دیپ جلتے رہے (قسط 19 )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سمجھ گئے کہ انجکشن میں جو تاخیر ہو ئی اس سبب گجو بھا ئی کے تو مزے آگئے، پر ہمیں بڑے ”مزے“ آنے والے ہیں۔ ہمارے دیور تو دہری خوشی کے ساتھ روانہ ہو گئے اور ہماری جان پر بن گئی۔ ان سے انجکشن کے لیے کہا تو فرمایا ”اب کچھ نہیں ہو گا بابا نے خاص میرے لیے نسخہ تیار کیا ہے۔ میری طبیعت اور گھر کے حالات سب ٹھیک ہو جائیں گے۔ یہ انجکشن ونجکشن سب ختم ہو جا ئے گا تم دیکھنا۔“

گجو بھا ئی کو شادی کا بڑا شوق تھا۔ اورپتہ نہیں کیوں ہربقرعید سے پہلے انہیں شادی کی دھن سوار ہو جاتی۔ گھر بھر کو وارننگ دیتے پھرتے۔ ”بھینس کاتی آوو، ہمو شادی نئیں اچھا نئیں۔“ احمد سے پوچھا تو بتا یا کہ ان کا مطلب ہے ”بقرعید آنے والی ہے اگر اس بار ہماری شادی نہیں ہو ئی تو اچھا نہیں ہو گا۔“

ہمیں حیرت تھی کہ کون لوگ ہیں جو اپنی بیٹی گجو بھائی کو دینے پر آمادہ ہو گئے۔ کیوں کہ وہ کماتے بھی اپنی جان بھر تھے اور ان کے رہنے کا بھی ٹھکانہ نہ تھا۔ دلہن کو کہاں رکھیں گے اور کھلا ئیں گے کہاں سے۔

گجو بھا ئی کو پیدا کرنے والی تو جانے کب مٹی اوڑھ کر سو گئی تھی، پر گجو بھائی جاگ میں بھی مٹی اوڑھے رہتے تھے۔ دائمی نزلے کے مریض، کولڈ الرجی یا کاہلی کے باعث نہانا چھوڑ چکے تھے لیکن پانی یخ پسند کرتے تھے۔ ان کے اندر اظہار کی صلاحیت صرف بات کرنے کی حد تک کم تھی، ورنہ خواہشات اور جذبات کے اظہار کے بے ڈھنگے استعمال پر ایک دو بارمحلے میں پٹ بھی چکے تھے۔

کئی جگہ یتیم، غریب، گو نگی، بہری، اور ڈس ایبل لڑکیوں سے ان کی بات چلائی گئی، اس دوران گجو بھائی اچانک سے صاف ستھرے رہنے لگتے ان کی شخصیت میں سنجیدگی آجاتی۔ چال بدل جاتی لیکن ان کی اس ساری سعی کے باوجود انہیں دیکھنے اور ان سے بات کرنے کے بعد رشتے سے انکار ہو جا تا تھا۔

اس بار بقر عید میں ان کی دھمکی کام کر گئی اور بات شادی تک پہنچ گئی تھی۔ یہ ہی نہیں، پتہ چلا کہ لڑکی والے ان کے رہنے کو ایک کمرہ بھی دیں گے۔ یعنی گھر داماد بنیں گے۔ اب ہمارا شک مزید گہرا ہو گیا۔ یا اللہ ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں ان میں۔

ہم نے احمد سے کہا ”ولیمہ شوق سے کریں لیکن ذرا تفتیش تو کریں کہ ماجرا کیا ہے۔“ پر اس کا موقع نہ مل سکا، اور شاید کوشش بھی نہ کی کہ اب کو ئی فائدہ بھی نہ تھا شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی، اگلے ہفتے ہی شادی تھی۔

ہم اپارٹمنٹ میں ہی کو ئی فلیٹ دیکھ رہے تھے۔ گجو بھائی کی شادی سے تین دن پہلے اسی اپارٹمنٹ کی ایک سیڑھی چھوڑ کر سامنے والی سیڑھی کی تیسری منزل پر ایک فلیٹ مل گیا۔ باقی جگہوں کی نسبت کراچی میں چھ ماہ کا ایڈوانس کرایہ لینے کی روایت ہے۔ ہم نے صرف ایک ماہ کا ایڈوانس کرایہ دیا اور نئے مالک مکان سے جھوٹ بول دیا کہ پچھلے مالک مکان جب ہمارا ایڈوانس واپس کریں گے تب ہم ادا کر دیں گے۔

دوؤاں کے زیرِ اثر ان کے قویٰ سامان اٹھانے رکھنے اور چڑھانے جیسے کاموں کے لیے خاصے ضعیف ہو چکے ہیں۔ ہاتھ تنگ تھا، اس لیے بھاری سامان مزدوروں سے چڑھوایا، باقی ہم نے اور بچوں نے منتقل کیا۔ شادی والے روز، ادھیڑ عمر دلہن خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ اس دن گجو بھا ئی بھی صاف لگ رہے تھے۔ لوگوں کے بہت اصرار پر انہوں نے چہرے سے سہرا ہٹا یا پر رومال ناک پر سے نہ ہٹا۔ رخصتی کے وقت وہ دلہن کا ہاتھ تھامے سب کو فتح مند نظروں سے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے انہوں نے کشمیر فتح کر لیا ہو۔

دوسرے دن ولیمہ تھا۔ احمد نے اپارٹمنٹ کے کھلے حصے میں ولیمے کے لیے ٹینٹ لگو ا لیے تھے۔ رشتے دار اور دوست احباب شریک ہو ئے۔ گجو بھا ئی سوٹ بوٹ میں ”سالا میں تو صاحب بن گیا“ کی پیروڈی لگ رہے تھے۔ لیکن آج ان کے چہرے کی بتیاں کچھ بجھی ہو ئی تھیں۔

ولیمہ خیر سے نبٹ گیا۔ ہمارے مدعو کیے اکثر مہمانوں نے دلہن کی منہ دکھا ئی ہمارے ہاتھ پر رکھی تھی۔ دوسرے دن گنی۔ کوئی پانچ چھ ہزار روپے تھے۔ یہ ساری رقم اگلے دن ہم نے ٹینٹ والوں کو دے دے دی۔

شام کے وقت گجو بھائی پوچھتے پاچھتے حواس باختہ آئے۔ لکھنوی انداز سے جھک کر آداب کیا اور پھر مٹھیاں بھینچ کر دونوں ہاتھوں کا لمبا کر کے مٹھیاں کھول دیں اور بولے ”بی بی ہمو۔“ اس کا مطلب تھا بیوی نے ہمیں نکال دیا ہے۔

ہم نے ان سے پوچھا ”بات کیا ہوئی؟“ اپنی زبان میں کہنے لگے کہ وہ اسی لیے آئے ہیں کہ ہم ہی اس سے جا کر پوچھیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔

ہم اور احمد دلہن والوں کے گھر پہنچے۔ ہمارے دیور اور دیورانی بھی موجود تھے۔ دلہن کو کمرے سے بلا لانے کے لیے کسی کو بھیجا مگروہ آنے کو تیار نہ ہوئیں تو دلہن کی ماں اور بہن نے ہمیں کہا کہ ہم خود ان کے کمرے میں چلے جائیں اور ان کی لڑکی کو سمجھائیں۔ وہ انہیں نہیں رکھنا چا ہتی۔ ہم لڑکی کے کمرے میں گئے، اوندھی پڑی تھیں۔

ہماری آہٹ سن کر اٹھ بیٹھیں۔

گجو بھا ئی کی زبان کے علاوہ ان کا ہر عضومتحرک تھا۔ لیکن دلہن کی شاید صرف زبان ہی متحرک تھی۔ ہمیں دیکھتے ہی پھٹ پڑیں۔ بولیں ”ہمارے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔ ہمیں تو کوئی اور دکھایا گیا تھا۔ اورکمرے میں انہیں بھیج دیا گیا۔“

ہم نے دلہن کی بہن کی طرف دیکھا تو ”وہ بولیں ہم نے تمہیں ان ہی کو دکھایا تھا۔“

دلہن نے گجو بھا ئی کو گھور کے دیکھا۔ ”یہ بے شرم۔ یہ گندی باتیں کرتا ہے۔ ہمارے خاندان میں ایسی بے غیرتی نہیں ہوتی۔“

گجو بھا ئی نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔

ہم نے انہیں سمجھانے کی بہتیرا کوشش کی کہ یہ دنیا بے غیرتی سے ہی چل رہی ہے اور آپ کا وجود بھی اسی بے غیرتی کا مرہونِ منت ہے۔ پر انہیں کوئی بات سمجھ نہیں آئی۔ ہم کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم میں آگئے۔ پیچھے پیچھے دلہن صاحبہ بھی آگئیں۔

میری طرف دیکھ کر بولیں۔ ”میری منہ دکھائی کے پیسے بھی آپ نے ہتھیالیے۔“

پگلی نے بات تو بالکل ٹھیک کی تھی۔ اس بار شرما کر نظریں جھکا نے کی باری ہماری تھی۔ جھینپنے کے علاوہ ہم کیا کر سکتے تھے۔ وہ پیر پٹختی ہوئی چلی گئیں۔

اپنی دیورانی سے کہا کہ ”آپ نے آخر کیا دیکھ کر گجو بھائی کا یہاں رشتہ کیا؟“

بولیں، ”یہ ہی لوگ ہمارے پاس گجو بھا ئی کا رشتہ لائے تھے۔“

دلہن کی ماں کا کہنا تھا کہ جب بھی چھوٹی بہن کا رشتہ آتا یہ اپنی شادی کروانے کی ضد پکڑ لیتیں، وہ غل مچاتیں کہ رشتے والے پلٹ کر نہ آتے۔ چھوٹی بہن کا رشتہ بھی ان کی وجہ سے کہیں نہیں ہو پا رہا تھا، ہم نے سو چا شاید یہ شادی کے بعد یہ حواسوں میں آجائیں۔ عجیب لوگ تھے انہیں شادی، پاگل پن کا علاج لگی تھی۔ جب کہ کچھ لوگوں کو شادی کے بعد، بدحواس دیکھا ہے۔

مگر اب تو گجو بھائی کا کمرہ، ان کی شادی اورخوشیاں انہیں جھلک دکھلا کرماند پڑنے والی تھیں۔ ہمیں اسی کا ڈر تھا، یہ ہی بات تھی جو ہماری زبان پر آتے آتے رہ جا تی تھی کہ ایسا سخی، ذی ہوش کون سا گھرانہ ہے جوایک حقیقی راندہ درگا ہ کے رہنے کو ٹھکانہ اور دل جوئی کو اپنی بیٹی دے رہا ہے۔

ایک نارمل بیٹی کے رشتے میں رکاوٹ ہٹانے کے لیے ذہنی مریضہ کے علاج کے بجائے اس کی شادی کر دی گئی تھی۔ ہمارے ہاں لڑکا آوارہ ہو یا لڑکی خود سر، جسمانی بیماری ہو یا ذہنی ہر مسئلے کا حل شادی میں نظرآتا ہے۔ بھولا بھالا اپنی ذات سے بے پروا، ایک پگلی کے دلہن بننے کے شوق کی بھینٹ چڑھ گیا۔

کاہل مجہول گجو بھا ئی تو اب صبح و شام نہانے اور کپڑے تبدیل کرنے جیسے جوکھم بھی کرنے لگے تھے۔ ان کے ارمانوں کا خون ہو گیا تھا اور ہم، مکان کے ایڈوانس کی رقم ان کے ولیمے میں لوگوں کو کباب پراٹھا کھلا کر خرچ کر چکے تھے۔

اب گجو بھائی کو اپنی عزت کی بھی پڑی تھی۔ کاظمین امام بارگاہ میں اعلان کر آئے تھے ”ہمو شادی، اب ہم واپسی نہ آوو، ہمو اب جھا کو نہ“ اس بات کا مطلب تھا کہ ہماری شادی ہو رہی ہے اب ہم جھاڑو نہیں لگا ئیں گے۔

چند دن بعد محرم آئے، یقین ہے کہ غم حسین میں اس بار وہ کہیں زیادہ دھاڑیں مار مار کر روئے ہوں گے، اور ان کی پشت زنجیر زنی سے پہلے سے زیادہ خونم خون ہوئی ہوگی۔

فلم میکنگ کے دوران کچھ لوگوں سے وقتِ ضرورت کام لیا جا سکتا ہے اسی لیے سین میں ان کی گنجائش رکھنی پڑتی ہے۔ بے دم صلاحیت اور بے جان شخصیت انہیں ایکسٹرا کر دیتی ہے۔ سین میں ان کی انٹری بڑے غیر محسوس طریقے سے ہو تی ہے۔ انہیں ڈائیریکشن کے بجا ئے سین میں انٹری مارنے کے لیے بس اشارہ کیا جاتا ہے۔ اس دنیا کے اسٹیج پر بھی گجو بھا ئی کی انٹری توکئی مواقع پر ہوئی، پر کسی کو محسوس نہ ہوا۔

اگر بیس ہزار کی رقم ان کے بانجھ ولیمے پر خرچ نہ ہوتی، اگلے بیس ماہ ہماری در بدری نہ ہوئی ہو تی تو ان کے مردے میں اب بھی جان نہ پڑتی۔ یوں یہ ہمارے نوشتے سے ایسے مٹ جاتے جیسے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ شاید وہ انہی صفحات کے لیے اسٹینڈ بائی رکھے گئے گئے تھے۔

کس نوشتے کی طرح خود کو پڑھیں ہم آخر
ایسے لکھے ہوئے ہیں جیسے مٹا ئے ہو ئے ہیں

گجو بھا ئی کو اگر ہم اپنے گھر میں رکھ لیتے تو انہیں ٹھکانہ اور ہمیں باہر کے کاموں میں مدد گار کی سہولت مل جا تی۔ لیکن گندہ رہنے، حد سے زیادہ بے وقوفیوں اور کاہلی نے ان کی چند خامیوں کو ایسا نمایاں کر دیا تھا کہ انہیں گھر میں رکھنے کے خیال سے ہی روح فنا ہو تی تھی۔ ہم تو کیا خاندان کا کو ئی بھی بال بچوں والا انہیں اپنے گھر رکھنے پر تیار نہ تھا۔ یوں ان کی جھا ڑو پھری قسمت نے ایک بار پھر ان کے ہاتھ میں جھاڑو تھما دی۔

جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •