جی سیون سربراہی اجلاس: ’مجھے سچ میں یقین ہے کہ ایران ایک عظیم قوم ہو سکتی ہے لیکن ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈونلڈ ٹرمپ اور حسن روحانی

AFP

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن اور تحران کے درمیان کشدیگی کو کم کرنے کے لیے اگلے چند ہفتوں میں ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اتوار کو فرانس میں جی سیون سرہراہی اجلاس کے موقع پر فرانس کا ایک مختصر اور غیر اعلانیہ دورہ کیا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدگی کا شکار ہیں جب گذشتہ برس امریکہ نے یک طرفہ طور پر سنہ 2015 میں ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

تاہم صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ان کے ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے کے امکان کے بارے میں ’اچھے جذبات‘ ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بارے میں مزید جانیے

جواد ظریف کی فرانس میں موجودگی پر امریکہ حیران

’بات چیت مثبت ہے مگر معاملات طے نہیں ہوئے‘:ایران

ایران جوہری معاہدہ: کیا کوئی راستہ بچا ہے؟

پومپیو: امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ہے

ایران کے جوہری معاہدے کے لیے حتمی لڑائی شروع

فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’ایران ڈھائی سال پہلے والا ملک نہیں ہے جب میں اقتدار میں آیا تھا۔‘

امریکی صدر نے کہا ’مجھے سچ میں یقین ہے کہ ایران ایک عظیم قوم ہو سکتی ہے لیکن ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے‘۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ وہ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار ہو جائیں، انھیں ’اچھے کھلاڑی‘ بننا پڑے گا۔

اس سے قبل پیر کو ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ وہ کسی سے بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ایران کو فائدہ ہو گا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا ’اگر مجھے یقین ہو کہ اجلاس میں شرکت کرنے یا کسی سے ملاقات کرنا میرے ملک کی ترقی اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہو گا، تو میں ایسا کرنے سے نہیں ہچکچاؤں گا۔‘

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدگی کا شکار ہیں جب گذشتہ برس امریکہ نے یکطرفہ طور پر سنہ 2015 میں ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

پانچ دوسرے ممالک بشمول فرانس اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوئے تاہم معاہدے سے دستبرداری کے اعلان اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی نئی معاشی پابندیوں کے بعد ایران نے جوابی اقدام کے طور پر جوہری سرگرمیاں پھر سے شروع کر دی تھیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے اتوار کو کی جانے والی ٹویٹ میں کہا گیا کہ انھوں نے فرانسیسی وزیر خارجہ اور فرانس کے صدر سے ‘تعمیری’ بات چیت کی ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں جو کشیدگی کو کم کرنے اور جوہری معاہدے کو مکمل ختم ہونے سے بچانے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ممکنہ حل پر ایرانی عہدیداروں سے بات چیت کے بعد جواد ظریف کو دعوت دینے کے اپنے منصوبے سے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ٹرمپ اور روحانی کے درمیان ’آئندہ چند ہفتوں میں‘ ’ملاقات کے لیے شرائط‘ قائم ہو گئی ہیں۔

ایمانوئل میکخواں نے کہا ’ابھی کچھ طے شدہ نہیں ہے اور معاملات ابھی بھی کمزور ہیں لیکن تکنیکی بات چیت کے لیے کچھ حقیقی پیش رفت شروع ہوئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے روحانی سے کہا تھا ’اگر وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی ملاقات کو قبول کرتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10805 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp