان کے بارے میں تجربہ، اظہار اور بات کرنا وقت کے ساتھ بدل بھی سکتا ہے

عام خیال یہ ہے کہ جذبات ساری دنیا میں ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یہ خیال درست نہیں۔

جذبات بدلتے رہتے ہیں۔ یہ ہر علاقے میں مختلف ہوتے ہیں اور آپ اس کو جرمنی کی ایک کہاوت سے سمجھ سکتے ہیں کہ کسی کی خوشی کسی دوسرے کی بدقسمتی ہو سکتی ہے۔

اور ہر وقت نئے جذبات سامنے آتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ اگر کسی نے فیئر آف مسینگ آؤٹ (فومو) یعنی پیچھے رہ جانے کے خوف کی تکلیف محسوس کی ہو تو وہ جانتا ہو گا کہ فومو ایک پریشانی کی کیفیت ہے جو کہیں بھی ہونے والے کسی بڑے واقعے یا تقریب پر محسوس کی جاتی ہے۔

اور اکثر اوقات سوشل میڈیا صارفین کی پوسٹ سے بھی یہ کیفیت محسوس کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

احساسات، جذبات اور چہرے

’میر ے دوست میرے لیے پریشان تھے’

ڈپریشن اور خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

ڈپریشن کا شکار افراد کی مدد کیسے کی جائے؟

جذبات اور ان کے بارے میں تجربہ، اظہار اور بات کرنا وقت کے ساتھ بدل بھی سکتا ہے۔

بی بی سی ریڈیو تھری نے سینٹر آف ہسٹری آف اموشنز کی ڈاکٹر سارہ شینے سے یہ جاننے کے لیے بات کی کہ ماضی کے چند جذبات ہمیں یہ سمجھنے میں کیسے مدد دے سکتے ہیں جو کہ ہم آج محسوس کرتے ہیں۔

ان میں سے کچھ یہ ہیں۔

اسیڈیا (مزید جینے کی خواہش کا نہ رہنا)

جذبات

Getty Images
اسیڈیا میں لوگ ناامیدی، کاہلی اور دنیاوی زندگی کو چھوڑنے کی خواہش محسوس کرتے ہیں

چھٹی صَدی سے سولہویں صَدی کے دوران مخصوص مرد اسیڈیا کے خاص جذبات رکھتے تھے، جیسا کہ خانقاہوں میں رہنے والے راہب۔

یہ جذبات اکثر روحانی بحران سے آتے ہیں. جو لوگ اس کا سامنا کرتے ہیں وہ ناامیدی، کاہلی اور سب سے زیادہ موجودہ زندگی کو چھوڑنے کی ایک زبردست خواہش محسوس کرتے ہیں.

ڈاکٹر شینے کا کہنا ہے کہ آج کل اس احساس کو ڈپریشن کا نام دیا جا سکتا ہے۔ مگر اسیڈیا خاص طور پر روحانی بحران اور خانقاہوں کی زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

یہ ممکن ہے کہ اسیڈیا سے ہونے والی کاہلی و سستی خانقاہوں کے مذہبی راہبوں کے لیے تشویش کا سبب تھی جس وجہ سے وہ ایسے رویے ناپسند کرتے تھے۔

درحقیقت وقت گزرنے کے ساتھ ایسڈیا کے جذبات کو سستی و کاہلی کے ساتھ جوڑ دیا گیا جو عیسائیت میں سات بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔

فرینزی (ذہنی انتشار)

جذبات

Getty Images
فرینزی کے جذبات میں خاموش بیٹھنا ناممکن تھا

ڈاکٹر شینے کا کہنا ہے کہ یہ بھی قرون وسطی کے اچھے جذبات میں سے ایک ہے۔ یہ غصے کی طرح ہے مگر یہ آج کے غصے سے مختلف ہے۔

اگر کوئی فرینزی کا شکار ہے تو وہ بہت مشتعل ہو گا۔ اسے غصے کے دورے پڑیں گے۔ وہ اپنے اردگرد چیزیں پھینکے گا اور بہت چیخے چلائے گا۔

اگر محتاط انداز میں بات کی جائے تو فرینزی کے جذبات کے زیرِ اثر خاموش بیٹھنا ناممکن ہے۔

یہ جذبات بنیادی طور پر ہمارے دورِ جدید کے اندرونی جذبات کی سوچ پر روشنی ڈالتے ہیں، یعنی آپ ان کو چھپا سکتے ہیں اگر آپ کافی کوشش کریں۔

مگر قرون وسطی میں وہ لوگ جو فرینزی کا شکار تھے ایسا نہیں کر پاتے تھے۔

ڈاکٹر شینے کا کہنا ہے کہ وہ زبان جو لوگ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے استعمال کرتے تھے اس کا مطلب تھا کہ انھوں نے کچھ ایسا محسوس کیا جو ہم کبھی محسوس نہیں کر سکتے۔‘

میلنخلی (وحشت)

جذبات

Getty Images
میلنخلی کو خوف کی ظاہری شکل کہا جاتا تھا

ڈاکٹر شینی کہتی ہیں کہ میلنخلی ایک ایسا لفظ ہے جس کا استعمال ہم آج انتہائی، افسردگی اور اداسی کے لیے کرتے ہیں۔ مگر ماضی میں اس کا مطلب مختلف ہوتا تھا۔ ابتدائی جدید دور میں میلنخلی کو خوف کی ظاہری شکل کہا جاتا تھا۔

16ویں صدی تک صحت کا تعلق چار جسمانی مادوں میں توازن سے سمجھا جاتا تھا۔ ان میں خون، بلغم، جگر میں بننے والا بھورا مائع اور کالا مائع شامل تھے۔

میلنخلی تب ہوتا ہے جب انسان میں سیاہ مائع بہت زیادہ ہو جائے۔

ڈاکٹر شینی کا کہنا ہے کہ کچھ واقعات میں لوگ حرکت کرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ وہ شیشے کے بنے ہوئے ہیں اور وہ ٹوٹ جائیں گے۔

فرانس کے بادشاہ چارلس ہشتم کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ میلنخلی کا شکار تھے اور وہ کسی ممکنہ حادثے میں ٹوٹ کر بکھرنے سے بچنے کے لیے اپنے لباس کے اندر لوہے کی سلاخیں رکھتے تھے۔

نوسٹلجیا (ماضی کی یادیں)

نوسٹلجیا

Getty Images
انتہائی نوسٹلجیا کی حالت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے

نوسٹلجیا بھی ایک ایسی اصطلاح جس کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پہلے سے جانتے ہیں۔

ڈاکٹر شینے کا کہنا ہے کہ ہم اپنی گفتگو میں نوسٹلجیا لفظ کا استعمال اکثر اوقات کرتے ہیں مگر پہلی بار جب اس کا استعمال ہوا تھا تب اس کو ایک جسمانی بیماری سمجھا جاتا تھا۔

اٹھارویں صدی میں یہ بیماری جہاز رانوں میں پائی جانے والی بیماری سمجھی جاتی تھی جو انھیں اس وقت ہوتی جب وہ گھر سے دور ہوتے اور اس کو گھر کو یاد کرنے سے جوڑا جاتا۔

اٹھارویں صدی کا نوسٹلجیا آج سے مختلف تھا۔ اس وقت اس کی کچھ ظاہری علامات تھیں۔

نوسٹلجیا کا شکار ہونے والے جہاز ران تھکاوٹ، کاہلی اور دردوں کا شکار ہوتے تھے اور کام نہ کر پاتے تھے۔ انتہائی نوسٹلجیا کی حالت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

اس کا موازنہ نوسٹلجیا کی آج کی تعریف سے نہیں کیا جاتا۔ اب یہ ماضی کے بھلے وقتوں کی یاد کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔

شیل شاک (دیکھنے اور سننے کی صلاحت کھو دینا)

ورلڈ وار ون

Getty Images
جو افراد شیل شاک کا شکار ہوتے ان کو عجیب دورے پڑتے تھے اور وہ اکثر دیکھنے اور سننے کی صلاحت کھو دیتے

بہت سے لوگوں نے شیل شاک کا نام سنا ہو گا۔ ایک ایسی حالت جس نے پہلی جنگ عظیم کے فوجیوں کو خندقوں میں متاثر کیا تھا۔

ماضی میں شیل شاک بھی میلنخلی اور نوسٹلجیا کی طرح جذباتی کیفیت اور بیماری میں ایک باریک لکیر کھینچتی تھی جس کے بارے میں بات کی جاتی اور اس کا علاج کروایا جاتا تھا۔

ڈاکٹر شینی کا کہنا ہے کہ ’جو افراد شیل شاک کا شکار ہوتے ان کو عجیب دورے پڑتے تھے اور وہ اکثر دیکھنے اور سننے کی صلاحت کھو دیتے۔ حالانکہ ظاہری طور پر ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ جنگ کے آغاز میں انھوں نے سوچا کہ یہ دھماکے بہت قریب ہونے کی وجہ دماغ کو پہنچنے والے جھٹکے سے ہو رہا ہے مگر بعد میں یہ خیال کیا گیا تھا کہ یہ علامات مریض کے تجربات اور ان کی جذباتی حالت کی وجہ سے ہو رہی تھیں۔‘

ہپوکوڈیریایسس (مراق)

جذبات

Getty Images
ہپوکوڈیریایسس کا تعلق صرف جذبات سے سمجھا جاتا تھا

ہپوکوڈیریایسس 19ویں صدی میں ایک ایسی حالت تھی جس کو سمجھا جاتا تھا کہ اس کا تعلق صرف جذبات سے ہے۔

ڈاکٹر شینی کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر اس کیفیت کا مردانہ ورژن ہے جس کو 17ویں اور 18ویں صدی میں ڈاکٹروں نے ہسٹریا کا نام دیا۔ اس کے بارے میں خیال کیا گیا کہ یہ تھکاوٹ، درد اور ہاضمے کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ تاہم 17 ویں اور 18 ویں صدی میں خیال کیا گیا کہ ہپوکوڈیریایسس تلی کے باعث ہوتی ہے لیکن بعد میں اس کی وجہ اعصاب کو قرار دیا گیا۔

18ویں صدی میں خیال کیا جاتا تھا کہ جسم کے بارے میں فکر مند ہونے کی علامات ہائپوڈنڈریسیس کی وجہ سے ہیں تاہم ظاہری علامات میں اس کو دماغ اور جذبات کی بیماری قرار دیا گیا.

اخلاقی پاگل پن

غصے سے بھرے لوگ

Getty Images
’اخلاقی پاگل پن’ کی اصطلاح سنہ 1835 میں ڈاکٹر جیمز کولز پریچارڈ کی جانب سے پیش کی گئی

اخلاقی پاگل پن کی اصطلاح سنہ 1835 میں ڈاکٹر جیمز کولز پریچارڈ کی جانب سے پیش کی گئی۔

ڈاکٹر شینی کا کہنا ہے کہ دراصل اس کا مطلب جذباتی پاگل پن ہے۔

کیونکہ بہت عرصہ تک اخلاقی کے لفظ کا مطلب نفسیاتی اور جذباتی تھا اور آج جس کو ہم اخلاقی کہتے ہیں اس کے ساتھ بھی استعمال ہوتا رہا۔

ڈاکٹر جیمز نے جن مریضوں کو اخلاقی طور پر پاگل سمجھا تھا، انھوں نے غیر معمولی طور پر یا غلط رویہ اختیار کیا تھا۔ جبکہ ان میں دماغی صحت کی خرابی کی کوئی علامت نہیں تھی.

ڈاکٹر شینی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر جیمز نے محسوس کیا کہ ان مریضوں کی بڑی تعداد ہے جو زیادہ تر دیگر افراد کی طرح رویے کا مظاہرہ نہیں کر سکتے، شاید ان کو اپنے جذبات پر قابو نہیں تھا اور غیر ارادی طور پر وہ کوئی جرم کا ارتکاب کر لیتے تھے۔

مثلاً معاشرے کی پڑھی لکھی خواتین میں کلپٹومینیا کو ایک اخلاقی بیماری سمجھا جاتا تھا کیونکہ بنا مالی ضرورت کے عادتاً چوری کرنے کا مقصد کسی کو سمجھ نہیں آتا تھا۔

اور بنیادی طور پر یہ انتہائی جذبات کا اظہار تھا اور اکثر اس کو ضدی بچوں پر آزمایا جاتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10865 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp