جی 7 سربراہی اجلاس میں ایرانی وزیرِ خارجہ کی غیر اعلانیہ شرکت پر امریکہ حیران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایرانی وزیر خارجہ

JAVAD ZARIF
‘آگے کی راہ مشکل ہے لیکن کوشش کی جا سکتی ہے’

ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کے روز فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کا ایک مختصر اور غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔

دیگر عالمی رہنماؤں کے علاوہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جی 7 سربراہی اجلاس میں شریک ہیں اور ایسے میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی ضمنی بات چیت میں شرکت کی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان سخت کشیدگی کا ماحول پایا جاتا ہے اور اطلاعات کے مطابق امریکی وفد جواد ظریف کے اس غیر اعلانیہ دورے پر حیران ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ کا سعودی عرب میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

’بات چیت مثبت ہے مگر معاملات طے نہیں ہوئے‘:ایران

اسرائیل کا ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا دعویٰ

ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے فرانسیسی وزیر خارجہ اور فرانس کے صدر سے ‘تعمیری’ بات چیت کی ہے۔

اتوار کی شام کی گئی ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ‘آگے کی راہ مشکل ہے لیکن کوشش کی جا سکتی ہے۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے جرمن اور برطانوی عہدیداروں کو ایک مشترکہ بریفنگ دی ہے۔

https://twitter.com/JZarif/status/1165677910323269634?s=20

جواد ظریف نے سربراہی اجلاس کے موقع پر جمعہ کے روز پیرس میں صدر ایمانوئل میکرون سے بھی ملاقات کی تھی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدگی کا شکار ہیں جب گذشتہ برس امریکہ نے یک طرفہ طور پر سنہ 2015 میں ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

پانچ دوسرے ممالک بشمول فرانس اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم معاہدے سے دستبرداری کے اعلان اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی نئی معاشی پابندیوں کے بعد ایران نے جوابی اقدام کے طور پر جوہری سرگرمیاں پھر سے شروع کر دی تھیں۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اپنے تئیں کشیدگی کو کم کرنے اور جوہری معاہدے کو مکمل ختم ہونے سے بچانے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ گذشتہ مہینوں میں آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے معاملے پر ایران کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکہ نے ایرانی وزیر خارجہ پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ امریکی عہدیداروں نے ان پر ایرانی لیڈر کے ‘لا پروائی پر مبنی ایجنڈے’ کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے تھے۔

جواد ظریف

Getty Images
جواد ظریف نے سربراہی اجلاس کے آغاز پر جمعہ کے روز پیرس میں صدر ایمانوئل میکرون سے بھی ملاقات کی تھی

اتوار کو کیے گئے جواد ظریف کے دورے کی متضاد تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ فرانسیسی عہدیداروں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی وفد کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ایرانی وزیرِ خارجہ کو مدعو کیا گیا تھا لیکن وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے اس دورے پر اپنی حیرت کا اظہار کیا ہے۔

فرانسیسی اور امریکی صدور کی جانب سے اس حوالے سے بھی متضاد بیانات سامنے آئے ہیں کہ آیا جی 7 ممالک تہران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی متفقہ حکمت عملی پر متفق ہوئے ہیں۔

اتوار کو صدر ٹرمپ نے فرانس کی ثالثی کی کوششوں کو رد کر دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنا لائحہ عمل خود اختیار کریں گے۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں کسی کو بات چیت کرنے سے روک نہیں سکتا۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔’

جی 7 ممالک بشمول برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے سربراہان نے گذشتہ ہفتے کے اختتامی دنوں میں 45ویں سمٹ میں شرکت کی ہے۔

جوہری معاہدے اور بریگزٹ سمیت متعدد موضوعات ان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10470 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp