پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب دھرنا کیوں جاری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج

BBC
مظاہرین کے مطابق وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن اور لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’خود مختار کشمیر‘ کے حامی ایک دھڑے کا لائن آف کنٹرول پر تیتری نوٹ کے مقام پر مسلسل تیسرے روز بھی احتجاج جاری ہے۔

اس دھرنے سے پہلے سنیچر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے ایک دھڑے کے کارکنان نے ایل او سی پر تیتری نوٹ کراسنگ کی جانب ’آزادی مارچ‘ کا آغاز کیا۔

مظاہرین کے مطابق وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن اور لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: سخت کرفیو میں انڈیا مخالف مظاہرے جاری

ایل او سی: وہ واحد راستہ جو اب بھی کھلا ہے

‘منقسم کشمیریوں کے لیے اچھی خبر’

صحافی ایم اے زیب کے مطابق اس ’آزادی مارچ‘ کے مظاہرین کوٹلی، سدھنوتی، بھمبر، میر پور، راولاکوٹ اور باغ سے تیتری نوٹ کی طرف ایک مارچ کی صورت میں آئے تاہم شرکا کے مطابق پولیس نے سرساوہ، کوٹلی اور داوراندی ہجیرہ کے مقام پر مظاہرین کو روکا۔

آزادی مارچ

BBC
حکام نے بتایا کہ سکیورٹی کے خدشات کی پیش نظر مظاہرین کو ایل او سی پر آگے بڑھنے سے روکا گیا تاہم پرامن احتجاج سے کسی کو نھیں روکا گیا ہے

یہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں 20 کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ حکام کے مطابق چار ایمبولینسوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

رابطہ کرنے پر متعلقہ حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر مظاہرین کو ایل او سی پر آگے بڑھنے سے روکا گیا تاہم پرامن احتجاج سے کسی کو نھیں روکا گیا ہے۔

پولیس اسٹیشن ہجیرہ کے فسر کے مطابق جے کے ایل ایف( ص) کے کل 38 حامیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پولیس سٹیشن کھوئی رتہ کے نائب محرر نے بتایا کہ اس علاقے میں انڈیا کی جانب سے آئے روز شیلنگ ہوتی ہے تاہم اندر کوئی احتجاج نہیں ہو رہا۔

نائب محرر طاہر نے بی بی سی کی حمیرا کنول کو بتایا کہ ’ہمارے علاقے میں چھ تاریخ کو مظاہرہ ہوا تھا پولیس اور سویلین کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ لڑکوں نے ایل او سی کراس کی تو انڈیا کی جانب سے فائرنگ کی تھی۔ جس سے تین نوجوان زخمی ہوئے لیکن یہ نوجوان جلوس سے پہلے ہی لائن آف کنٹرول پار کر کے وہاں جھنڈا لہرانے گئے تھے۔‘

تاہم جے کے ایل ایف کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس سے متعدد کارکنان زخمی ہوگئے۔

صحافی ایم اے زیب نے بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق اس احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

india pak

BBC
ایل او سی پر کُل تین کراسنگ پوائنٹس: تیتری نوٹ، چکوٹھی اور چلہانہ ٹرمینلز واقع ہیں۔ تیتری نوٹ واحد ہے مقام ہے جہاں بقول حکام کے نبض اب بھی چل رہی ہے یعنی دونوں اطراف کا رابطہ کسی نہ کسی صورت برقرار ہے

مارچ کی سربراہی کرنے والے سردار صغیر نے جو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں مارچ کے آغاز پر کہا تھا کہ یہ پرامن مارچ ہوگا۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے بتایا کہ ’آزادی اور امن مارچ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہزاروں افراد کی شرکت ایک ریفرنڈم ہے کہ ہم انڈیا اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ ہیں بلکہ ایک آزاد و خود مختار، خوشحال اور استحصال سے پاک ریاست جموں و کشمیر کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ ہزاروں کا مجمع لانے کے باوجود اس کا غلط استعمال نہیں کریں گے۔

ان کے مطابق یہ ان کے مارچ کا پہلا مرحلہ تھا جو مکمل ہو گیا ہے اور اب دوسرے مرحلے میں لائن آف کنٹرول پر موجود دونوں افواج کی جانب سے گولہ باری سے متاثر ہونے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ تیتری نوٹ کے مقام پر جاری دھرنا غیر معینہ مدت کے لیے ہے جو مناسب وقت پر ختم کیا جائے گا۔ انھوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے گرفتار ساتھیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

تیتری نوٹ کی اہمیت کیا ہے؟

راولاکوٹ سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کے اُس پار انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کا تاریخی شہر فقط دس کلومیٹر دور ہے۔

پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کے درمیان معاہدے کے بعد سنہ 2005 میں ان کراسنگ پوائنٹس سے کشمیریوں نے آنا جانا شروع کیا جبکہ 2008 میں تجارتی راستہ کھولا گیا۔ ایل او سی پر کُل تین کراسنگ پوائنٹس: تیتری نوٹ، چکوٹھی اور چلہانہ ٹرمینلز واقع ہیں۔

ان میں سے تیتری نوٹ واحد مقام ہے جہاں بقول حکام کے نبض اب بھی چل رہی ہے یعنی دونوں اطراف کا رابطہ کسی نہ کسی صورت برقرار ہے۔

ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کے حکام کے مطابق تیتری کراسنگ پوائنٹ ہفتے میں چار بار تجارت کے لیے کھلتا تھا اور ایک بار مسافروں کے لیے اب فقط پیر کو مسافروں کے لیے ہی کھل سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp