کشمیر کی خصوصی حیثیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں، وادی میں اضطراب برقرار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سری نگر

Getty Images

انڈیا کی سپریم کورٹ بدھ کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے اور وہاں جاری سکیورٹی لاک ڈاؤن کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔

ان دس کے قریب درخواستوں میں جہاں انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے وہیں خطے میں اس فیصلے کی وجہ سے جاری کرفیو اور ذرائع مواصلات کی بندش کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہونے کی بات بھی کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ جن درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے ان میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما سیتا رام پچوری، کانگریس کے رہنما تحسین پوناوالا، کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور سابق سرکاری ملازم شاہ فیصل کے علاوہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طالبعلم رہنما شہلا رشید بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا آرٹیکل 370 کا خاتمہ چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

آرٹیکل 370 تھا کیا اور اس کے خاتمے سے کیا بدلے گا؟

کشمیری رہنما شاہ فیصل کو حراست میں لے لیا گیا

شہلا رشید کون ہیں اور کیوں ٹرینڈ کر رہی ہیں؟

خیال رہے کہ 13 اگست کو متفرق درخواستوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فوری طور پر کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا اور بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق عدالت عظمٰی کے تین رکنی بنچ نے کہا تھا کہ کشمیر کی صورتحال حساس ہے اس لیے حالات معمول پر آنے تک انتظار کرنا چاہيے۔

تحسین پونا والا کی اس درخواست استدعا کی گئی تھی کہ ریاست کشمیر میں نافذ کرفیو، ٹیلی فون، موبائل اور انٹرنیٹ کی معطلی اور ٹی وی چینلز کی بندش ختم کی جائے۔ اس کے علاوہ اس دن ہی سپریم کورٹ نے کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر انورادھا بھسین کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں کشمیر میں عائد پابندیوں کے حوالے سے جمع کروائی گئی درخواست پر فوری سماعت سے انکار کیا تھا۔

کشمیر

Getty Images
انڈین سپریم کورٹ کشمیر میں عائد پابندیوں کے کیس کی سماعت آج کر رہی ہے

انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو انڈین آئین میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی شق کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

جموں و کشمیر اور لداخ 31 اگست سے یونین ٹیریٹریز یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بن جائیں گے۔ انڈین حکومت کے اس اعلان سے چند دن پہلے سے ہی کشمیر میں انتہائی سخت سکیورٹی لاک ڈاؤن جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

‘منقسم کشمیریوں کے لیے اچھی خبر’

کشمیر: ’وہ تھوکتا رہا اور پھر اسے دل کا دورہ پڑ گیا‘

سرینگر کا نواحی علاقہ صورہ: کشمیری مزاحمت کا نیا مرکز

لاک ڈاؤن کے آغاز پر جہاں وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا وہیں اس کے باقی دنیا سے مواصلاتی روابط کو بھی کاٹ دیا گیا تھا۔

جموں و کشمیر میں معطل کی جانے والی لینڈ لائن، انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس 24 دن بعد بھی جزوی طور پر ہی بحال ہو سکی ہے جبکہ وادی میں نقل و حرکت پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔

اضطراب اور غیریقینی کی کیفیت برقرار

کشمیر کی صورتحال پر بی بی سی کے خصوصی پروگرام نیم روز میں گفتگو کرتے ہوئے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ لوگوں میں اضطراب اور غیر یقینی کی کیفیت تو ہے ہی لیکن اب حکومت کے لیے مسئلہ بنتا جا رہا ہے کہ تین ہفتے گزر جانے کے بعد بھی وادی میں معمولات زندگی بحال نہیں ہو رہے۔

سری نگر

Getty Images

ریاض مسرور نے بتایا کہ حکومتی سطح پر اس جمود اور تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کل نئی دہلی میں انڈیا کے سیکرٹری داخلہ کی زیر صدارت ایک اہم میٹنگ ہوئی ہے جس میں کشمیر کے حالات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ تاہم سرینگر میں موجود مقامی افسران کے مطابق اس میٹنگ میں یہ طے کیا گیا ہے کہ کیسے وادی میں آئندہ دو ماہ میں ان مختلف سکیمز کو لاگو کرنا ہے، جن کا ذکر وزیراعظم اور گورنر کرتے رہے ہیں۔

وادی میں لوگوں کی روزمرہ کی ضروریات زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریاض مسرور نے بتایا کہ ابھی تک علاقے میں کسی قسم کی کوئی قلت پیدا نہیں ہوئی کیونکہ سری نگر جموں کی شاہراہ پر کھانے پینے کی اشیا اور ادویات آ جاتی ہیں۔

ریاض مسرور نے یہ بھی بتایا کہ جن علاقوں میں بندشوں میں نرمی کی جاتی ہے وہاں اب تک دکانیں نہیں کھولی جا رہی ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ علیحدگی پسندوں کی ساری قیادت قید میں ہے جبکہ ہند نواز قیادت بھی جیلوں میں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کہیں سے بھی ہڑتال کی کوئی کال نہیں ہے لیکن لوگوں نے رضاکارانہ طور پر ساری کاروباری سرگرمیاں معطل کر رکھی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق طلوع آفتاب سے صبح دس بجے سے پہلے تک چھوٹی چھوٹی مارکیٹس میں ضروری اشیا کی دکانیں کھولی جاتی ہیں جبکہ رات گئے پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کا رش رہتا ہے لیکن زندگی پورے دن میں وقفوں میں بٹ گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp