سوات: گلوکارہ ثنا مبینہ طور پر بھائی کے ہاتھوں قتل

عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ایک گلوکارہ اور رقاصہ کے قتل کا واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق انھیں ان کے بھائی نے چھریوں کے وار سے ہلاک کیا۔

گلوکارہ ثنا خان کا قتل سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے علاقے بنڑ میں پیش آیا ہے جہاں رہائش پذیر کئی افراد کا تعلق فنکاروں کے گھرانے سے ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ثنا کے چھوٹے بھائی قاسم نے انھیں چھریوں کے وار سے ہلاک کیا۔

مقامی پولیس اہلکاروں کے مطابق ثنا گذشتہ رات ایک تقریب سے واپس گھر آئیں تو گھر میں کسی بات پر تنازع ہوا اور مبینہ طور پر بھائی نے ان پر چھریوں سے وار کیے۔

یہ بھی پڑھیے

سٹیج کی معروف اداکارہ قسمت بیگ کو قتل کر دیا گیا

پشتو گلوکارائیں اپنے ہی گھروں میں عدم تحفظ کا شکار

سوات: گھروں میں رقص اور موسیقی پر پابندی

پشتوگلوکارہ کے قاتل شوہر کو پھانسی کی سزا

پولیس انسپکٹر محمد طارق نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ جمعے کی صبح پانچ بجے پیش آیا جس کے بعد ثنا کو زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا۔

پولیس کے مطابق زخمی ثنا نے پولیس کو واقعے کی تفصیلات بتائیں لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کس بات پر تنازع پیدا ہوا تھا۔ وہ سہ پہر کے وقت زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ثنا کو ان کے بھائی نے منع کیا تھا کہ وہ یہ کام چھوڑ دیں جس پر تنازع پیدا ہوا تھا جبکہ ایک وجہ رقم کی لین دین کا جھگڑا بھی بتایا جا رہا ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ اس بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مقامی افراد نے بتایا ہے کہ ثنا کی والدہ نے فیصل آباد کے رہائشی سے شادی کی تھی لیکن وہ تقریباً 11 سال قبل شوہر سے طلاق لے کر واپس سوات آ گئی تھیں۔

پولیس اہلکاروں نے کہا ہے کہ ثنا کا بھائی زیادہ وقت فیصل آباد میں اپنے والد کے ساتھ رہتا ہے لیکن عید کے دنوں میں وہ سوات آیا تھا۔

رواں سال مئی کے دوران اسی علاقے میں ثنا کی خالہ گلوکارہ مینا کو ہلاک کر دیا گیا تھا جس کا الزام ان کے شوہر پر عائد ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق مینا کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور فی الحال وہ جیل میں ہیں۔

بنڑ کے علاقے میں موسیقی کے فن سے وابستہ کئی افراد رہائش پذیر رہے ہیں۔ یہ لوگ مقامی افراد کی شادی بیاہ اور دیگر خوشیوں کے تہواروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

مقامی صحافی غلام فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں 400 سے 500 ایسے خاندان رہائش پذیر تھے جن کا تعلق فن موسیقی سے تھا۔ لیکن شدت پسندی کے دور میں یہاں سے بیشتر خاندان یا تو دیگر علاقوں میں منتقل ہو گئے یا اس فن سے علیحدگی اختیار کر لی۔

یہ بھی پڑھیے

گلوکارہ کو دھمکیاں اور نیک تمنائیں

’تاخیر سے آنے اور خواتین ڈانسرز نہ لانے پر جگر اغوا ہوئے‘

‘موسیقی کو روکنا عدم رواداری نہیں بربریت ہے’

موسیقی پر پابندی کا دور

جنوری 2009 میں جب سوات میں طالبان اپنے عروج پر تھے تو انھوں نے اس علاقے میں موسیقی پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

اس دوران ایک گلوکارہ اور رقاصہ شبانہ کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ واقعے میں شبانہ کو بنڑ کے علاقے سے گھسیٹ کر سوات کے بازار گرین چوک لایا گیا تھا اور ان کی لاش پر نئے نوٹ، سی ڈیز اور البم سے نکالی گئی تصاویر بکھیری گئیں تھیں۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور دیگر علاقوں میں بھی گذشتہ کچھ عرصے کے دوران متعدد گلوکاراؤں اور اداکاراؤں کو قتل کیا جا چکا ہے جن میں گلوکارہ غزالہ جاوید شامل ہیں۔ گذشتہ سال نوشہرہ میں ریشم نامی گلوکارہ کا قتل کیا گیا تھا۔

مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہاں پچھلے چند برسوں کے دوران موسیقی سے وابستہ 20 فنکاروں اور گلوکاروں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10865 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp