کشمیر: ’میں نے ڈل جھیل کو کبھی اس قدر اُداس اور خوفزدہ نہیں دیکھا‘

ریاض مسرور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا

Getty Images
عالمی شہرت یافتہ ڈل جھیل موسمِ گرما میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کی چہل پہل سے کِھل اُٹھتی تھی مگر اب یہ قبرستان کی مانند لگتی ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں واقع ڈل جھیل کو دنیا بھر میں اس خطے کی پہچان سمجھا جاتا ہے اور یہ عالمی شہرت یافتہ جھیل موسمِ گرما میں سیاحوں اور مقامی لوگوں کی چہل پہل سے کِھل اُٹھتی تھی۔

شہر کے بیچ 25 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی اس جھیل میں دلہن کی طرح سجائی گئی ہاؤس بوٹس اور شکارے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں مگر اب ایک ماہ ہونے کو آیا ہے مگر جھیل پر طاری خوفناک سناٹا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے لیے فضائی حدود کی بندش پھر زیرِغور

آرٹیکل 370 کے معاملے پر سماعت آئینی بینچ کرے گا

عمران خان: برصغیر میں ’ایٹمی جنگ کوئی نہیں جیتے گا‘

آخری ٹرین کے مسافر: ’کوئی نہیں بتا رہا کہ واپسی کیسے ہو گی‘

کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والی انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے اور ریاست کو لداخ اور جموں کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام دو علیحدہ خطوں میں تقسیم کرنے کے تاریخی فیصلے کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں۔

تین ہفتے بعد سکیورٹی پابندیوں میں تو نرمی کی گئی ہے لیکن تعلیمی و تجارتی سرگرمیاں اور مواصلاتی نظام معطل ہے۔ ایسے میں دلکش جھیل ڈل بھی اُداس معلوم ہوتی ہے۔

انڈیا

Getty Images
جھیل پر طاری خوفناک سناٹا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا

شام کے اوقات میں تو یہ جھیل ایک وسیع قبرستان کی مانند لگتی ہے اور اس میں موجود ہاؤس بوٹ ساکت قبروں کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔

اسی جھیل کے شمال میں واقع اور حکومت کی زیر سرپرستی چلنے والا ہوٹل اور کانفرنس سینٹر ’ایس کے آئی سی سی‘ میں ہند نواز رہنما مقید ہیں۔

ڈل

Getty Images

جھیل کے کنارے پہاڑی پر واقع ’ہری نواس‘ میں اکثر حکومت کے اعلیٰ سرکاری مہمان قیام کرتے تھے تاہم اب اس کو بھی سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

’ہری نواس‘ اور چشمہ شاہی کے گیسٹ ہاؤس بھی جھیل ڈل کے مشرقی کنارے پر واقع زبرون پہاڑی سلسلے پر واقع ہیں اور اب ان مقامات کو سرکاری حکم نامے کے تحت ’سب جیل‘ قرار دیا گیا ہے۔

انڈیا

Getty Images
آج نہ ہاؤس بوٹس کے قمقمے روشن ہیں، نہ کناروں پر روشنی اور نہ ہی جمود کے شکار پانی میں حرکت

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ڈل جھیل میں ہاؤس بوٹ مالکان اور شکارا چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ جھیل سنہ 2012 میں سیاحوں، مقامی سیلانیوں اور بچوں کی موجودگی سے چہک رہی تھی تاہم سنہ 2013 میں افضل گورو کی تہاڑ جیل میں پھانسی کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔ ایک سال بعد دلی میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہو گئی اور وادی پھر ایک بار تشدد اور قدغنوں کی گرفت میں آ گئی۔

ڈل

Getty Images
ڈل جھیل اب ایک وسیع قبرستان کی مانند نظر آتی ہے

جھیل کے کنارے ہر شام کشمیر میں باہر سے آنے والے سیاح ٹہلتے اور شاپنگ کرتے نظر آتے تھے، جبکہ مقامی لوگ بھی دائرے کی مانند جھیل کے وسیع کناروں پر دلکش فضاوں سے محظوظ ہوتے تھے۔ آج نہ ہاؤس بوٹس کے قمقمے روشن ہیں، نہ کناروں پر روشنی اور نہ ہی جمود کے شکار پانی میں حرکت۔

جھیل کے کنارے بے بسی سے نڈھال ایک شکارے والے نے اپنا نام بتانے سے انکار کیا اور تصویر کھینچنے سے منع کیا۔ اُن کا کہنا تھا ’میری عمر ساٹھ سال ہے، میں نے اس جھیل کو کبھی اس قدر اُداس اور خوفزدہ نہیں دیکھا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10364 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp