کیا اسرائیلی انتخابات کے نتیجے میں ایک آزاد فلسطینی ریاست بن جائے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل میڈیا پر اسرائیل کے بہت چرچے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ انڈیا کو اسرائیل مشورے دے رہا ہے اور کبھی فلسطین اور کشمیر میں مماثلت ڈھونڈی جاتی ہے۔ پاکستان کے چند بڑے دشمنوں کے نام پوچھیں تو اسرائیل کا نام ضرور لیا جائے گا لیکن اسرائیل کے بارے میں ہماری معلومات بہت محدود ہیں۔ بہت کم لوگ اسرائیلی وزیراعظم کا نام جانتے ہیں اگرچہ بنیامن نیتاں یہو (جن کو عام طور پر بی بی کہا ہے ) پچھلے دس سال سے اسرائیلی وزیر اعظم ہیں اور چند ماہ پہلے انہوں نے سب سے زیادہ لمبے عرصے تک اسرائیلی وزیر اعظم رہنے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا ہے۔ اسرائیل میں سترہ ستمبرکو الیکشن ہو رہے ہیں۔ یہ کالم ان انتخابات اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی امید کا ایک مختصر جائزہ ہے۔

اسرائیل میں الیکشن متناسب نمائندگی کے تحت ہوتے ہیں۔ اس نظام میں عام طور پر کسی ایک سیاسی پارٹی کے لئے حکومت بنانا مشکل ہوتا ہے۔ اسرائیل میں ابھی بھی ایک مخلوط حکومت ہے اور الیکشن کے بعد بھی ایک مخلوط حکومت ہی متوقع ہے۔ اس وقت دو بڑی پارٹیاں اور چند چھوٹی پارٹیاں یا اتحاد میدان میں ہیں۔

بی بی کی لیکود پارٹی دائیں بازو کی جماعت ہے جو تجزیہ کاروں کے مطابق کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کی 120 میں سے 30 یا 31 نشستیں جیت سکتی ہے۔ دوسری بڑی پارٹی بھی دائیں بازو کی جماعتوں کا ایک اتحاد ہے۔ بلیو اینڈ وائٹ (جو کہ اسرائیلی پرچم کے رنگ ہیں ) اتحاد 2108 میں وجود میں آیا جس کے لیڈر ریٹائرڈ جنرل بینی گینٹز ہیں۔ جنرل بینی گینٹز 2011 سے 2015 تک اسرائیلی فوج کے سربراہ رہے ہیں اور 2014 میں غزہ پرحملے کے دوران ڈیڑھ سے دو ہزار فلسطینیوں کو مارنے پر فخر کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلیو اینڈ وائٹ بھی کنیسٹ کی 30 یا 31 نشستیں جیت سکتی ہے۔ دونوں بڑی پارٹیوں میں کچھ چیزوں میں اختلاف ہے لیکن فلسطین اور اسرائیلی عرب اقلیت کے بارے میں دونوں کم و بیش ایک جیسا ہی سوچتی ہیں۔ دونوں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیتی ہیں اوراسرائیل کو ایک یہودی ریاست سمجھتی ہیں۔ دونوں دنیا کے سامنے تو دو ریاستی حل، ایک اسرائیلی اور ایک فلسطینی، کے حق میں ہیں لیکن حقیقت میں آزاد فلسطینی ریاست کی مخالف ہیں اور دونوں دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد یہودی بستیوں کو (جو کہ عالمی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہیں ) ختم کرنے سے گریزاں ہیں۔

لیکڈ اور بلیو اینڈ وائٹ میں بنیادی فرق دو ہیں۔ پہلا، لیکڈ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کر کے ایک اپارتھائد (نسلی ریاست) قائم کرنا چاہتی ہے جب کہ بلیو اینڈ وائٹ فلسطینی علاقوں کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا چاہتی ہے جس میں اسرائیل فلسطینی علاقوں پر اپنا کنٹرول رکھے مگر قانونی طور پر اسرائیلی ذمہ دار نہ ہوں۔ دوسرا، لیکڈ اسرائیل میں مذہبی قوانین کے اطلاق کے مخالف نہیں ہیں جبکہ بلیو اینڈ وائٹ ان سے بچنا چاہتی ہے۔

اسرائیل بیٹنیو وہ پارٹی جس کی وجہ سے یہ الیکشن ہو رہے ہیں۔ اسرائیل میں اپریل 2019 میں بھی الیکشن ہوئے تھے۔ لیکڈ اور بلیو اینڈ وائٹ دونوں نے 35 نشتیں حاصل کیں لیکن اسرائیل بیٹنیو کے لیڈر اویگدور لیبرمن (جن کے پاس صرف پانچ سیٹیں تھیں ) نے مذہبی پارٹیوں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے بی بی حکومت نہیں بنا سکے۔ بلیو اینڈ وائٹ کے ساتھ باقی پارٹیاں نہیں تھیں اس لئے ان کے پاس حکومت بنانے کا کوئی موقع نہیں تھا۔

ستمبر کے الیکشن میں تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پارٹی اپنی سیٹیں دوگنی کرے گی۔ اس کی بڑی وجہ بہت سارے اسرئیلیوں کا مذہبی پارٹیوں اور مذہبی قوانین سے ناپسنددید گی ہے اگرچہ وہ اسرائیل کو ایک یہودی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی عوام کے لئے یہ بات سمجھنا آسان ہے کیونکہ وہ بھی پاکستان کو ایک اسلامی ریاست دیکھنا چاہتے ہیں لیکن مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیتے۔ اسرائیل بیٹنیو کی نشستیں دوگنی ہونے کا مطلب ہے کہ لیبرمن پھربادشاہ گر بننے کی پوزیشن میں ہیں۔ بدقسمتی سے لیبرمن بھی آزاد فلسطینی ریاست کے اور مغربی کنارے میں آباد غیر قانونی یہودی بستیاں کو ختم کرنے کے سخت مخالف ہیں۔

شاس اور ”یونائیٹڈ طورہ جودازم“ وہ دو مذہبی جماعتیں ہیں جن کی وجہ سے لیبرمن نے لیکڈ سے اتحاد نہ کیا اور دوبارہ الیکشن کروانا پڑے۔ یہ مذہبی جماعتیں اسرائیل میں مذہبی قوانین یعنی یہودی شریعت نافذ کرنا چاہتی ہیں اور ان کو یہودی مولوی کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ جماعتیں پندرہ نشستیں جیت سکتی ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں بھی آزاد فلسطینی ریاست کے اور مغربی کنارے میں آباد غیر قانونی یہودی بستیاں کو ختم کرنے کی سخت مخالف ہیں۔

یمینہ ایک نئی سیاسی جماعت ہے جو پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔ یہ ان چند جماعتوں کا مجموعہ ہے جو مذہبی تو نہیں لیکن مذہب کے بہت نزدیک ہیں۔ ان کے رہنما مذہبی قوانین پر پورا عمل تو نہیں کرتے لیکن یہودیت کو اسرائیل کی سالمیت کے لئے لازمی سمجھتے ہیں۔ اس اتحاد کی سیاست کی نیرنگی اسی سے واضح ہے کہ اس کی سربراہ ایلیٹ شکید ایک عورت ہے۔ ویسے تو یہودی مذہبی لوگ ہمارے مذہبی لوگوں کی طرح عورت کی سربراہی کے خلاف ہیں لیکن انہوں نے الیکشن میں زیادہ نشستیں جیتنے کے لئے ایک عورت کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ یمینہ کو گیارہ نشستیں ملنے کی امید ہے اور یہ بھی آزاد فلسطینی ریاست کے اور مغربی کنارے میں آباد غیر قانونی یہودی بستیاں کو ختم کرنے کی سخت مخالف ہیں بلکہ یہ لیکڈ کی طرح مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنا چاہتی ہے۔

ان سب جماعتوں کی متوقع نشستوں کو جمع کیا جاتے تو 96 سے 98 بنتی ہیں یعنی کل 120 نشستوں کا اسی فیصد۔ جب اسی فیصد متوقع نشستوں والی جماعتیں آزاد فلسطینی ریاست کے اور مغربی کنارے میں آباد غیر قانونی یہودی بستیاں کو ختم کرنے کے خلاف ہیں تو پھر مسئلہ فلسطین کے حل کی امید رکھنا فضول ہے۔

اس کے علاوہ بھی کچھ جماعتیں ہیں جو دو ریاستی حل کی صحیح معنوں میں حمایت کرتی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ عرب جماعتوں کا اتحاد جسے جائنٹ لسٹ کہا جاتا ہے دس یا گیارہ نشستیں جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیبر پارٹی جس نے اسرائیل پر پہلے تیس سال حکومت کی اب ایک اور جماعت گیشرسے مل کربھی صرف پانچ سے سات نشستیں جیت سکتی ہے۔ ڈیموکریٹک یونین بھی ایک نیا اتحاد ہے جو سات نشستیں جیت سکتا ہے۔ یعنی نئی کنیسٹ میں آزاد فلسطینی ریاست کو 120 میں سے صرف 25 ووٹ ملیں گے۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر راجہ علی سلیم کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر راجہ علی سلیم کی دیگر تحریریں