جنگ عظیم دوم: فوجیوں کو کیسے ’بے حس‘ ہونے کی ٹریننگ دی گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی فوجی

Getty Images

سات کروڑ ہلاکتوں والے تاریخ کے خون ریز ترین واقعے، دوسری جنگِ عظیم، کے بعد امریکی فوج ایک عجیب نتیجے پر پہنچی۔۔۔ ہلاکتیں کافی نہیں ہوئیں!

یا شاید یوں کہیں کہ ان کے خیال میں شاید ناکافی امریکی فوجیوں نے جنگ میں حصہ لیا تھا۔

ہر دس فوجیوں میں سے اوسطاً تین یا اس سے کم نے لڑائی کے دوران اپنے ہتھیاروں سے گولی چلائی تھی چاہے ان کا جتنا بھی تجربہ تھا یا ان کی زندگی کو جتنا بھی خطرہ لاحق ہوا ہو۔

US troops advance against Japanese forces during World War Two

Getty Images
کیا جنگ عظیم دوم میں امریکی فوجی اپنے ہتھیاروں کا کم استعمال کرتے تھے؟

یہ بات امریکی فوج کے ایک تجزیہ کار اور تاریخ دان بریگیڈیئر جنرل سیمیول لائیمن ایٹوڈ مارشک نے ملٹری جریدوں میں لکھی جنھیں بعد میں ان کی کتاب ’مِن اگینسٹ فائر‘ میں شائع کیا گیا۔

ان کے کام پر بعد میں بہت تنقید کی گئی اور بہت سے لوگ انھیں بالکل فراڈ قرار دیتے ہیں مگر ایک وقت تھا کہ ان کے انکشافات نے امریکی فوج کی تربیت بدل کر رکھ دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ کون جیتا تھا؟

’فضائی بمباری سے بےمثال تباہی‘

امریکی فوج میں خواجہ سراؤں پر پابندی

گوگل ٹیکنالوجی امریکی فوج کے استعمال میں

مار ڈالنے کا تناسب

جنرل مارسل نے لکھا کہ ’انفنٹری کے کسی کمانڈر کا یہ ماننا درست ہوگا کہ جب لڑائی ہو تو اس کے صرف ایک چوتھائی فوجی ہی دشمن کو کوئی نقصان پہنچائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک چوتھائی کا یہ تناسب تربیت یافتہ اور لڑائی کے منجھے ہوئے فوجیوں کے لیے ہے۔ میرے خیال میں تین چوتھائی فائر نہیں کریں گے۔ انھیں خطرہ بھی ہوگا تو وہ لڑیں گے نہیں۔‘

بعد میں جنرل مارشل نے یہ تناسب تین چوتھائی سے بھی بڑھا دیا۔

مگر کیا وجہ ہے کہ امریکی انفنٹری کے فوجی یورپ اور پیسیفک میدانوں میں فائر کرنے سے اتنا کتراتے ہیں چاہے انھیں خود شدید خطرہ ہو۔

Soldiers marching during the 1940s

Getty Images
مارشل کی تحقیق نے فوجیوں کی ٹریننگ کو بدل کر رکھ دیا

جنرل مارشل کے خیال میں اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ کسی بھی ٹیم میں چند ہی لوگ ہوتے ہیں جو زیادہ تر کام کرتے ہیں اور تہزیبی اعتبار سے امریکیوں میں جارحیت سے خوف پایا جاتا ہے جو انھیں لڑنے نہیں دیتا۔

فوجیوں کو جنگ میں فطری طور پر فائرنگ کرنے کی تربیت کی ضرورت تھی تاکہ وہ نہ جزباتی ہوں نہ ہی زیادہ سوچیں۔

جنرل مارشل نے یہ نتحجہ اخذ کیا کہ امریکی فطری طور پر بہت زیادہ پرامن ہیں اس لیے ایسے طریقے متعارف کروائے گیے جس میں اگلے کو مار ڈالنا ان کی فطرت کا حصہ بن جائے اور ایک فوجی میں سے انسانیت کی محبت نکال دی جائے۔

معروف برطانوی فوجی تاریخ دان سر جان کیگن کا خیال ہے کہ جنرل مرشل کا مقصد صرف تجزیہ کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا ہدف امریکی فوج کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ وہ جنگیں درست انداز میں نہیں لڑ رہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ان کی باتیں نہ صرف موثر ثابت ہوئیں بلکہ انھیں ایک تاریخ دان کی حیثیت سے یہ عجیب موقع بھی ملا کہ ان کے اسباق کو ان کی زندگی میں ہی نہ صرف تسلیم کر لیا گیا بلکہ عمل میں بھی لایا گیا۔‘

امریکی فوجی

AFP
تحقیق کے مطابق امریکی فوجیوں نے ویتنام کی جنگ میں جنگ عظیم دوم کے مقابلے اپنے ہتھیاروں کا زیارہ استعمال کیا

مارشل نے خود دعویٰ کیا کہ ان کی تحقیق کی بدولت فوج نے موثر انداز میں جنگ کی تربیت دی اور فائر کرنے کا تناسب بہتر ہوا۔

انھوں نے کوریائی جنگ میں اپنی تحقیق جاری رکھی اور پتا چلا کہ فائر کرنے والے فوجیوں کا تناسب 55 فیصد تک بڑھ گیا۔

ویتنام کی جنگ میں یہ فائر کرنے کا تناسب اور بھی بڑھ گیا اور ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ 90 فیصد فوجی دوسرے انسانوں پر فائر کرنے لگے۔

میتھڈولوجی

جنرل مارشل نے لڑائی کے بعد انٹرویو کرنے کا طریقہ متعارف کروایا۔

وہ فرنٹ لائن کمپنیوں کا دورہ کرتے (ان کا دعویٰ تھا انھوں نے 400 کمپنیوں سے بات کی) اور پھر ان فوجیوں سے بات کرتے جنھوں نے لڑائی میں شرکت کی۔

فوجی اپنا شناخت ظاہر کیے بغیر بتاتے کہ لڑائی کے دوران انھوں اور ان کے ساتھیوں نے کیا کیا اور ان باتوں کے نوٹس بنائے جاتے۔ البتہ جنرل مارشل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بہت کم یہ نوٹس بعد میں ملے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے کبھی ان فوجیوں کے انٹرویو نہیں کیے جو زخمی ہوئے یا ظاہر ہے جو ہلاک ہوگئے۔

امریکی فوجی

Reuters
بعد میں کچھ فوجیوں کے بیانات نے مارشل کو دیے انٹرویوز متنازع بنا دیے

اس ساری تحقیق سے جنرل مارشل اس نتیجے پر پہنچے کہ امریکی فوجیوں کی زیادہ تر تعداد جرمن یا جاپانی فوجیوں پر فائر کرنے سے گھبراتے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ فوجی مرنے سے نہیں مارنے سے ڈرتے تھے۔

ان واشنگٹن ڈی سی میں جرنیلوں نے ان کی یہ بات سنی۔

تربیت کے طریقے

شروع میں امریکی نشانہ بازوں کو بلز آئی کے انداز کے ایک ہدف پر تربیت دی جاتی تھی۔

مگر اصلی جنگ کی صوتحال سے یہ ماحول بہت کم مماثلت رکھتا تھا اور اس سے فوجی کسی اصل انسان پر گولی چلانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔

ڈارٹس

Getty Images
سال 1940 کی دہائی میں امریکی فوجی ڈارٹس کی مدد سے ہدف طے کرتے تھے

چنانچہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکی فوج نے انسانی شکل کے ہدف تربیتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیے۔

امید کی جا رہی تھی کہ اس سے جارحیت کا خوف ختم ہو جائے گا۔

اہداف مختلف فاصلوں پر لگے ہونے کے بجائے ایک دم سے سامنے آنے لگے اور نشانہ بازوں کو کہا گیا کہ فوری گولی چلائیں تاکہ فطری طور پر ان کا ردِعمل فائر کرنا بن جائے۔

ویتنام کی جنگ تک فوجیوں کے آمنے سامنے ایک دوسرے سے ہاتھوں ہاتھ لڑنا کم ہوتا جا رہا تھا۔ لیکن بندوقوں کی نالیوں پر لگے چھُروں کے استعمال کی تربیت جاری رہی تاکہ دشمن کے خلاف جارحیت قائم کی جا سکے۔ حالانکہ انھیں اس صورتحال کی توقع نہیں تھی۔

امریکی فوج میں نیزے کا استعمال

Getty Images
امریکی فوج میں نیزے کا استعمال اب بھی سیکھایا جاتا ہے

ان تمام طریقوں سے مقصُود یہ تھا کہ جنگ میں بے حسی سے دوسرے انسانوں کو قتل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

امریکی فوج کے میجر ایف ڈی جی ولیمز نے لکھا: ’ان (جنرل مارشل) کے خیالات نے پذیرائی حاصل کی لیکن پھر بھلا دیے گئے۔ درحقیقت مارشل کے مشاہدات اور تجاویز کئی بہتریوں کا باعث بنیں۔‘

تنازعات

لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ میں ہر کوئی مارشل کے کام سے متفق نہیں تھا اور شدید تنقید سے ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

ان کے منتازع نوٹس کے علاوہ کچھ فوجی، جنھوں نے انھیں انٹرویو دیے، نے بعد میں بتایا کہ انھوں نے ان سے کبھی یہ نہیں پوچھا تھا کہ آیا ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا یا نہیں۔

مارشل نے اپنے نتائج کی حمایت میں کوئی شماریاتی تجزیہ بھی نہیں پیش کیا۔

امریکی فوجی

Getty Images
جنگ عظیم دوم پر مارشل کا کام شک کی نظر ہو گیا ہے

کنیڈین مصنف رابرٹ انجن کے مطابق ’یہ ممکن ہے کہ فائرنگ کے تناسب کے اعداد و شمار جنگ سے متعلق مارشل کے نظریات کی وجہ سے من گھڑت ہو۔‘

’مارشل نے جنگی تاریخی میں بہت اچھا کام کیا ہے۔ لیکن وہ علمی سطح پر دور اندیش نہیں تھے اور انھوں نے وہی دیکھا جو وہ دیکھنا چاہتے تھے۔‘

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے کچھ دعوے عملی طور پر غلط تھے۔ جیسے کہ ان کا دعوی کہ انھوں نے جنگ عظیم اول میں فوجیوں کی سربراہی کی اور یہ کہ وہ پوری امریکی فوجی مہم میں سب سے جوان افسر تھے۔

انھیں سنہ 1919 میں افسر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ اور تب بھی انھوں نے صرف یورپ میں حصہ لیا جبکہ ان کا کام محض جنگ ختم ہونے پر فوجیوں کو واپس لانا تھا۔

جنگ عظیم اول فوجی

Getty Images
جنگ عظیم اول میں مارشل کی شرکت پر سوال اٹھائے گئے ہیں

ان کی باتوں سے ریٹائرڈ افسر بھی ناراض ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

مارشل کے نظریے پر ان کی کمپنی کے ایک پرانے سارجنٹ کا کہنا تھا کہ ’کیا انھیں لگتا ہے ہم نے جرمنوں کو لاٹھیوں کی مدد سے موت کے گھاٹ اتارا؟‘

آج بھی معروف ذرائع مارشل کے 15 سے 20 فیصد اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہیں، باوجود اس کے کہ کئی سال پہلے یہ منتازع بن گئے تھے۔

لیکن کوئی اس کی اہمیت پر شک نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے دنیا بھر کے فوجیوں کو مؤثر انداز میں جنگ لڑنا سیکھایا۔

PLEASE DO NOT DELETE – TRACKER FOR [49494897]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10865 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp