ہینڈسم وزیر اعظم سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ لینے کی ایک کوشش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب وزیر اعظم عمران خان نیازی صاحب اور جناب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب۔ اسلام علیکم اور نمشکار۔

جی کچھ دن پہلے آپ کے عمرکوٹ آنے کی خبر کی تصدیق ہوگئی۔ جس میں ہم پاکستان کی ہندو برادری 31 اگست 2019 کو آپ کے ساتھ مل کر اپنے کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ ویسے بھی پاکستان میں خصوصاً مسئلہ کشمیر پر سب سے پہلے آپ کو ہماری ہی آوازیں بلند ہوتی ہوئی دیکھنے کو ملی ہوں گی۔ اور ہم وعدہ کرتے ہیں آپ کی آمد پر ہم آپ کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر اپنی آواز بلند کریں گے۔ اور اسی بہانے سوچا آپ سے کچھ بات چیت کر لی جائے۔ چونکہ آپ اس ملک کے بڑے آدمی بن گئے ہو، اور آپ سے عام آدمی کا ملنا مشکل سا ہوگیا ہے تو اس مختصر خط سے آپ کو اپنی آواز پہنچا رہا ہوں۔

ہمارے ہینڈسم وزیر اعظم جیسے کہ آپ یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں سوائے پاکستانی پنجابی سِکھ بھائیوں کے کسی اور غیر مسلم کو ”محبِ وطن“ کا سرٹیفکیٹ نہیں ملا ہے تو یقیناً یہ جلسہ عام، ہم آپ سے اور اِس ریاست سے اپنا ”حبِ وطن“ کا سرٹیفکیٹ لینے کی ناکام کوشش کے طور پر کروا رہے ہیں۔ یہ بات آپ سے لے کر اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہم دشمن ملک سے نہیں آئے ہیں نا ہی ہم ان کی طرح ہیں، ہم اس دھرتی کے مہاراجہ داھر کی اولادیں ہیں۔ ہم اپنی دھرتی سے کتنے سچے ہیں اس کی مثال آپ ہمارے مہاراجا کی شہادت سے لگا سکتے ہیں۔ اس لیے آپ سے کچھ چند باتیں عرض کرتا ہوں میرے ہینڈسم وزیر اعظم۔

سب سے پہلے آپ سے عرض ہے کہ ہمارے یہاں دو چیزیں اہم ترین ہیں، ملکی معیشت اور یہاں کے لوگوں کی زرعی اور معاشی ترقی کے لیے، جس میں ایک ہمارے یہاں کا کوئلہ دوسرا ہماری طرف کا انڈو پاک امن پسند بارڈر۔ کوئلہ تو ویسے بھی آپ کی امانت ہے ہمیں کون سی خیانت کرنی ہے، آپ وفاق والے ہیں یہ آپ کا حق ہے ہم نے ملکی ترقی کے لئے آپ کو زکوٰۃ میں دے دیا۔ پر دوسرا بارڈر جناب معافی مانگتا ہوں ہم بڑے ہی امن پسند اور سیدھے لوگ ہیں، ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔

بس آپ سے درخواست ہے کہ جب یہ سب معاملات ہمارے دشمن ملک سے ٹھیک ہو جائیں تو آپ سے جناب یہ عرض ہے کہ کرتارپور اور واہگہ بارڈر کی طرح تھوڑی نظرثانی ہماری طرف کر لینا۔ بس اس بارڈر کو یہاں کے لوگوں کے تجارتی معاملات کے لئے کھول دینا، جس سے وہ اپنے تجارتی معاملات اچھے سے سرانجام دے سکیں اور ہمارے ملک کی معیشت پر اچھا اثر ہو۔ آپ تو جانتے ہی ہیں سندھ اور سندھ کی راجدھانی کراچی ملک کا سب سے بڑا انٹرنیشنل ٹریڈ ہب ہے، اور یہاں کے لوگوں کو اپنے تجارتی معاملات پنجاب سے ہوکر دشمن ملک سے کرنے پڑتے ہیں، کتنی مشکلات ہوتی ہیں چیزوں کے دام ہی بدل جاتے ہیں یہاں سے وہاں تک پہنچتے پہنچتے۔

اب جناب آپ ہی سوچیے اتنا لمبا سفر چھوٹی سی کھانے پینے اور پہننے کی چیزوں پر کیوں، سامنے ہی تو ہے بس آپ کی نگرانی میں لین دین کر لیں گے، اگر ملکی حالات صحیح ہوجائیں تو، ورنہ کیا ہے کچھ ہی دنوں میں کرتاپور اور واہگہ ویسے ہی کھلنے ہے وہاں سے پہلے بھی کرتے تھے اب بھی کر لیں گے کوئی مسئلہ نہیں جناب۔ ایک اور بات جناب ہمیں اچھی سڑکیں اور یونیورسٹیاں دینے کی تکلیف نہ کیجئے گا۔ بس چھوٹی سی گزارش ہے، آپ سے اب کیا چھپانا آپ تو انَ داتا بن گئے ہیں اس ملک کے۔

جناب یہ جو مائنارٹی/اقلیت والا دھبہ ہے نا اور بھیک میں چیزیں ہمیں دی جاتی ہے، جناب یہ داغ آپ اپنے کومل ہاتھوں سے دھو کر ہمیں دوسرے درجے کے شہری سے دیگر محب وطن کی طرح اول درجے کا برابر شہری بنا دیجئے۔ کیونکہ ہم بھی آپ کے کاندھے سے کاندھا ملا کر چلنا چاہتے ہیں۔ ہماری بھی خواہش ہیں کہ ہم بھی اس ملک کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دیں ایک دو بار ہم بھی وزیراعظم بن سکیں، ہمارے بچے بھی وزیراعظم، صدر پاکستان اور چیف آف آرمی بننے کا خواب دیکھ سکیں۔

اس سے جناب یہ ہوگا یہ جو روز روز ہماری بچیاں اٹھائی جاتی ہیں، بیچاری معصوم سی ہیں کم عمر ہے ان کی، آپ کو تو یاد ہی ہوگا آپ ہی نے تو پچھلی بار اُن دو بہنوں رینا اور روینا کی جبری مذہب تبدیلی پر آواز اٹھائی تھی۔ خیر وہ بچیاں تو چلی گئیں، اگر اب آپ کی مہربانی سے ہم اول درجے کے شہری بن جائیں تو کوئی ہماری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔ جناب بس یہ دو تین کام کر دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ اور ہاں آخر میں ہمارے یہاں کی مٹھائی اور باجرے کی روٹی بڑی مشہور ہے، مکھن کے ساتھ لگا کر کھانا مت بھولنا۔

آپ کا اپنا دوسرے درجے کا شہری۔
راجیش مالھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رمیش کمار کی دیگر تحریریں
رمیش کمار کی دیگر تحریریں