عابد علی: بسنتی کا خوشی محمد رخصت ہوا

نازش ظفر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواہش کے سیٹ پر بسنتی کو خوشی محمد نے یہ تک بتایا کہ’ لال بتی جل رہی ہو تو سمجھو کیمرہ تم پر ہے۔’

سیمی راحیل سے ان کے ساتھی اداکار عابد علی کے رخصت ہونے کی تعزیت کرو تو وہ کہتی ہیں وہ میرا دوست ہی نہیں استاد بھی تھا۔

’خواہش’ پاکستان ٹیلی ویژن کے ان ہی دنوں کے ڈراموں میں سے ایک ہے جب آٹھ بجے گلیاں سونی ہو جاتی تھیں اور پورا خاندان ٹی وی سیٹ کے آگے براجمان ہوتا تھا۔

اصغر ندیم سید کے لکھے ہوئے اس ڈرامے میں ٹرک ڈرائیور خوشی محمد گڑوی والی پکھی واس بسنتی پر مرتا تھا اور ناظرین ان دو کرداروں کی ہر ادا پر فدا تھے۔ خوشی محمد بسنتی سے کہتا ’تو گانا چھوڑ دے’ اور بسنتی اترا کر جواب دیتی ’تو ڈرائیوری چھوڑ دے گا جو میں کہوں۔‘

کوئٹہ میں پلے بڑھے عابد علی نے سڑک چھاپ دیہاتی ٹرک ڈرائیور کو اس کے مخصوص ہندکو لب و لہجے کے ساتھ کمال نبھایا۔ ان کے برجستہ ’جُل او جُل’ اور ’وئے پاغلا’ میں وہی ٹرک اڈے والی چائے کی کڑک تھی جس کا مزہ اردو ڈرامے کا ہر شائق آج بھی لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’روحی بانو خوش قسمت اداکارہ، بدقسمت انسان‘

’خواہش’ میں خوشی محمد کی بسنتی، اداکارہ سیمی راحیل اصل زندگی میں ان کی دوست رہیں اور خود کو اداکاری میں ان کا شاگرد بھی مانتی ہیں۔ عابد علی کی رخصت ہونے کے بعد انھیں یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’عابد علی ایک اداکار نہیں، ایک فنکار تھا۔ بے حد ذہین، حساس اور کام سے لگاؤ رکھنے والا۔ ایک دھیما اور خوش مزاج انسان۔‘

سیمی راحیل نے کیرئیر میں سب سے زیادہ کام عابد علی کے ساتھ ہی کیا۔ کچھ یادیں بانٹتے ہوئے سیمی راحیل نے بتایا ’ہوا پہ رقص’ کی شوٹنگ کے دوران اکثر وہ چھپڑ کے نیچے چارپائیاں ڈال کر سوئے۔ اور کس طرح ڈرامہ ’دوریاں’ کی شوٹنگ کے دوران ایک سین کے لیے عابد علی نےانھیں تھپڑ مارنا تھا لیکن دونوں کی ہنسی پھوٹ پڑتی۔‘

ریڈیو پاکستان سے کیرئیر کے آغاز کے بعد عابد علی نے سنہ 1973 میں پی ٹی وی کے ڈرامے جھوک سیال میں سب سے پہلے اداکاری کی اور اس کے بعد سرکاری اور نجی چینلز کے لیے درجنوں ڈرامے کیے۔ وارث، دشت، پنجرہ، آنگن، مہندی جیسے ڈرامے جس جس نے دیکھے، انھیں یاد رکھا۔

ہم ٹی وی کے پیریڈ پلے آنگن کے لکھاری مصطفی آفریدی جو خود عابد علی کے مداح ہیں، کہتے ہیں کہ عابد علی، قوی خان کا مداح تھا اور کہتا تھا کہ قوی خان کے سامنے کام کرتے آج بھی ڈرتا ہوں۔ انھوں نے ریکارڈنگ کا ایک قصہ یوں بتایا کہ عابد علی میں سادگی اس قدر تھی کہ ایک سیٹ کے لیے آرائشی سامان خود اپنے گھر سے لے آئے۔

عابد علی نے اداکاری کے ساتھ ہدائیتکاری بھی کی اور کئی فلموں میں بھی کام کیا۔ ان کی آخری فلم ’ہیر مان جا’ میں ان کی ساتھی اداکارہ حریم فاروق کو وہ ایک خاموش انسان کے طور پر یاد ہیں۔ حریم کہتی ہیں وہ چپ چپ ضرور تھے لیکن ان کی حس ظرافت بلا کی تھی۔

’وہ سیٹ پر اپنے ماضی کی باتیں کرتے اور ہر بات میں ہمارے لیے سیکھنے کے کئی کئی پہلو ہوتے۔’

اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت ہدائیتکار اور پیش کار انھوں نے فن کا نیا باب کھولا۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ پہلے ہدائیتکار ہیں جنھوں نے ڈرامے میں کہانی اور موسیقی کی بُنت پر کام کیا اور چھوٹی سکرین پر میوزیکل متعارف کروایا۔ ڈرامہ’دشت’ اسی کی مثال ہے۔

عابد علی اس ہفتے علالت کے بعد دنیا کو خیرباد کہہ گئے۔ لیکن فنکار کے جانے کے بعد فن زندہ رہتا ہے۔ جسے ان کے ساتھی، ناظرین اور ناقدین آج بھی انھیں دلجوئی سے یاد کر رہے ہیں۔

سیمی راحیل کہتی ہیں وہ عموماً ذاتی زندگی کے بکھیڑوں پر بات نہیں کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ عابد علی، سیمی راحیل سے اپنا آپ چھپا بھی لیتا، لیکن خوشی محمد اپنے آپ میں گھل رہا تھا۔ یہ بسنتی سے چھپا کیسے رہ سکتا تھا۔

’پی ٹی وی پر کیے ان کے ساتھ آخری ڈرامے ’سحر’ میں میں نے دیکھ لیا تھا کہ وہ خاموش ہو گیا ہے، جیسے اب وہ یہاں سے جانا چاہتا ہو۔’

پھر خوشی محمد چلا گیا۔ لیکن بسنتی کی گڑوی میں اس کا کڑک چائے جیسا لہجہ اب کھنک بن کر رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp