عامر مسیح کی مبینہ پولیس تشدد سے ہلاکت: ’جس نے بیٹے کا نام رکھنا تھا وہ اس دنیا ہی میں نہیں رہا‘

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ چند دنوں سے پے در پے پولیس تشدد کے واقعات منظر عام پر آ رہے ہیں جن کی وجہ سے پورے ملک میں تشویش کی ایک لہر دوڑی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ چند دن قبل لاہور کے تھانہ شمالی چھاؤنی میں مبینہ طور پر پیش آیا ہے جس میں دو بچوں کے باپ عامر مسیح کی مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ہلاکت ہوئی ہے۔

ہلاک شدہ شخص عامر مسیح کے ورثا نے موقف اپنایا ہے کہ عامر لاہور کی پی ایف کالونی میں ایک شخص کے گھر مالی کا کام کرتے تھے اور اس گھر میں ہونے والی ایک مبینہ چوری کے شبے میں پولیس نے انھیں حراست میں لیا تھا۔

تھانہ شمالی چھاؤنی میں درج مقدمے میں مقتول عامر مسیح کے بھائی سنی اقبال کا موقف ہے کہ ان کا بھائی 28 اگست سے لاپتہ تھا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی تلاش میں پی ایف کالونی گئے جہاں پر انھیں ایک سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ تھانہ شمالی چھاؤنی کے سب انسپکٹر ذیشان نے ان کے بھائی عامر مسیح کو فون کر کے تھانے بلایا تھا جہاں سے انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

ان کے مطابق جب وہ تھانے گئے تو تھانے والوں نے ان کے بھائی کی موجودگی سے انکار کیا جس کے بعد 31 اگست کو انھوں نے تھانہ ڈیفینس میں اپنے بھائی کی گمشدگی کی اطلاع دی۔

عامر مسیح

BBC
عامر مسیح کے بھائی سنی مسیح کی درج کروائی گئی ایف آئی آر کا عکس

ایف آئی آر میں سنی مسیح نے کہا ہے کہ ان کے بھائی پی ایف کالونی میں جس شخص کے ہاں کام کرتے تھے انھوں نے پولیس سے مبینہ طور پر ملی بھگت کر کے پکڑوایا، ان پر تشدد کیا اور حبس بے جا میں رکھا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول عامر مسیح کے برادر نسبتی منیر بھٹی نے بتایا کہ 2 ستمبر کی شام انھیں تھانہ شمالی چھاؤنی سے فون آیا کہ ’ہم تمہارا بندہ تمہارے حوالے کرتے ہیں‘ تو وہ اپنے دیگر رشتے داروں کے ساتھ پہنچے جہاں سب انسپکٹر ذیشان نے کہا کہ ’تمہارا بندہ (عامر) بے گناہ ثابت ہوا ہے اس کو تم لوگ لے جاؤ۔‘

درخواست کے مطابق جب وہ اپنے دیگر رشتے داروں کے ہمراہ تھانے پہنچے تو سب انسپکٹر ذیشان اور دو نامعلوم افراد نے عامر کو ان کے حوالے کیا اور انھیں لے جانے کے لیے کہا۔

‘سب انسپکٹر ذیشان ہمیں لے کر تھانے سے باہر آیا تو ہم نے دیکھا کہ عامر مسیح کو اس وقت انھوں نے ایک اوبر ٹیکسی میں ڈالا ہوا تھا اور اس کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی۔ اس پر ہم سب لوگ غصے میں آگئے اور احتجاج شروع کیا تو تفتیشی انچارج ناصر بیگ نے ہمیں اندر بلایا اور کہا کہ شور شرابا نہ کرو، اس (عامر) کو گھر لے کر جاؤ، اس کو ویسے ہی کچھ بخار وخار ہوا ہے۔ اس کی دوائی کا جو خرچہ ہو مجھ سے لے لینا۔’

منیر بھٹی کے مطابق ناصر بیگ کا کہنا تھا کہ ‘اس کو ہسپتال لے چلو، ہم بھی وہاں آتے ہیں۔’

ان کے مطابق جب عامر مسیح کو ہسپتال پہنچایا گیا تو وہاں ڈاکٹروں نے دیکھتے ہی کہا کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے۔ منیر کے مطابق یہ سن کر موقع پر موجود پولیس اہلکار بھی غائب ہوگئے۔

سنی مسیح کی دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عامر نے انھیں ملنے کے بعد بتایا کہ تھانے میں سب انسپکٹر ذیشان اور چار نامعلوم سپاہیوں نے ان پر سخت تشدد کیا۔

ان کے مطابق عامر نے کہا کہ پولیس اہلکار انھیں ‘کرنٹ دیتے رہے، لوہے کے راڈ سے مارتے رہے، جسم پر لوہے کے راڈ رکھ دیتے اور دو پولیس اہلکار ان پر کھڑے ہو جاتے تھے۔’

منیر بھٹی کا کہنا تھا کہ عامر کو جب ہسپتال لایا گیا تو اس وقت وہ ہمیں کہتا تھا کہ ‘میرے جسم پر خارش کرو کیونکہ مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ میرا جسم میرے ساتھ بھی ہے کہ نہیں۔’

درخواست کے مطابق عامر کو فوری طور پر سروسز ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کا علاج ہوتا رہا مگر تھوڑی دیر بعد عامر ہلاک ہوگیا۔

عامر مسیح

BBC
عامر مسیح کی پوسٹ مارٹم رپورٹ

’ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی تشدد واضح‘

منیر بھٹی کا دعویٰ تھا کہ انھیں اطلاع دینے سے پہلے پولیس اہلکار عامر مسیح کو لے کر تھانے کے پاس ہی موجود کنٹونمنٹ ہسپتال لے گئے تھے جنھوں نے مریض کی حالت دیکھ کر علاج کرنے سے انکار کردیا تھا، جس پر انھوں نے مجبوری کے عالم میں گھر والوں کو بلایا۔

منیر بھٹی کے مطابق کنٹونمنٹ ہسپتال میں عامر مسیح کے ساتھ کیے گئے سلوک کی سی سی ٹی وی فوٹیج انھیں ہسپتال سے دستیاب ہوئی ہے۔ بی بی سی کے پاس موجود اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو افراد عامر کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر ہسپتال لاتے ہیں اور بائیک سے اترنے کا کہتے ہیں۔

بائیک سے اترتے وقت وہ ممکنہ طور پر کمزوری کی وجہ سے فرش پر ڈھے جاتے ہیں جس پر وہ افراد عامر مسیح کو لاتوں سے مارتے ہیں۔

ایک اور کیمرے سے حاصل کی گئی فوٹیج میں کچھ افراد انھیں ویل چیئر پر بٹھا کر لے ہسپتال سے باہر لے جاتے نظر آتے ہیں جس کے بعد ایک گاڑی بلوائی جاتی ہے جس میں عامر مسیح کو ڈال کر روانہ کیا جاتا ہے اور دیگر اہلکار ان کے ساتھ موٹرسائیکل پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

سروسز ہسپتال لاہور کے ذرائع کے مطابق عامر مسیح کے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ لاہور پولیس کے ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ پوسٹ مارٹم میں تشدد کی واضح رپورٹ ملنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

عامر مسیح کی بیوہ سلمیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی شادی سال 2012 میں ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ برکی روڈ پر واقع ان کے علاقے میں مسیحی برادری کے 60 سے 70 خاندان ہیں جبکہ مسلمانوں کے 300 سے 400 گھرانے ہیں۔ ’سب لوگ ہمیں جانتے ہیں، مسیحی خاندانوں کو تو چھوڑیں، مسلمانوں سے ہی پوچھ لیں کہ میرا خاوند کیسا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاوند ایک ہسپتال میں کنٹریکٹ پر ملازمت کرنے کے علاوہ بڑے لوگوں کے گھروں میں مالیوں کا کام کرکے مہینے کے 20 سے 22 ہزار روپے کماتے تھے۔ ’وہ منصوبے بنایا کرتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور وہ مستقبل میں افسر بنیں گے تو ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔‘

پولیس کے نفسیاتی آڈٹ کی ضرورت ہے

انسانی حقوق کے ممتاز کارکن محمد جبران ناصر کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے پے در پے واقعات سامنے آنے کے بعد یہ ضروری ہو چکا ہے کہ پولیس کے بہیمانہ تشدد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کا ‘نفسیاتی آڈٹ’ کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ لگتا ہے کہ کمزور پر تشدد کر کے ان اہلکاروں کو تفریح حاصل ہوتی ہے کیونکہ کوئی ذی شعور اس طرح کا تشدد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کی ایک بڑی وجہ ماضی میں ایسے واقعات میں ملوث پولیس اہلکاروں کا بچ نکل جانا ہے۔ ’ساہیوال واقعہ کا کچھ نہیں بنا، نقیب اللہ محسود واقعے پر پورے ملک میں شدید احتجاج ہوا۔ اس کے علاوہ درجنوں واقعات ہیں جس کے بعد پولیس میں غالباً یہ سوچ پختہ ہوچکی ہے کہ کیا ہوگا، دو چار دن خبریں چلیں گی، کوئی انکوائری وغیرہ ہوجائے گی، پھر سب بھول جائیں گے اور کچھ بھی نہیں ہوگا۔‘

پنجاب پولیس کیا کہتی ہے؟

پنجاب پولیس کے ترجمان نایاب حیدر کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں جنھیں پیش نہیں آنا چاہیے تھا، مگر ان کے مطابق وہ قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ پنجاب پولیس نے ان واقعات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور کئی ایک میں پولیس اہلکار گرفتار ہیں۔ لاہور میں عامر مسیح قتل واقعے میں ایس پی انوسٹی گیشن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، ڈی ایس پی کے خلاف انکوائری چل رہی ہے، تھانے کا تفتیشی انچارج گرفتار ہے جبکہ سب انسپکٹر اور کچھ اہلکار فرار ہیں مگر ان کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس اصلاحات سے بے خبر نہیں بلکہ پولیس میں اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا ہے جس کے لیے جدید معیار کا سکول آف انوسٹی گیشن قائم کیا گیا جس میں تمام اہلکاروں کو جدید طریقۂ تفتیش کے مطابق تربیت دی جائے گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ اگر پولیس کو تربیت کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی اور فارنسک طریقۂ تفتیش سے متعارف کروا دیا گیا تو پھر تشدد کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہ مسائل حل ہوجائیں گے۔

’انصاف نہ ملا تو خود کو آگ لگا لوں گی‘

مگر عامر کی اہلیہ حکام کی جانب سے دی جانے والی تسلیوں کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قتل کے کچھ دن بعد تک تو شور شرابہ رہا، گورنر صاحب بھی آئے تھے، کہتے تھے کہ انصاف ہوگا مگر ابھی تک تو انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

’میں نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ دسویں محرم تک میرے خاوند کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو پھر اس کے بعد اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ خود کو آئی جی دفتر کے سامنے آگ لگا لوں گی۔‘

سلمیٰ کہتی ہیں کہ جس دن ان کے شوہر غائب ہوئے، اس دن ان کا نومولود بیٹا صرف چار دن کا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس دن کام پر جانے سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ بیٹے کا نام سوچ رہا ہوں، واپس آؤں گا تو اس بارے میں بات کریں گے۔ اب بیٹا 14 روز کا ہو چکا ہے مگر ابھی تک اس کا نام نہیں رکھا گیا کیونکہ جس نے نام رکھنا تھا وہ اس دنیا ہی میں نہیں رہا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10437 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp