انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: کشمیری نوجوان کو گھر جانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیوں کرنا پڑا؟

ابھیمنیو کمار ساہا - بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علیم سید

FACEBOOK/ALEEM SYEED
چار اگست سے لے کر آئے دن تک علیم سید کی اپنے گھر والوں سے کوئی بات نہیں ہوئی

چار اگست کی شب محمد علیم سید اپنے بھائی سے فون پر بات کر رہے تھے اور گفتگو کا موضوع ان کے بھائی کی شادی تھا جس کی تاریخ 17 اگست تھی۔ علیم سید نے جون میں ہی 14 اگست کی ایئر ٹکٹ بُک کروا لی تھی۔

وہ اپنے بھائی سے شادی کی باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک رات 11 بجے ان کی کال کٹ گئی۔ اس دن چار اگست سے لے کر آئے دن تک علیم کی اپنے گھر والوں سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

پانچ اگست کی صبح انھیں معلوم ہوا کہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور آئین میں درج خصوصی حیثیت کا آرٹیکل 370 ختم ہو گیا ہے۔ اور یہ بھی کہ کشمیر میں موبائل سروس اور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ خبریں بھی موصول ہونا شروع ہو گئیں کہ کشمیر میں تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

‘منقسم کشمیریوں کے لیے اچھی خبر’

کشمیر: ’وہ تھوکتا رہا اور پھر اسے دل کا دورہ پڑ گیا‘

کشمیر:’سب ڈرے ہوئے ہیں،کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا‘

خصوصی ضمیمہ: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

ایک ایسا شخص جو ہر روز اپنے خاندان والوں سے فون پر باتیں کرتا تھا اب کئی روز سے ان سے رابطے میں نہیں ہے۔

علیم سید کشمیر جانے کے خواہشمند ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان والوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جان سکیں مگر پابندیوں کے باعث وہ کشمیر نہیں جا سکتے۔

آخرکار وہ اس مقصد کے لیے ایک پٹیشن کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہیں۔

گذشتہ روز (بدھ) انڈیا کے چیف جسٹس رانجن گوگوئی کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے ان کی استدعا سنی اور ان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ ان کی گھر واپسی اور سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا جائے۔

24 سالہ علیم سید کشمیر کے علاقے اننت ناگ کے رہائشی ہیں اور انھوں نے دلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

ڈگری مکمل ہونے کے بعد علیم کو حال ہی میں ایک نوکری ملی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ گھر جانے کے لیے بے قرار تھے لیکن آرٹیکل 370 کے خاتمے اور وادی کی بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر انہیں نہیں معلوم کہ وہ کشمیر میں اپنے گھر جا بھی پائیں گے یا نہیں۔

’آخری مرتبہ میری گھر والوں سے چار اگست کی رات بات ہوئی تھی۔ اس وقت سے اب تک میں ان سے بات نہیں کر سکا ہوں۔‘

’خبروں میں آ رہا تھا کہ کشمیر میں صورتحال اچھی نہیں ہے اور حالات سنگین ہیں۔ اور اس کے بعد اپنے گھر والوں کی حفاظت کے حوالے سے میری فکر مزید بڑھ گئی تھی۔ اسی وجہ سے میں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ میں نے حال ہی میں قانون کی تعلیم مکمل کی تھی۔ میرا خیال تھا کہ سپریم کورٹ سے مدد لی جا سکتی ہے۔‘

علیم سید

FACEBOOK/ALEEM.SYEED
علیم سید نے انڈیا کی یونیورسٹی سے حال ہی میں قانون کی تعلیم مکمل کی ہے

وہ بتاتے ہیں کہ ’انھوں (ان کے گھر والوں) نے پہلے سے ان حالات کے پیشِ نظر کوئی انتظام نہیں کر رکھا تھا۔ راشن کا بندوبست نہیں کیا گیا اور یہی بات میرے لیے سب سے زیادہ تشویش ناک تھی۔ اگر صرف فون کے ذریعے بات کرنے کی سہولت موجود ہوتی تو شاید میری فکر ختم ہو جاتی۔ لیکن جب میری بات نہیں ہو پائی تو میں فکرمند ہو گیا۔‘

گذشتہ روز انڈیا کی سپریم کورٹ نے کشمیر سے متعلق 14 درخواستوں کی سماعت کی جن میں سے ایک علیم کی تھی۔

ایک دوسری درخواست کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) کے رہنما سیتارام یچوری کی تھی۔ سپریم کورٹ نے انھیں کشمیر میں اپنے ساتھی سے ملنے کی اجازت دے دی ہے۔ سیتارام یچوری نے اپنی سیاسی جماعت کے ایم ایل اے محمد یوسف تریگامی سے ملنے کی درخواست کی تھی۔

عدالت میں حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت سیتارام یچوری کو کشمیر جانے سے نہیں روک سکتی۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’وہ اس ملک کے شہری ہیں اور اپنے دوست سے ملنا چاہتے ہیں۔‘

تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کشمیر صرف اپنے دوست سے ملیں گے اور ان کی ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہو گی۔

جمعرات کو سیتارام یچوری سرینگر پہنچے لیکن انھیں ایئرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا گیا۔

علیم سید

AFP
انڈین سپریم کورٹ نے بدھ کے روز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ علیم سید کی بحفاظت گھر واپسی کو یقینی بنائیں

علیم سید کو سپریم کورٹ کی طرف سے کشمیر جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی کشمیر میں اپنے خاندان کے بارے میں فکرمند ہے تو اسے اپنے گھر ضرور جانا چاہیے۔

عدالت نے علیم کو یہ بھی کہا ہے کہ وہ کشمیر سے واپس دلی آکر اپنے مشاہدات پر مبنی ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی جمع کروائیں۔

علیم کا گھر اننت ناگ میں ہے جو کہ سرینگر سے 55 کلومیٹر دور ہے۔ بگڑتے حالات کے پیش نظر انھیں معلوم نہیں کہ وہ سرینگر سے اننت ناگ اپنے گھر کیسے پہنچیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے 14 اگست کو سرینگر جانے کی ٹکٹ بک کروائی تھی جو بعدازاں منسوخ کر دی گئی۔ مجھے ٹکٹ کی منسوخی کی اطلاع بذریعہ ای میل دی گئی۔‘

’اننت ناگ میں بھی حالات اتنے اچھے نہیں۔ علاقے میں بہت زیادہ تناؤ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں سرینگر پہنچ جاؤں گا لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہاں سے آگے میں اپنے گھر کیسے پہنچوں گا۔‘

’کشمر میں صورتحال پیچیدہ ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہیں جبکہ دوسرے کہہ رہے ہیں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ آدھے لوگ ماحول کو پرتشدد بتا رہے ہیں جبکہ آدھے اسے معمول کے مطابق سمجھ رہے ہیں۔ ان حالات میں کس پر بھروسہ کیا جائے؟‘

علیم نے جمعرات (آج) کی صبح سرینگر کے لیے روانہ ہونا تھا۔

علیم سید

FACEBOOK/ALEEM.SYEED
علیم سید نے جمعرات (آج) کو اپنے گھر اننت ناگ کے لیے روانہ ہونا تھا

کشمیر پہنچ کر وہ اپنے والدین اور دو بڑے بھائیوں سے ملیں گے۔ ان کے والد سرکاری ملازم تھے لیکن اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں۔

انھوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ وہ انڈیا کی حکومت کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے فیصلے کو کیسے دیکھتے ہیں۔

’میں ذاتی رائے نہیں دینا چاہتا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ سب قانون کے مطابق ہو گا۔‘

وہ فی الحال اپنے خاندان کے لیے فکرمند ہیں اور ان سے جلد از جلد ملنا چاہتے ہیں۔

’میرے جیسے کئی لوگ ہیں جو گھر والوں سے بات نہیں کر پا رہے۔ میرے کئی کشمیری دوستوں نے مجھ سے کہا ہے کہ میں ان کے پیغامات ان کے گھر والوں تک پہنچاؤں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10805 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp