ننکانہ صاحب: سکھ لڑکی کی شادی جبراً یا پسند کی؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خاتون

AFP
پاکستان کے صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب میں ہندو لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کے الزامات سامنے آ چکے ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں اقلیتی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے چھ افراد پر ان کی جواں سال لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کے بعد ایک مسلمان لڑکے سے شادی کروانے کا الزام عائد کیا ہے۔

تاہم پولیس کے مطابق لڑکی نے لاہور کی ایک عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے قانونِ شہادت کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا ہے کہ ’اس نے بغیر کسی دباؤ کے، اپنی مرضی کے مطابق اسلام قبول کرنے کے بعد محمد احسان نامی لڑکے سے شادی کی ہے۔‘

پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے اس کے بعد لڑکی کو لاہور میں ایک دارالامان میں بھجوا دیا ہے۔

ننکانہ صاحب کے سٹی تھانے میں رواں ماہ کی 28 تاریخ کو منموہن سنگھ نامی شخص کی درخواست پر چھ افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔ منموہن سنگھ نے الزام عائد کیا تھا کہ ان افراد نے ان کے گھر میں گھس کر اسلحے کی نوک پر ان کی بہن جگجیت کور کو اغوا کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے بتایا کہ لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ہے۔ ’اس کی عمر 16 یا 17 سال ہو گی۔ اس کا ابھی شناختی کارڈ نہیں بنا ہوا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’مذہب کے نام پر ہماری بیٹیوں کا ریپ نہ کریں‘

نئے پاکستان کی پرانی ہندو لڑکیاں

’مر جاؤں گی لیکن اپنا مذہب نہیں بدلوں گی‘

اس سے قبل لڑکی اور لڑکے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی جس میں لڑکی کو اسلام قبول کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں تصویر میں وہ نظر نہ آنے والے تیسرے شخص کو بتا رہی ہیں کہ ان کا نیا نام عائشہ رکھا گیا ہے۔

منموہن سنگھ کا مؤقف تھا کہ ’جگجیت کور کو اسلام جبراً قبول کروایا گیا ہے۔ اگر آپ ویڈیو میں دیکھیں تو اس میں بھی وہ سہمی ہوئی نظر آ رہی ہے۔‘

جگجیت کور کے خاندان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کو بازیاب کروائے اور واپس گھر بھیجے مگر منموہن سنگھ کے مطابق ننکانہ پولیس ان کو ٹال رہی ہے۔

پولیس کا کیا کہنا ہے؟

ننکانہ صاحب کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) فیصل شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے منموہن سنگھ کی شکایت پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ یہ بھی معلوم کر لیا گیا تھا کہ لڑکا اور لڑکی اس وقت لاہور میں موجود تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ایک وکیل کی طرف سے ان سے رابطہ کیا گیا جنھوں نے بتایا کہ جگجیت کور نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔

’لڑکی نے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروایا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کے بعد محمد احسان سے شادی کی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ لڑکی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ پولیس انھیں اور ان کے شوہر کو ہراساں کر رہی ہے اور یہ کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ اس کے بعد عدالت نے انھیں دارالامان بھجوانے کا حکم دیا۔

ڈی پی او ننکانہ صاحب فیصل شہزاد کے مطابق لڑکی کی عمر 19 برس ہے اور اس بات کی تصدیق نادرا سے ہو چکی تھی۔ پولیس کے مطابق جگجیت کور کا شناختی کارڈ نہیں تھا تاہم ان کا فارم ب موجود تھا جس کے ذریعے ان کی عمر کا تعین کیا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکا اور لڑکی ایک ہی محلے کے رہائشی تھے۔ ڈی پی او ننکانہ صاحب کے مطابق ’کوشش کی جا رہی ہے کہ سکھ برادری اور مقامی افراد کے قائدین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملے کا حل نکالا جائے۔‘

وزیرِ اعلیٰ کا نوٹس

دوسری جانب صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں صوبائی وزیرِ قانون راجہ بشارت کے علاوہ صوبائی وزیرِ توانائی اختر ملک اور وزیرِ ڈزاسٹر مینیجمنٹ خالد محمود شامل ہیں۔

وزیرِ اعلٰی پنجاب نے کمیٹی کو تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ’کمیٹی کے اراکین لڑکی کے اہلِ خانہ سے رابطہ کر کے حقائق سامنے لائیں۔‘

لڑکی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ اگر لڑکی کو بازیاب نہ کروایا گیا تو وہ پہلے ننکانہ صاحب اور اس کے بعد لاہور میں وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے سامنے احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل رواں برس ہی پاکستان کے صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں سے یکے بعد دیگرے ہندو لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10421 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp