ملحدوں کا حسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا بچپن اور لڑکپن جس گھر میں گزرا، وہ لاہور کی ایک نسبتا نئی آبادی میں تھا۔ گھر خال خال تھے۔ کچھ فاصلے پر آبادی کی سرحد تھی۔ اس زمانے میں آبادیوں کے گرد دیوار بنانے کا رواج نہ تھا تو پرانی اور نئی آبادی کے بیچ حد فاصل کے طور پر بس ایک چھوٹی سی سڑک تھی۔ ہمارے گھر کے سامنے خالی پلاٹوں کا ایک سلسلہ تھا، اس کے بعد وہی چھوٹی سی سڑک اور پھر ایک امام بارگاہ جو کہ اس پرانی آبادی کا گویا مرکز تھی۔

محرم کے دن آتے تو امام بارگاہ سے لاؤڈ سپیکر پر روزانہ ذاکرین کا خطاب شروع ہو جاتا۔ تعزیے برآمد ہوتے، علم نکلتے۔ نوحہ خوانی ہوتی، سجا سنوار کر ذوالجناح کو لایا جاتا۔ ماتم، زنجیر زنی اور قمہ زنی ہوتی۔ یہ سب ہم اپنے گھر کی چھت سے دیکھتے۔ بچپن میں تو اجازت نہیں تھی پر ذرا بڑے ہوئے تو عاشورہ کے جلوس کو قریب سے دیکھنے بھی پہنچ جاتے۔ ہمارا گھر سنی تھا پر والدین نے مسلک کی کبھی بات نہیں کی۔ اس لیے شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی، سلفی، وہابی، اہلحدیث کا فرق بہت عمر تک پتہ نہیں لگا۔

دوست ہر مسلک سے تھے۔ اس میں شیعہ دوست بھی تھے۔ تھوڑے بڑے ہوئے تو ان کے ساتھ جا کر کبھی کبھی مجلس میں بھی بیٹھ جاتے۔ لیکن چونکہ ذہن سازی نہ اس سمت کی تھی نہ اس سمت کی اس لیے مجلس سے کبھی کوئی خاص اثر لے کر نہ اٹھے۔

ٹیلی ویژن پر محرم کے دس دنوں میں مرثیے نشر ہوتے۔ شب عاشور کو کسی نہ کسی مشہور ذاکر کا خطاب ہوتا۔ ابو باقاعدگی سے وہ سنا کرتے، کیوں سنتے تھے، یہ کبھی میں نے پوچھا نہیں اور انہوں نے کبھی بتایا نہیں۔ ساتھ بیٹھتا تھا تو آہستہ آہستہ مجھے بھی عادت پڑ گئی۔ شروع کے چند ایک سال جن ذاکرین کو سنا، انہیں کبھی متاثر کن نہ پایا۔ ہر دفعہ ایک ہی سی باتیں، پھر اس میں بہت سے فوق الفطرت قصوں کی آمیزش ہوتی، ایک ہی طرح کا بیان۔ ایک ہی طرز کی کہانیاں۔ پھر ذکر کی اٹھان، اس کی بنت اور اس کے اختتام میں ہمیشہ ایک تصنع سا لگتا۔ اس سے پہلے کہ شب عاشور کے بیان کو ان وجوہات کی بنا پر سننا چھوڑ دیتے، پی ٹی وی نے علامہ طالب جوہری کو اس رات کے لیے منتخب کر لیا۔

علامہ طالب جوہری کا انداز عام ذاکرین سے سراسر مختلف تھا۔ پھر وہ بڑی منطقی باتیں کرتے۔ عام فہم انداز میں چھوٹے چھوٹے واقعات کو سناتے چلے جاتے، بات سے بات نکل آتی۔ یوں لگتا جیسے کوئی ماہر کاریگر کسی کھڈی پر بیٹھا لفظوں کا پشمینہ بن رہا ہو۔ گرچہ خطاب کا اختتام روایتی انداز میں ہی ہوتا پر گفتگو دل نشین تھی تو جم کر بیٹھتے اور اسے دل سے سنتے۔ کربلا کے میدان سے جڑی سب روایتیں یاد ہوتی گئیں۔ اس میں ظاہر ہے کہ ایک سعی بلیغ اور مبالغہ پروری کا عنصر ضرور ہوتا جو عقیدت میں اس درد سے گوندھا جاتا کہ روایت کی اصل غایت ہی کہیں کھو جاتی۔ وقت گزرا تو مطالعے کی ٹوٹی پھوٹی عادت نے فصاحت اور طلاقت لسانی میں سے اصل واقعہ چننے اور اس میں پنہاں سبق سمجھنے کا ہنر بھی سکھا دیا۔

کسی بھی قسم کی مذہبی رسومات سے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مسلک سے کیوں نہ ہو، مجھے کبھی کوئی خاص رغبت محسوس نہیں ہوئی، ماسوائے عید میلاد النبی کے دنوں میں بننے والے مٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹیلوں سے جنہیں ہم لاہور میں پہاڑیاں کہا کرتے۔ پہاڑیوں کو بنانے والے انہیں ہر سال نت نئے طریقوں سے مزین کرنے کی کوشش کرتے۔ ہر عید پر بہت سی اچھوتی اختراعات دیکھنے کو ملتیں، اس لیے ان سے ہمیشہ ایک دل چسپی قائم رہی۔ بعد میں فلوٹس کا زمانہ آ گیا۔ پھر نعت خوانی اور میلاد پر زور بڑھتا گیا۔ حد یہ ہوئی کہ بے ہنگم قسم کا رقص اور اوٹ پٹانگ موسیقی بھی اس میں در آئی۔ آہستہ آہستہ پہاڑیوں کا کلچر ماند پڑ گیا اور اس کی جگہ ایک عجیب سے طوفان بدتمیزی نے لے لی تو ہمارے دل سے عید میلاد النبی سے جڑی رسومات بھی اتر گئیں۔

عید الفطر میں چاند رات کی آوارہ گردی اور عید کے دن ملنے والی عیدی کے سوا کوئی ایسی چاشنی نہیں تھی۔ اور عید الاضحیٰ پر تو باقاعدہ وحشت طاری ہوتی کہ قربانی گھر میں ہوتی۔ دو چار روز پہلے سے ہر طرف گھر میں چارہ اور مینگنیاں جلوہ دکھاتیں اور عید کے دن خون پانی کی طرح گلی میں بہتا۔ ہر طرف گوشت کی دکان لگ جاتی، اوجڑیاں اور آلائشیں ہر کونے میں بکھری ملتیں اور ایک بساند گویا گھر کے دیوارودر میں بسیرا کر لیتی۔

کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے ثواب کی کمائی اور گناہ کا کفارہ ایک جانور کی گردن سے بھل بھل بہتے خون سے کیونکر وابستہ ہے۔ عید الضحی سے اس لیے کبھی میں اپنے آپ کو جوڑ نہ پایا اور نہ ہی اس سے وابستہ روایات میں مجھے کوئی سبق مل سکا۔ رواداری کا عالم ان دنوں اتنا برا نہیں تھا لیکن پھر بھی کوشش یہی رہی کہ اس پر منہ نہ ہی کھولا جائے سو ان دو تین دنوں میں زیادہ تر میں اپنے کمرے میں ہی بند رہتا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 143 posts and counting.See all posts by hashir-irshad