کشمیر کے بارے میں پانچ عام مغالطے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 کشمیر کی کہانی ہاتھی اور اندھوں کی ایک قدیم کہانی سے ملتی ہے۔ یہ کہانی ہم سب جانتے ہیں۔ مگر پھربھی خلاصہ یہ ہے کہ قدیم ہندوستان کے کسی گاؤں میں آنکھوں کی روشنی سے محروم کچھ لوگوں کو ایک ہاتھی کو چھو کر دیکھنے یا محسوس کرنے کا اتفاق ہوا۔ کچھ دنوں بعد یہ لوگ ایک جگہ مل بیٹھے تو سب نے اپنے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں بتایا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ ہر ایک نے ہاتھی کی جو تصویر پیش کی، وہ دوسرے سے مختلف تھی۔

 آنکھوں کی روشنی سے محروم ہر ایک شخص نے یہ محسوس کیا کہ جب میں نے خود اپنے ہاتھوں سے ہاتھی کو چھو کر دیکھا ہے تو پھر دوسرا شخص کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں غلط ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ دوسرا شخص جان بوجھ کر بد دیانتی سے کام لے رہا ہے، اور ہاتھی کی غلط تصویر پیش کر ہا ہے، یا وہ سنگین غلط فہمی کا شکار ہے۔ ۔ چنانچہ ہر نظر سے محروم شخص کا خیال تھا کہ دوسرا جان بوجھ کر بد دیانتی سے کام لے رہا ہے۔ اور ہاتھی کو اس طرح نہیں بتا رہا ہے جیسا کہ وہ ہے۔

 حالانکہ حقیقت میں ان میں سے ہر ایک ہاتھی کی وہ تصویر پیش کر رہا تھا جو اس نے ہاتھی کے جسم کے کسی ایک خاص حصے کو چھو کر اپنے ذہن میں بنائی تھی۔ ہر کوئی اپنے داخلی تجربے اور نفسی کفییت کا اظہار کر رہا تھا۔ کہانی لمبی اور پرانی ہے، مگر کہانی کا سبق نیا اور سدا بہار ہے، جس کا سامنا ہمیں ہر روز کرنا پڑتا ہے۔ سبق یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں سمجھتا ہے کہ جو کچھ وہ سمجھ رہا ہے وہی مطلق سچ ہے۔ اور دوسرا جو ان ہی بنیادوں پر اپنا سچ بیان کر رہا ہوتا ہے اسے ماننے سے انکار کرتا ہے۔ کشمیر پر اس وق ہمیں اسی صورت حال کا سامنا ہے۔ اس مئسلے کے کئی فریق ہیں۔ سب کا اپنا اپنا سچ ہے۔ سب اپنے سچ پر بضد ہیں۔ اور دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے پر مصر ہیں۔

 بھارت میں کشمیر کو کئی طرح سے دیکھا جاتا ہے۔ بھارتی حکمران مئسلہ کشمیر اور کشمیر کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ عوام اس مئسلے کوبالکل دوسری نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس طرح خودعوام کے اندر نقطہ نظر میں بھی بہت فرق ہے۔ یہ فرق جغرافیائی بنیاد پر بھی ہے اور نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر بھی۔ پانچ اور چھ اگست کے حکومتی اقدامات کی جہاں کچھ لوگ حمایت کر رہے ہیں، وہاں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو ان اقدامات پر سخت ناراض ہیں۔

 اس مسئلے پر جوجذباتی طوفان اٹھا تھا اب گزر رہا ہے۔ لوگ ہیجان کی کیفیت سے نکل کر ان اقدامات پر ٹھنڈے دل سے غور کر رہے ہیں، تو بالکل مختلف طرح کا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ اب جب حکومتی اقدامات پر جو دھیمی دھیمی اور پر مغز گفتگو ہو رہی ہے تو بہت سارے لوگوں کو حکومتی اقدامات کے پیچھے موجود منطق اور دلیل میں کوئی وزن نظر نہیں آتا۔

 اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی آ شکار ہو رہی ہے کہ اس معاملے پر بڑے پیمانے پر مغالطے اور غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ آرٹیکل تین سو ستر کے موضوع پر اتنی گفتگو اور بحث و مباحثے کے باوجود بڑے بڑے دانشور حلقوں اور میڈیاں میں اس پر غط فہمیاں پائی جاتی ہیں، اور غلط معلومات گردش کرتی ہیں۔ غلط معلومات پر مبنی سرخیاں لگتی ہیں۔ اداریے اور کالم لکھے جا رہے ہیں۔ اور ٹی وی شو پیش ہو رہے ہیں۔ یہ جو میڈیا جو کچھ لکھ رہا ہے یہاں دانشور جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا بیشتر حصہ خلاف حقائق ہے، یا غلط معلومات پر مبنی ہے۔

ایک بڑی غلطی یا غلط فہمی یہ ہے کہ آرٹیکل تین سو ستر کو ختم کر دیا گیا ہے، جس کے لیے وسع پیمانے پر لفظ ”ایبروگیٹ“ استعمال ہو رہا ہے، جس کا سادہ مطلب منسوخ کرنا، مٹانا یا ختم کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس آرٹیکل کو ختم یا مٹایا نہیں کیا گیا ہے۔ یہ آرٹیکل ابھی تک موجود ہے، اور بھارتی آئین کا حصہ ہے، اس کو ساکت یا غیر متحرک کیا گیا ہے۔

 بھارتی میڈیا میں جو دوسری بڑی غلط فہمی پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جموں کشمیر کا الگ آئین ریاست میں پسماندگی کی وجہ تھا۔ اور ریاست کی سماجی معاشی ترقی کے لیے یہاں پر بھارتی آئین کا طلاق لازم تھا۔ اس باب میں تین باتیں جاننا ضروری ہے۔ ریاست جموں کشمیر کا آئین کئی حوالوں سے بھارتی آئین سے زیادہ ترقی پسند اور جدید تھا۔ مذہبی رواداری، سماجی و معاشی انصاف کے بارے میں جو دفعات ریاستی آئین میں سن انیس سو چھپن میں شامل کی گئی تھیں وہ بھارتی آئین میں اس سے کوئی بیس سال بعد سن انس سو چہھتر میں شامل کیں گئی۔

 ریاست جموں کشمیر کے آئین میں بھارتی آئین سے بیس سال پہلے یہ تسلیم کیا گیا کہ ریاست جموں کشمیر ایک کثیرالامذہبی، اور کثیر الثقافتی سماج ہے، جس کو چلانے کے لیے مذہبی رواداری پر مبنی سیکولر نظام حکومت کی ضرورت ہے۔ ریاستی آئین میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ ریاست کے اندر سماجی اور معاشی نا ہمواریاں موجود ہیں۔ اور ریاست میں سماجی و معاشی انصاف کے لیے سوشلسٹ معشیت کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح پورے برصغیر میں ریاست جموں کشمیر پہلی ریاست تھی، جس کے آئین میں سیکولرازم اور سوشلزم کو شامل کیاگیا تھا۔

 تیسرا تاثر یہ دیا جا رہاہے کہ کشمیر پر بھارتی آئین کا پورے طریقے سے اطلاق نہیں ہوتا تھا، اس لیے بھارتی آئین کی برکتوں سے کشمیری عوام محروم تھے۔ اور اس وجہ سے بھارت کشمیری عوام کی فلاح و بہبود یا تعمیر و ترقی کے لیے جو کچھ کرنا چاہتا تھا وہ نہیں کر سکتا تھا۔ یہ تاثر حقائق کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ بھارتی آئین کی تقریبا دو سو ساٹھ دفعات کا ریاست پر اطلاق ہوتا تھا۔ مرکز اور ریاست کے درمیان قانون سازی کے اختیارات کی تقسیم کی جو فہرست تھی، اس میں ستانوے امور پر ریاست کو قانون سازی کا اختیار دیا گیا تھا۔ مگر عملی طور پر ان میں سے تقریبا چورانویں امور مرکز ایک ایک کر کہ واپس لے چکا تھا۔

 چوتھا تاثر یہ دیا جا رہا کہ دفعہ تین سو ستر کی موجودگی اور ریاستی آئین کی موجودگی میں بھارت دہشد گردی کے خلاف اور سیکورٹی کے لیے وہ کچھ نہیں کر سکتا جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ مغالطہ دور کرنے کے لیے بھارتی آئین کی مطلقہ دفعات پر ایک نظر ضروری ہے۔ بھارتی آئین کے تحت بھارت میں ہنگامی صورت حال کا اعلان صرف اس وقت کیا جا سکتا ہے جب ملک میں بغاوت ہو یا بیرونی حملہ ہو۔ اور ہنگامی حالات کے نفاز کے بعد بھی انفرادی اور بنیادی انسان حقوق پوری طرح معطل نہیں کیے جا سکتے، اور اگر کسی کی انفرادی آزادی یا حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں اسے عدالتی چارہ جوئی کا اختیار حاصل ہے۔

 جبکہ جموں کشمیر میں بھارت کو بغاوت اور بیرونی حملے کے علاوہ اندرونی خلل یا گڑ بڑ کی صورت میں بھی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار تھا، جس کے تحت ریاستی شہریوں کے بنیادی حقوق معظل ہو جاتے تھے، اور اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اسی اختیار کے تحت امن و مان یا سیکورٹی کے نام پر سیاسی رہنماؤں کو بار بار گرفتار کیا جاتا تھا، اورطویل عرصہ جیلوں میں رکھا جاتا ہے۔

 پانچواں غلط تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے کی وجہ سے کشمیری عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا تھا۔ اور اگر ایک کشمیری عورت کسی غیر ریاستی باشندے سے شادی کرتی تو وہ اپنی ریاست یا حق جائداد سے محروم ہو جاتی تھی۔ یہ بیان حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ حقیقت صرف اتنی تھی کہ اگر کوئی غیر ملکی شخص کسی ریاستی لڑکی سے شادی کرے تو وہ اس لڑکی کی موت کے بعد اس کی جائداد کا وارث نہیں بن سکتا تھا۔

 یہاں لڑکی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں تھا۔ بلکہ غیر ریاستی باشندے کو جائداد کی وراثت سے روکا گیا تھا۔ سن دو ہزار سولہ میں سوشیلہ کیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ لکھتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ اس میں کشمیری لڑکی کے ساتھ کسی قسم کے امتیازی سلوک کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •