کشمیر کہانی۔ ۔ ۔ ( 23 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب نہرو ایک اور بڑی مشکل میں پھنسا ہوا تھا۔ جب ہندوستان اور پاکستان اپنی پہلی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے، اسی وقت نہرو اپنی دو محبوباؤں کے درمیان پھنس چکا تھا۔

پدما کو پہلے سے پتا تھا کہ نہرو لیڈی ایڈونا سے پینگیں بڑھا رہا ہے لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا جب وہ تیار ہو کر بیٹھی ہو گی کہ نہرو اسے شادی کے لیے پروپوز کرنے آرہا ہے تو وہ گوری محبوبہ کو بھی ساتھ لے آئے گا۔ نہرو کو بھی اندازہ نہ تھا پدما یہ ردعمل دے گی اور لیڈی ایڈونا سے ملنے سے انکاری ہوکر خود کو کمرے میں بند کر لے گی۔

نہرو، اندرا اور پدما میں ایک بات مشترک تھی۔ تینوں نومبر میں پیدا ہوئے تھے۔ نہرو چودہ نومبر، اندرا انیس نومبر اور پدما سترہ نومبر۔ تینوں کا برج Scropio تھا، لہٰذا تینوں کی برتھ ڈیز ایک ہی ہفتے میں ہوتی تھیں۔ پدما نومبر شروع ہوتے ہی حیدرآباد سے دہلی آجاتی تھی تاکہ وہ اگلے بیس دن میں تین برتھ ڈیز منا سکے۔ اندرا کو پدما کا ان کے گھر ٹھہرنا برا لگتا تھا، لیکن وہ باپ نہرو کے آگے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

پدما دراصل سروجنی نائیڈو کی بڑی بیٹی تھی۔ سروجنی کمال سیاستدان خاتون تھیں۔ قد چھوٹا لیکن دل بہت بڑا تھا۔ عام لوگوں سے محبت سے پیش آتی تھیں۔ میٹھی چیزیں اور بہترین کھانے ان کی کمزوری تھی۔ ایک آزاد خیال خاتون جس کا دل عام انسانوں کے لیے محبت اور اخلاق سے بھرا ہوتا تھا۔ جب اس کی چھوٹی بہن کی اپنے خاوند سے علیحدگی ہو گئی تو سروجنی نائیڈو نے اپنے برادر ان لاء کا ساتھ دیا کہ اس کی بہن بہت زیادتی کرتی ہے۔

گاندھی جی کے اصرار پر سروجنی نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بھائی چٹو کے خلاف دہشت گردی کے الزام پر بیان دیا، جس پر اس کا باپ بھڑک اٹھا تھا کہ ایک بہن کیسے اپنے بھائی پر دہشت گردی کا الزام لگا سکتی ہے۔ اس کے باپ نے کہا کہ وہ آج سے اس کے لیے مر گئی۔ جب وہ بستر مرگ پر تھا تو سروجنی باپ سے آخری دفعہ ملنے گئی لیکن باپ نے انکار کر دیا، جس کا دکھ سروجنی کو مرتے دم تک رہا۔ سروجنی اور اس کی تین بیٹیوں پر حیدرآباد دکن کے نوابی کلچر کے اثرات زیادہ تھے، لہٰذا سروجنی اور اس کی بیٹیوں کا جھکاؤ ہمیشہ مسلمانوں کی طرف رہتا تھا۔ جب انیس سو چھیالیس میں نہرو کانگریس کا صدر بنا، تو گاندھی نے نہرو کو کہا کہ وہ سروجنی کو ورکنگ کمیٹی میں شامل مت کرے کیونکہ برطانوی حکومت کے ساتھ اہم مذاکرت شروع ہونے والے ہیں اور وہ اندر کی باتیں باہر بتا دے گی۔ کسی اور کو ممبر بنا لیا گیا۔ سروجنی کچھ عرصہ اس سلوک پر ناراض رہی۔

جب ہندوستان آزاد ہوا تو سروجنی نائیڈو کابینہ کا وزیر بننے کی پہلی چوائس پر پورا اترتی تھی؛ تاہم یہ سمجھا گیا کہ وہ اب بوڑھی ہورہی ہے لہٰذا بہتر ہوگا اسے یوپی کا گورنر بنا کر بھیج دیا جائے، اور وہ بہتر گورنر ثابت ہوئی۔ اگرچہ وہ زیادہ عرصہ گورنر نہ رہی کیونکہ وہ جلد ہی فوت ہوگئی تھی۔

ایک انسان کے طور پر وہ اتنی اچھی تھی کہ ایک دفعہ نہرو حیدرآباد گیا تو اس (نہرو) کے پرانے ذاتی ملازم ہری کا اتنا خیال رکھا کہ سب حیران رہ گئے۔ اپنے اے ڈی سی کے ساتھ وہ خود نہرو کے ذاتی ملازم ہری کے کمرے میں گئی۔ اس (سروجنی نائیدو) نے خود مٹھائی کا ٹوکرا اٹھایا ہوا تھا جبکہ اس کا اے ڈی سی پھل اٹھائے ہوئے تھا۔ اس نے مٹھائی اور پھل ہری کو دیے۔ ایک بڑے کردار اور ظرف کی خاتون ہی یہ کام کرسکتی تھی۔ ایک اچھی ماں اور مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ سروجنی نائیڈو ایک شاعرہ بھی تھیں۔ اچھے حسن سلوک کی حامل اس خاتون کو بھارت کی بلبل کہا جاتا تھا۔

اب اسی سروجنی نائیڈو کی بیٹی پدما نہرو کے ساتھ رومانس چلا رہی تھی۔ وہ اپنی ماں سے مختلف تھی۔ نہرو، پدما سے گیارہ برس بڑا تھا۔ وہ خود کو توپ چیز سمجھتی تھی اور اپنے لیے Black Princess کا لقب پسند کرتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ وہ بہت خوبصورت ہے، کوئی اور لڑکی اس جیسی نہیں اور ہر مرد اس کی محبت میں گرفتار ہے۔ جوانی کے آغاز کے دنوں میں اس نے خود کو یقین دلایا ہوا تھا کہ نواب سالار جنگ اس کی محبت میں گرفتار ہے۔

اگر نواب صاحب کسی اور خاتون کی طرف نظر بھی ڈال لیتے تو وہ سخت ناراض ہو جاتی۔ آخر نواب صاحب نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو نواب کرتے ہیں۔ پدما نے ایک روٹین بنا لی تھی کہ وہ نہرو کے گھر الہ آباد میں ہوتی تھی اور بعد میں دہلی تو وہ اصرار کرکے نہرو کے ساتھ والا بیڈ روم لیتی تھی۔ اسے اپنی جسمانی ساخت پر بڑا فخر تھا اور کبھی کبھار جان بوجھ کر وہ اپنی ساڑھی کا اوپر والا پلو نیچے گرنے دیتی تھیں تاکہ دیکھنے والوں کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ جائے۔ وہ اکثر اس طرح سانس اوپر نیچے کرتی رہتی تھی۔

نہرو کی بیٹی اندرا کو یہ سب باتیں پسند نہیں تھیں اور اس نے نہرو کے سیکرٹری کو کہا تھا کہ اسے اچھا نہیں لگتا، پدما اس کے باپ کے ساتھ ہر جگہ پائی جاتی ہے، اس کا کچھ حل نکالو۔ سیکرٹری نے اسے کہا: تم خود اپنے باپ نہرو کے ساتھ ری پبلک ڈے پر گاڑی میں نہ بیٹھ کر جایا کرو۔ تم اپنے لڑکوں راجیو اور سنجے کو نانا کے ساتھ گاڑی میں بھیجا کرو جبکہ گاڑی میں تم پدما کے ساتھ جایا کرو۔ پدما اندرا کے ساتھ بیٹھ کر جانے کو ناپسند کرتی تھی۔

انیس سو اڑتالیس کے الیکشن میں پدما حیدرآباد سے الیکشن جیت گئی۔ وہ سیدھی وہاں سے وزیراعظم ہاؤس وارد ہوئی اور اس نے اپنے لیے ایک کمرے پر قبضہ کر لیا جو نہرو کے بیڈ روم کے ساتھ تھا۔ وہ مستقلاً وزیراعظم ہاؤس میں رہنے پر مصر تھی؛ تاہم بہت جلد اس مسئلے کا حل نکالا گیا، جب اسے بتایا گیا کہ لیڈی ماؤنٹ بیٹن دورے پر آرہی ہیں۔ لیڈی ماؤنٹ بیٹن کے آنے سے چند روز پہلے وہ وہاں سے شفٹ ہوئی۔ لیڈی ماؤنٹ بیٹن کے آنے سے چند دن پہلے، پدما نے اندرا کو کہا کہ وہ اسے لیڈی ماؤنٹ بیٹن اور اس کے باپ نہرو کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کی کاپیاں دینا چاہتی ہے۔

پدما نے اندرا کو یہ بھی بتایا کہ وہ خودکشی کا سوچ رہی ہے۔ اندرا نے پریشان ہو کر نہرو کے سیکرٹری کو یہ بات بتائی۔ سیکرٹری نے اسے اپنے گاؤں کا واقعہ سنایا: ایک عورت اپنے خاوند سے لڑ کر گھر سے یہ کہہ کر نکلی کہ وہ دریا میں کود کر جان دینے جا رہی ہے۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ وہ لوٹی اور چھتری لے کر دریا کی طرف بھاگ گئی۔ اس کا خاوند ہنستا رہا۔ وہ کچھ دیر بعد لوٹ آئی اور شکایت کی کہ اس نے روکا کیوں نہیں؟ خاوند بولا: جو دوسروں کو بتاتا پھرے کہ وہ خود کشی کرنے لگا ہے، وہ دراصل ایسا کرتا نہیں۔ یہ کہہ کر سیکرٹری نے مشوریہ دیا کہ اندرا بھی پدما کا حوصلہ بڑھائے کہ اچھا ہے وہ خودکشی کر لے۔

لیڈی ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ ہو چکا تھا کہ نہرو کا پدما سے افیئر چل رہا ہے۔ ایک دن لیڈی ایڈونا نے پدما کو پیغام بھیجا کہ وہ اس سے ملنا چاہتی ہے۔ لیکن پدما نے، جو خود کو توپ چیز سمجھتی تھی، گورنر جنرل کی بیوی کو ملنے سے انکار کر دیا۔ جب لیڈی ماؤنٹ بیٹن لندن لوٹ گئیں تو پدما نے نہرو کے سیکرٹری کو کہا: یہ نہرو ایک عورت پر مطمئن ہونے والا بندہ نہیں ہے۔ سیکرٹری ہنس پڑا اور کہا: آپ کو اتنے برس لگ گئے یہ راز جاننے میں۔ ایک سال بعد پدما نے نہرو کے کمرے میں لیڈی ایڈونا کی دو پوٹریٹ تصویریں دیکھیں تو اسے غصہ آیا۔ اس نے نہرو کے بیڈ کے سامنے اپنی تصویر لگوائی جہاں سوتے وقت نہرو کی نظر پڑتی رہے۔ جونہی پدما دہلی سے گئی نہرو نے وہ تصویر اتروا دی۔

اس دوران جب گوندہ وزیرداخلہ بنا تو اس نے تجویز دی کہ اس کی جگہ پدما کو گورنر بنا کر بھیجا جائے تو بھارتی صدر اور دیگر نے بھی تجویز کو سپورٹ کیا اور آخر نہرو کو یہ آئیڈیا دیا گیا۔ اس پر نہرو کی بہن کرشنا نے نہرو کے سیکرٹری کو خط لکھا: تو میرے بھائی صاحب اس خاتون کو اس کی ”خدمات“ کا معاوضہ دے رہے ہیں۔

پدما ایک اچھی گورنر ثابت ہوئی اور دس سال مغربی بنگال کی گورنر رہی۔ وہ ہندو اور مسلمان میں فرق نہیں رکھتی تھی لہٰذا لوگ اسے پسند کرتے تھے اور وہ ہر مسئلے کا حل نکال لیتی تھیں۔ سب کہتے تھے : اگر ہندوستان میں کوئی پکا ”لاٹ صاحب“ تھا تو وہ پدما تھی۔ نہرو کی موت کے بعد پدما کا دل ٹوٹ گیا اور اس نے مغربی بنگال کی گورنرشپ چھوڑ دی۔ (جاری)
بشکریہ دنیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •