افغان امن عمل: اشرف غنی امن معاہدے سے قبل صدارتی انتخابات پر مُصر کیوں؟

خدائے نور ناصر - بی بی سی، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان

Getty Images
افغانستان میں صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو منعقد ہو رہے ہیں جس کے لیے انتخابی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں مذاکرات کا نواں دور جاری ہے اور دونوں فریق پراُمید ہیں کہ جلد ہی امن معاہدے پر اتفاق ہو جائے گا جس کے بعد امریکہ اپنی تاریخ میں لڑی جانے والی سب سے طویل جنگ سے نکل جائے گا۔

اُدھر افغانستان میں صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو منعقد ہو رہے ہیں، جس کے لیے انتخابی مہم افغانستان کے تمام صوبوں میں زور و شور سے جاری ہے۔

دو بار ملتوی ہونے والے افغان صدارتی انتخابات اور گذشتہ 18 برسوں سے امن کے لیے بے چین افغان عوام شاید آنے والے ستمبر میں یہ دونوں واقعات اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے دیکھ لیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ’دنیا کے مہلک ترین محاذ‘ میں امن آ سکے گا؟

افغان مذاکرات میں ’پیشرفت‘ لیکن معاہدے میں وقت لگے گا

’افغان امن عمل میں امریکہ کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا‘

امریکہ، طالبان اور افغان صدر غنی کے بعض سیاسی مخالف چاہتے ہیں کہ پہلے امن معاہدہ ہو، صدارتی انتخابات بعد میں بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن افغان صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت بارہا واضح کر چکے ہیں کہ امن معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں پہلے صدارتی انتخابات ہونا ضروری ہیں۔

افغانستان میں متعین امریکہ کے سفیر جان باس نے سنیچر کو صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ ان کے نزدیک امن زیادہ اہم ہے کیونکہ امن افغان عوام کی ترجیحات میں سرِفہرست ہے۔ تاہم ان کے مطابق امریکہ افغان صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے لیے امن سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ افغان عوام کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔‘

ان کے مطابق امن افغان عوام کی اولین ترجیح ہے اسی لیے امریکہ کی بھی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

زلمے خلیل زاد

Getty Images
افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد پر اُمید ہے کہ ستمبر کے اوائل میں امن معاہدہ طے پا جائے گا

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں افغان آپس میں بیٹھ جائیں اور مستقل امن کے لیے معاہدہ کر لیں۔ ’ایسا معاہدہ جس پر عمل ہو اور عوام کی اکثریت کو قابلِ قبول ہو۔ اسی کے ساتھ ہم انتخابات کے انعقاد کے لیے بھی کوشش کر رہے ہیں۔‘

رواں سال جولائی میں افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بھی کہا تھا کہ ان کے لیے صدارتی انتخابات سے زیادہ امن معاہدہ اہم ہے اور وہ پر اُمید ہے کہ ستمبر کے اوائل میں یہ معاہدہ طے پا جائے گا۔

خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ اگر امن معاہدہ نہیں ہوتا تو پھر ممکن ہے کہ انتخابات ہو جائیں۔

لیکن افغان صدر اشرف غنی اس سے پہلے بارہا واضح کر چکے ہیں کہ ان کے حکومت کی پہلی ترجیح صدارتی انتخابات کا انعقاد اور دوسری ترجیح امن معاہدہ ہو گا۔

آٹھ اگست کو صوبہ پکتیا میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ وہ پہلے انتخابات چاہتے ہیں بعد میں امن معاہدہ، لیکن اان کے مطابق ایسا امن معاہدہ جو افغانستان کو طالبستان میں تبدیل نہ کر دے۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ’لوگ امن چاہتے ہیں، وہ افغانستان چاہتے ہیں نہ کہ طالبستان۔ افغانستان سارے افغان عوام کا گھر ہے۔‘

انھوں نے طالبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمارا خون بہانے پر غیر جشن مناتے ہیں، کیا تم لوگ غیروں کے لیے افغان عوام کو درد اور غم دیتے ہو۔‘

اشرف غنی

Getty Images
‘لوگ امن چاہتے ہیں، وہ افغانستان چاہتے ہیں نہ کہ طالبستان۔ افغانستان سارے افغان عوام کا گھر ہے’

گذشتہ ہفتے کابل میں طلوع نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں افغان صدر نے کہا تھا کہ امن معاہدہ صدارتی انتخابات کو نہیں روک سکتا۔

کابل میں صحافی طاہر زلاند بھی سجھتے ہیں کہ افغان صدر اس لیے پہلے انتخابات پر زور دیتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت ہی طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرے۔

طاہر زلاند کے مطابق ’صدر اشرف غنی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب آنے والے وقت میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت ہوتی ہے اور پھر ایک معاہدہ طے پاتا ہے، تو ضروری ہے کہ ذمہ دار حکومت ہی یہ سب کچھ کرے۔‘

یاد رہے کہ دوحہ میں جاری امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے فوراً بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے جس میں جنگ بندی، افغانستان میں مستقبل کا سیاسی نظام اور خواتین کے حقوق سمیت متعدد مسائل پر بات چیت ہو گی۔

کابل سے رکنِ پارلیمنٹ شینکئی کڑوخیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی جانب سے اب تک افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے کوئی گرین سگنل ہی نہیں ملا ہے، تو حکومت بھی ان کے انتظار میں انتخابات ملتوی نہیں کر سکتی اور یہ مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔

طالبان

Getty Images
’طالبان کی جانب سے اب تک افغان حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے کوئی گرین سگنل ہی نہیں ملا ہے‘

’اگر امن معاہدے میں کوئی سنجیدہ پیش رفت دیکھائی دے تو میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ افغان صدر بھی اس کے لیے راضی ہو جائیں گے کہ صدارتی انتخابات چھ ماہ کے لیے ملتوی کر لیں۔ میں نہیں مانتی کہ صدر امن معاہدے کے خلاف ہوں گے۔‘

شینکئی کڑوخیل کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ابھی تک کسی چیز کا پتا ہی نہ ہو اور طالبان ابھی تک یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ بیٹھیں گے تو آپ ہی بتا دیں کہ ہم ہر چیز ملتوی کر لیں صرف اس لیے کہ فلاں ناراض نہ ہو۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ قانون کے مطابق انتخابات کا انعقاد کرے۔‘

یاد رہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات 20 اپریل 2019 کو ہونا تھے اور اب تک یہ دو بار ملتوی کیے جا چکے ہیں۔ اب صدارتی اتنخابات کے لیے 28 ستمبر کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10401 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp