بڈھے مردوں کو نوجوان لڑکیوں کی آرزو کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر میں اپنی جوانی کے زمانے کوتھوڑا بڑھا سکتی تو میں اُسے 2.3 سال تک تو ضرور بڑھاتی اور میں اُن برسوں میں درج ذیل کام کرنا چاہتی۔

پہلا تو یہ کہ میں زیادہ پارٹیز میں جانا چاہتی اور وہ بھی ”وائلڈ“ پارٹیز میں جن کے بارے میں اب میں سوچتی ہوں کہ مجھے جانا چاہیے تھا جہان جوان لوگ مزے کرنے جاتے ہیں۔

دوسرا میں خود کو فٹ رکھنے کی کوشش کرتی اور مرنے سے پہلے ایک ایب تو ضرور بناتی۔ مجھے اب پتہ چلا کہ یہ جوانی میں بنانا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

تیسرا میں اور زیادہ عاشق ڈھونڈتی اور وہ بھی خوبصورت جسمانی ساخت والے۔

چوتھا میں شاید اپنی پیشہ وارانہ زندگی کو زیادہ وقت دیتی تاکہ میرے پاس زیادہ پیسے جمع ہوتے اور میں اُن پیسوں سے زیادہ پارٹیز پر جاتی یا شاید میں کسی اچھی اور امیروں والے جم کی ممبرشپ لے لیتی اور وہیں شاید مجھے کسی مشین پہ کوئی خوبصورت جسمانی ساخت والا بندہ مل جاتا۔

زیادہ تر مرد عورتوں کے ساتھ تعلقات میں ان 2.3 برسوں کے بارے میں نہیں سوچتے کیونکہ یہ سال تو اُنہیں ویسے بھی مل ہی جاتے ہیں۔ دو تہائی جنسی جوڑوں کے درمیان سال کا فرق تو ہوتا ہی ہے جس میں مرد اپنی ساتھی سے سال یا دو سال بڑا ہوتا ہے۔ شماریات بیورو کے مظابق مجموعی فرق 2.3 سال کا ہی ہو جاتا ہے۔

اب آپ سوچیں گے کہ میری عجیب لسٹ سے ان چیزوں کا کیا تعلق ہے؟ آپ صحیح ہیں کیونکہ اکثر ہمیں یہی کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد زندگی ختم تھوڑی ہو جاتی ہے تو یہ 2.3 سال تو بعد میں بھی جیے جا سکتے ہیں لیکن سچائی یہ نہیں ہے۔ زیادہ تر جوڑے جو بہت زیادہ دیر تک تعلق میں رہتے ہیں اور پھر شادی کرتے ہیں وہ جلدی والدین بھی بن جاتے ہیں اور پھر یہ سالوں کا فرق والدیت میں چلا جاتا ہے۔ اب امریکہ میں ایک باپ کی مجموعی عمر 31 سال جبکہ ایک ماں کی مجموعی عمر 26 سال ہے۔

اس کے ساتھ والدین بننے کا آپ کی صحت، آپ کی پیشہ وارانہ زندگی اور آپ کی پارٹی کرنے کی صلاحیت پر بھی گہرے اثرات ہوتے ہیں اور یہ بھی ستم ہے کہ ان سب کا بوجھ بھی ایک عورت کو ہی اُٹھانا پڑتا ہے نا کہ مرد کو۔ مرد اور عورت کے درمیان جتنا عمروں کا فرق ہو گا اُتنا ہی ایک عورت کو بڑھاپے میں اپنے شوہر کو سنبھالنا پڑے گا۔

ان سب کی تعداد سے گھبرا کر میں نے اپنی والدہ کو ایک ٹیکسٹ بھیجا کہ میرے لئے شادی کے لئے ایک چھوٹی عمر کا لڑکا ڈھونڈیں تا کہ اس فرسودہ روایت کا خاتمہ ہو سکے۔ میری والدہ کا جوابی پیغام آیا کہ عورت مرد سے زیادہ سمجھدار اور پختہ ذہن کی مالک ہوتی ہے۔ ابھی اس پیغام پر میں نے اپنی آنکھیں گھمائی ہی تھیں کہ اُن کا باقی پیغام آیا کہ فرنچ صدر کی شادی ایک انوکھا واقعہ ہے اور ابھی ہم اتنی جلدی کیا کہہ سکتے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

شاید میری والدہ ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں۔ میں نے بھی کچھ جوڑ توڑ کیا اور ایک تیس سالہ شخص کے ساتھ ڈیٹ پر گئی۔ وہ آدمی بروکلین بار میں بیٹھا تھا۔ میں دو سپائسی مارگریٹاز لے کر اُس کے پاس پہنچی تو بات چیت کے دوران میں نے اُس سے پوچھا کہ اُس کو کس کی تلاش ہے؟ اُس کے پوچھا کیا مطلب ہے آپ کا؟ میں نے کہا مطلب آپ کوئی ٹھوس رشتہ چاہ رہے ہیں تو اُس نے کہا نہیں بالکل نہیں میں کسی جلدی میں نہیں ہوں۔ پھر میں نے اُس کی بغیر آستین کی شرٹ کو دیکھا اور میرا دل کیا کہ اپنی ڈرنک اُس پر پھینک دوں۔ میری دوست جون کے مطابق یہ بن بلائے آجانے والے خیال ہیں اور سب کو ہی آتے ہیں۔ تو پھر میں بھی سوچ سکتی ہوں کہ اُس کی شرٹ کو آگ لگ گئی ہے اور میں جھیل کنارے بیٹھی ہوں، اور پرندے ادھر اُدھر اُڑ رہے ہیں۔

اور تو اور ایسے مرد جن کے بال سفید ہونا شروع ہو گئے ہیں اُن سے بھی اس بارے میں بات کرو تو وہ بھی کہتے ہیں کہ اتنی کیا جلدی ہے۔

Liam neeson – Frances Mc Dormand

اس تکبر اور غرور کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہ کہ اُن کو لگتا ہے کہ اُن کا سپرم تو لمبے ٹائم کے بعد بھی خراب نہیں ہو گا اور دوسرا کہ اگر وہ چاہیں تو اُن کو اپنے سے چھوٹی عمر کی لڑکی آسانی سے مل سکتی ہے۔ چلیے ثبوتوں کے ساتھ ان دونوں مثالوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں آدمی کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کے بارے میں۔ تو میں اُن کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ اُن کا سپرم لافانی نہیں ہے۔ ایک تحقیق میں 8,559 حمل زیرِ غور آئے تو پتہ چلا کہ ایک سال کے دوران 40 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں conception کے چانسز تیس سال کے مردوں کے مقابلے میں تیس فیصد کم تھے۔ اب دراصل بات یہ ہے کہ سائنسدان عورت کے ماں بننے یا نا بننے کے اوپر تو بہت سی تحقیقات کرتے ہیں لیکن مردوں کے بارے میں ایسی تحقیقات بہت ہی کم ملتی ہیں اور اُن تحقیقات میں بھی اس نقطے کو مکمل فراموش کر دیا جاتا ہے کہ مرد کی عمر عورت سے زیادہ ہوتی ہے کئی دفعہ تو کافی زیادہ۔ اب اس پر تو تحقیق ہوتی ہے کہ عورت تیس سال سے اوپر ہو تو ماں بننے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جبکہ یہ حقیقت فراموش کر دی جاتی ہے کہ بھئی اُس کا شوہر ہو سکتا ہے کہ چالیس سے بھی اوپر ہو اور چھوٹی عمر کی عورتوں کے ساتھ ڈیٹ کر رہا ہو۔ ایسی سورت مین عورت کو اپنے آپ کو کوسنے کی بجائے کوئی ڈھنگ کا مرد ڈھونڈنا چاہیے۔

اب دوسری بات وہ یہ کہ آدمی کو اپنے سے چھوٹی عمر کی لڑکی آسانی سے مل جاتی ہے تو اس معاملے میں مرد کافی حد تک درست ہیں۔ میں یہ بات صرف سینسس بیورو سے اکٹھا کی گئی معلومات کے بھروسے نہیں کہہ رہی بلکہ میں نے OkCupid ’s سے بھی اس بارے میں معلومات لیں کہ عورتیں کس طرح کے مرد چاہتی ہیں۔ اس ڈیٹنگ سائٹ کی تحقیق سے پتہ چلا کہ زیادہ تر بات چیت ایک بڑی عمر کے مرد اور جوان خاتون کے درمیان ہوتی ہے جہاں پر دونوں کی عمروں میں کم از کم پانچ سال کا فرق تھا۔

ہاں اس بارے میں مرد غلط ہو سکتے ہیں کہ وہ جتنا چاہیں اُتنی چھوٹی عمر کی عورت اُنہیں مل جائے گی۔ OkCupid ’s کے ڈیٹا کے مطابق ہی جو مرد پچاس کے قریب ہوتا ہے وہ بھی 24 سال کی لڑکیوں کی پروفائل چیک کرتا نظر آتا ہے۔ اب 50 سال کے مردوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اُن کو ایک 23 سال کی لڑکی مل سکتی ہے؟ شاید اس میں غلطی ٹی وی اسکرین کی ہے۔ نیو یارک میگزین نے جب 10 پیشہ ور بزرگوں پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اُن کی عمروں میں اضافے نے اُن کی آن سکرین محبت پہ کوئی اثر نہیں ڈالا۔

liam neeson – Olivia Wilde

اب  Liam Neeson پر ہی نظر ڈالیں۔ 1990 میں اُنہوں نے  Frances McDormandکے ساتھ کام کیا جو اُن سے پانچ سال چھوٹی تھیں اور جب 2013 میں Liam Neeson نے ”تھرڈ پرسن“ میں کام کیا وہ 61 سال کے تھے اور اُن کی ہیروئن 29 سالہ اولیویا وائلڈ تھیں۔

ہم معاشرتی طور پر ایسا سوچتے ہیں کہ مرد شراب کی طرح ہوتا ہے، جتنا پرانا اُتنا اچھا۔ جبکہ عورت شاید پنیر کی طرح اس لئے وقت گزرنے ساتھ وہ خراب ہو جاتی ہے یا اُس میں سے بدبو آنی شروع ہو جاتی ہے۔ اب میں خود بھی کیا کروں اگر مجھے جارج کلونی اچھا لگتا ہے جسٹن بیبر نہیں حالانکہ جسٹن مجھ سے 7 سال چھوٹا ہے اور کلونی مجھ سے 26 سال بڑا ہے۔

آپ کو لگ رہا ہے کہ میں کچھ ناراض ہوں؟ میں جب نہا کر نکلتی ہوں میں اپنے جسم کو آئینے میں دیکھتی ہوں اور مجھے نظر آتا ہے کہ گھٹنوں پر سے میری جلد لٹکنا شروع ہو گئی ہے۔ میں انتخاب نہیں کر پا رہی کہ اکیلی رہوں یا ایک بڑی عمر کے آدمی کے ساتھ تعلقات استوار کروں جس کے گھٹنے میرے گھٹنوں سے بھی زیادہ ڈھلکے ہوئے ہوں۔ اب ایسے مرد کے ساتھ شادی سے تو مرنا بہتر ہو جو اُسی رفتار سے بوڑھا ہو رہا ہے جس رفتار سے میں خود۔

میں اپنے جیسی تمام عورتوں سے چاہتی ہوں کہ وہ میرے ساتھ حلف لیں کہ ہم اس فرسودہ روایت سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑاتے ہیں اور اپنے ہم عصروں کو اپناتے ہیں۔

ہاں ہاں میں سمجھتی ہوں کہ یہ آسان نہیں کیونکہ شاید ہمیں جوان مرد ہی پسند آتے ہیں۔ ہم اُن کی بغیر آستین کی قمیضیں دیکھ کے جل جل جاتے ہیں، یا شاید وہ بغیر بیڈ شیٹ کے بستر ہمیں پسند ہیں لیکن یہ ایک بے لگام خود غرضی ہے۔ لیکن تبدیلی تو ہمیں لانی ہے میری بہنو اپنے لئے نہیں تو آنے والوں کے لئے۔ میں تو قسم کھاتی ہوں کہ کسی ڈیٹنگ پول سے کوئی بوڑھا مرد نہیں چنوں گی اور شاید ایسا کر کے ہم ایک اچھے مستقبل کے منہ پر طمانچہ مار رہے ہوں لیکن ایسا کرنا پڑے گا۔ مردوں کو سمجھانا پڑے گا کہ وقت بہت قیمتی ہے اس لئے اسے کسی کو عطیہ نہیں کیا جا سکتا، اس لئے میں اپنے 2.3 سال کسی کو نہیں دوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مونا چالابی کی دیگر تحریریں
مونا چالابی کی دیگر تحریریں