یوم عاشور: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں محرم کے جلوس نکالنے پر پابندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر

EPA
کشمیر میں روایتی طور پر محرم کی آٹھویں، نویں اور دسویں تاریخ کو بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ تاہم اس بار وادی میں قید و بند کا ماحول ہے اور انتظامیہ نے گھر گھر یہ منادی کرادی ہے کہ چلاقے میں دفع 144 نافذ ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ماہ کو انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے وہاں کے حالات ابھی تک معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔

دس ستمبر کو یوم عاشور کے پیش نظر وادی میں مختلف قسم کی مزید پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے سرینگر سے خبر دی ہے کہ یوم عاشورہ کے موقعے پر احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر کئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

محرم اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے لیکن اسے پیغمبر اسلام کے نواسے اور حضرت علی کے بیٹے امام حسین کی شہادت کے تعلق سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اقوام متحدہ: انڈیا کشمیر کی بندشوں میں نرمی لائے

کشمیر میں شیعہ سنی اتحاد کا انوکھا مظاہرہ

کرفیو کے باوجود سری نگر میں محرم کے جلوس

ریاض مسرور نے بتایا ہے کہ محرم الحرام کے موقع پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہر طرح کی تقاریب پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

کشمیر میں روایتی طور پر محرم کی آٹھویں، نویں اور دسویں تاریخ کو بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں جس میں لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

لیکن اس بار وادی میں قید و بند کا ماحول ہے اور انتظامیہ نے گھر گھر یہ منادی کرادی ہے کہ وہاں تعزیرات ہند کی دفع 144 نافذ ہے اس لیے کسی جگہ چار سے زیادہ افراد کا جمع ہونا غیر قانونی ہے۔

کشمیر

Reuters
اتوار کو سرینگرکے لال چوک سے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے لوگوں کو منتشر کر دیا

ہمارے نمائندے ریاض مسرور نے بتایا کہ ‘سنہ 1990 میں جب سے کشمیر میں شدت پسندی کی ابتدا ہوئی ہے اس وقت سے اب تک کوئی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ شاہراہوں پر بڑے جلوسوں کی اجازت نہیں ملتی تھی لیکن گذشتہ 30 سالوں میں چھوٹے جلوسوں کی اجازت مل جاتی تھی۔ تاہم اس بار اسے پوری طرح سے بند کر دیا گیا ہے اور دفعہ 144 کو سختی کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے۔’

تاہم خیر سگالی کے طور پر اہل تشیع کے رہنما عمران انصاری کو 7 محرم کے روز رہا کر کے اپنے گھر نظر بند کیا گیا ہے۔

5 اگست سے بھاری تعداد میں نیم فوجی اہلکار کشمیر میں تعینات ہیں اور وقفے وقفے سے نرمی کے اعلانات کے باوجود اہلکار اپنی جگہ پر قائم رہتے ہیں۔

’رکاوٹوں اور بندشوں میں نرمی کے اعلان کے بعد بھی اہلکار تعینات رہتے ہیں اور صرف چند گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہوتی ہے۔‘

کشمیر

Getty Images
9 ستمبر کو کھینچی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑکیں سنسان ہیں اور سرینگر میں صرف فوجیوں کی موجودگی نظر آ رہی ہے

جلوس کے علاوہ پرچم اور بینروں کے بارے میں انھوں نے بتایا: ‘نوجوانوں نے لال بازار، لال چوک جیسے علاقوں میں بینرز اور پرچم ضرور لگائے ہیں لیکن سڑکوں پر انھیں کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔’

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو پابندیوں میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ صحت کا ہے۔

کچھ دن پہلے یہ افواہ اڑی تھی کہ حریت کے ذریعے اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب جلوس نکالا جانے والا ہے۔ اس افواہ کے بعد بھی انتظامیہ نے سختیوں میں اضافہ کر یا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پابندیوں کا یہ حال ہے کہ جو لوگ بیمار ہیں اور گاڑیوں میں جاتے ہیں انھیں بھی جانے نہیں دیا جاتا ہے۔ انتظامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ کسی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے اور سختی کے ساتھ پابندیوں کو نافذ کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9931 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp