صدر ٹرمپ کے بیان پر طالبان کا ردعمل: ’جب تک افغانستان سے قبضہ ختم نہیں ہوتا، امن نہیں آسکتا‘

خدائے نور ناصر - بی بی سی، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک افغانستان سے ’قبضہ‘ ختم نہیں ہوتا، وہاں امن نہیں آسکتا۔

سہیل شاہین کے مطابق امریکی وفد کے ارکان بھی اسی لیے اُن کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تاکہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کا ’قبضہ‘ ختم ہو۔

’اٹھارہ سال ہم نے اسی لیے قربانی دی ہے کہ افغانستان سے امریکی اور بین الاقوامی افواج کا قبضہ ختم ہو، اب اس پر کسی کے ساتھ بھی کوئی معاملہ نہیں کرسکتے۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو فاکس نیوز ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی سطح کو کم کر کے 8,600 کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ ‘ہم وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنے جا رہے ہیں۔ ہم اس موجودگی کو بہت حد تک کم کر رہے ہیں اور ہمیشہ وہاں اپنی موجودگی رکھیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’طالبان امریکہ مذاکرات قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں‘

’گلِے شکوے اور الزامات مگر امن کے نقشۂ راہ پر اتفاق‘

’مذاکرات میں پیشرفت، کچھ معاملات اب بھی حل طلب ہیں‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ’آخری مراحل‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔

دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان نویں دور کے مذاکرات کا آٹھواں روز کم از کم 16 گھنٹے بعد اختتام پذیر ہوا اور آج نماز جمعہ کے بعد 9ویں دن کا آغاز ہوگا۔

دوحہ سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ اُن کی بات چیت کا اہم پہلو یہی ہے کہ امریکی اور بین الاقوامی افواج افغانستان سے نکل جائیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا جمعے کو مذاکرات میں امریکی وفد کے ساتھ صدر ٹرمپ کے بیان پر بات چیت ہوگی؟

سہیل شاہین نے کہا ’ہماری بات چیت اپنے فریم میں جاری ہیں، جس میں انخلا بھی ہے۔ تو جب اس پر بات چیت ہو گی تو اس میں پھر یہ سب کچھ آئے گا۔‘

سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اُن کے درمیان مذاکرات اب آخری مراحل میں ہیں اور بقول اُن کے کچھ دنوں میں تمام نکات پر اتفاق ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا ’اب ہفتوں کی بات نہیں ہے، انشااللہ دنوں کی بات ہے اور مجھے اُمید ہے کہ یہ دور آخری دور ہوگا۔ لیکن اب تک مکمل طور پر تمام ایشوز پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔‘

اس سے پہلے بدھ کو سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور بہت جلد اپنے ’مسلمان‘ اور ’آزادی طلب‘ عوام کو خوشخبری دیں گے۔

امریکہ اور طالبان دوحہ میں پچھلے دس ماہ سے مذاکرات کر رہے ہیں جس میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کی ٹائم فریم کے ساتھ طالبان کو یہ باور کرانا ہوگا کہ افغان سرزمین امریکہ اور اُن کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ دوحہ میں جاری ان مذاکرات کی کامیابی کے فوراً بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔

طالبان ابھی تک اپنے اُس مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ بین الافغان مذاکرات میں افغان حکومت کے ساتھ حکومت کی حیثیت سے بات نہیں کریں گے اور اُن مذاکرات میں باقی گروپس کی طرح افغان حکومت کے نمائندے بھی ایک گروپ کی حیثیت سے شریک ہو سکتے ہیں۔

قطر

Getty Images
امریکی اور طالبان ذرائع کے مطابق دوحہ میں جاری مذاکرات کی کامیابی کے بعد ‘امن معاہدے’ کے لیے الگ تقریب ہو گی

افغان حکومت کا موقف

لیکن افغان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق طالبان کے پاس افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے اور طالبان افغان حکومت کے ساتھ ہی بیٹھیں گے۔

بدھ کو کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدیق صدیقی کا کہنا تھا ’حکومت امن معاہدے کے لیے تیار ہیں اور طالبان جیسی ایک تخریبی گروپ کے ساتھ بھی بات چیت کرے گی۔ طالبان کے پاس بھی افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

افغان صدر کے ترجمان کے مطابق ’افغان حکومت طالبان کی فرمائشیں قبول کرنے کے لیے نہیں ہے اور طالبان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ افغانستان اب بدل چکا ہے۔‘

زلمے خلیل زاد

Getty Images
افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد بدھ کو کابل گئے اور بعد میں انھیں اسلام آباد بھی آنا تھا

امریکی اور طالبان ذرائع کے مطابق دوحہ میں جاری مذاکرات کی کامیابی کے بعد ’امن معاہدے‘ کے لیے الگ تقریب ہو گی جس میں افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے اور وہاں یہ معاہدہ منظر عام پر لایا جائے گا۔

اس سے قبل گذشتہ منگل کو بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکی وفد کے سربراہ اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد بدھ کو کابل کے لیے روانہ ہوں گے اور بعد میں اسلام آباد بھی جائیں گے لیکن زلمی خلیل جمعرات کی رات تک دوحہ میں ہی ان مذاکرات میں موجود رہے۔

امریکہ اور طالبان ایسے وقت میں دوحہ کے ان مذاکرات میں ’آخری مراحل‘ میں پہنچ چکے ہیں، جب افغانستان میں 28 ستمبر کو صدارتی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ کابل میں افغان حکومت کے بعض ذرائع کہتے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ صدارتی انتخابات کے بعد ہوگا۔

اس سے پہلے امریکی اور طالبان ذرائع مذاکرات کے آٹھویں دور کو نتیجہ خیز قرار دے رہے تھے۔ اُس دور کے تیسرے دن کے اختتام پر وفود کی سطح پر مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے لیکن ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان پھر یہ مذاکرات کئی دن اور بھی چلتے رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10775 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp