صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو عہدے سے ہٹا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرمپ

Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

امریکی صدر نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ‘میں نے کل رات جان بولٹن کو بتا دیا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں ان کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے۔’

https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1171452880055746560

امریکی صدر نے ٹویٹ میں لکھا کہ ‘مجھے ان کے بہت سے مشوروں سے سخت اختلاف تھا’۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے قومی سلامتی کا ایک نیا مشیر مقرر کیا جائے گا۔

https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1171452881729228802

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ کی کابینہ میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی منسوخی کے بعد اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری اسٹیفنی گریشام نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ ‘(صدر) ان کی بہت سی پالیسیاں پسند نہیں کرتے تھے دونوں میں اختلافات تھے۔’

یہ بھی پڑھیے

ڈونلڈ ٹرمپ: ’افغان امن مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو چکے‘

امریکہ، طالبان امن مذاکرات منسوخ کیوں ہوئے؟

طالبان، امریکہ معاہدے پر بڑھتی تشویش: صدر غنی کا دورہ امریکہ

مذاکرات نہ ہونے کا زیادہ نقصان امریکہ کو ہو گا: طالبان

امریکہ

Getty Images
امریکہ کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن

یاد رہے کہ جان بولٹن، مائیکل فلن اور ایچ آر میک ماسٹر کے بعد صدر ٹرمپ کے تیسرے قومی سلامتی کے مشیر تھے۔

اس کے جواب میں جان بولٹن نے ٹویٹ کیا ہے کہ انھوں نے پیر کی رات اپنے استعفی کی پیش کش کی تھی۔

https://twitter.com/AmbJohnBolton/status/1171455806069305346

وائٹ ہاؤس کے شیڈول کے مطابق جان بولٹن نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر خزانہ سٹیون منوچن کے ساتھ وائٹ ہاؤس بریفنگ کی میزبانی کرنی تھی جبکہ صدر ٹرمپ نے اس سے صرف دو گھنٹے قبل ہی ٹویٹ کیا تھا کہ قومی سلامتی کے مشیر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کو مشورے دینے والی قومی سلامتی کونسل بولٹن کے ماتحت وائٹ ہاؤس کے اندر ایک الگ ادارہ بن گئی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سابق سینیئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ (بولٹن) باقی وائٹ ہاؤس سے الگ سے کام کرتے تھے۔‘

حکام کے مطابق بولٹن اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے تھے اور وہ صرف اپنے اقدامات پر عمل کرتے تھے۔ حکام کے مطابق ’وہ اپنی حکومت خود چلا رہے تھے۔‘

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’بولٹن کی اپنی ترجیحات ہیں۔ انھوں نے صدر سے پوچھا نہیں کہ ‘آپ کی ترجیحات کیا ہیں؟’ وہ بولٹن کی ترجیحات تھیں۔‘

جان بولٹن نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی مخالفت کی تھی، جنھیں صدر ٹرمپ نے امریکہ میں امن مذاکرات کی دعوت دینے کے بعد مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی پالیسی خاص طور پر اس وجہ سے تنقید کی وجہ بنی کیونکہ ان کو ایسے وقت میں مذاکرات کی دعوت کے لیے امریکہ بلایا جا رہا تھا جب 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی برسی قریب ہے جو طالبان کے حلیف گروہ القاعدہ نے کیے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10401 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp