تعزیتی مضامین لکھنے والے نہیں جانتے کہ وہ خودکب کے مر چک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عابد علی کے انتقال پر تعزیتی مضامین اور کالم پڑھتے ہوئے ایک عجیب احساس نے آ لیا۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ مردہ کسے کہوں؟ جانے والے کو یا لکھنے والوں کو؟
تعزیتی تحریریں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو ایک فنکار کی موت پر، فن کے کسی قدر دان کے قلم سے نکلی ہوں۔ ایک فن کا بڑا آدمی دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو لوگ اس کی عظمت کے اعتراف میں مضامین لکھتے ہیں۔ اس کے لیے شخصی تعلق لازم نہیں ہوتا؛ تاہم موثر تحریر کے لیے ضروری ہے کہ مضمون نگار فن کی نزاکتوں سے باخبر ہو اور یہ جانتا ہو کہ جانے والا کس درجے کا فنکار تھا۔ کسی مرنے والے کی قومی خدمات کا اعتراف بھی ایک فرض کفایہ ہوتا ہے جو لکھنے والا پورے معاشرے کی طرف سے ادا کرتا ہے۔
دوسری تحریریں وہ ہوتی ہیں جن کا حوالہ شخصی ہوتا ہے۔ کسی دوست، کسی عزیز کی تعزیت، جس کی موت نے آپ کو اداس کر دیا۔ جیسے علامہ اقبال کی اپنی والدہ محترمہ کے انتقال پر منظوم تعزیت ‘والدہ مرحومہ کی یاد میں‘۔ یہ دوست یا عزیز اگر کوئی معروف شخصیت ہے تو پڑھنے والے کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ لکھنے والا اپنے دکھ کا اظہار کرتا ہے لیکن اس میں دوسروں کی ترجمانی بھی شامل ہو جاتی ہے‘ جو شخصی تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی اداس ہوتے ہیں۔ جیسے عابد علی۔
تعزیت نگار اگر اپنے فن کا بڑا آ دمی ہو اور وہ کسی دوسرے بڑے آدمی کا مرثیہ لکھے، جس سے اس کا شخصی تعلق بھی ہو تو یادگار تحریریں وجود میں آتی ہیں۔ ایسی تحریریں زندہ رہتی ہیں اور یوں لکھنے والے اور مرنے والے، دونوں کی زندگی کا سامان کر تی ہیں۔ جیسے امام حمیدالدین فراہی کے انتقال پر سید سلمان ندوی کا تعزیتی شذرہ۔
سید صاحب ”معارف‘‘ میں تعزیتی شذرے لکھا کرتے تھے۔ یہ تحریریں ”یادِ رفتگاں‘‘ کے عنوان سے جمع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے مولانا شبلی نعمانی سے علامہ اقبال تک، بے شمار نامور لوگوں کی موت پر خامہ فرسائی کی جو اپنے میدان کے بڑے آدمی تھے اور صاحبِ تحریر سے ذاتی تعلق بھی رکھتے تھے۔ واقعہ لیکن یہ ہے کہ جو تعزیتی مضمون، امام فراہی کے لیے سید صاحب کے قلم سے نکلا، اس کی کوئی مثال اس مجموعے میں موجود نہیں۔ میرا احساس ہے کہ اردو کے تعزیتی لٹریچر میں بھی کم ہو گی۔ ایک ملی المیے کو انہوں نے ایک شخصی واردات کی صورت میں اس طرح قلم بندکیا کہ اسے پڑھنے والے کا ذاتی دکھ بنا دیا۔
یہ سید سلمان ندوی جیسے لوگ ہی جان سکتے تھے کہ امام جیسی شخصیت دنیا سے اٹھتی ہے تو اس کا متبادل تلاش کرتے کے لیے، انسانیت کو صدیوں کی مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔ یہ تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا کہ امام فراہی کو مولانا امین احسن اصلاحی جیسا شاگرد اور ان کی وجہ سے ہمیں ”تدبرِ قرآن‘‘ جیسی تفسیر مل گئی‘ ورنہ امام فراہی کی دریافت کے لیے، نہیں معلوم کتنے زمانوں کا انتظار کرنا پڑتا۔ مزید احسان یہ ہوا کہ جاوید احمد غامدی صاحب نے مولانا اصلاحی کو پہچان لیا اور یوں چراغ سے چراغ جل اٹھا۔ غامدی صاحب کی وجہ سے یہ فیض عام ہونے لگا اور فکرِ اسلامی کی ایک دلکش و پُر شکوہ عمارت ہمارے سامنے کھڑی ہو گئی‘ جس کے موسس امام فراہی تھے۔ سید سلمان ندوی روایتی حلقے کے آدمی تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید اور ارادت مند۔ ان کے قلم سے امام فراہی کے لیے خراجِ تحسین ایک بڑے حلقے میں ان کے تعارف کی بنیاد بن گیا۔
تعزیت نگاری میں بالعموم خوبیوں کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ ایک اچھی روایت ہے۔ دنیا سے اٹھ جانے والے کسی صاحبِ علم اور فن کا محاکمہ کوئی معیوب بات نہیں۔ اگر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو علم کی روایت آگے نہیں بڑھے گی؛ تاہم اس کے لیے مقالات لکھے جا سکتے ہیں اور کتابیں بھی۔ تعزیتی مضامین بالعموم اظہارِ افسوس کے لیے ہوتے ہیں۔ مناسب یہی ہوتا ہے کہ تنقید کے لیے قبر کی مٹی کے خشک ہونے کا انتظار کر لیا جائے۔ تعزیت پر تاثر کو غالب ہونا چاہیے کہ یہ تمام تر دل کا معاملہ ہے۔ پڑھنے والوں کو کسی کے بچھڑنے کا افسوس ہو اور وہ اس کا دکھ محسوس کریں۔
عابد علی کی موت پر تعزیت نامے اور کالم پڑھتے ہوئے مجھے جس بات نے اداس کیا، وہ صرف اس موقع کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ یہ مضمون کم و بیش ہر تعزیتی کالم میں پایا جاتا ہے۔ لوگ دو باتیں ایک ساتھ لکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ مرحوم سے ان کا دیرینہ تعلق تھا اور بہت قربت تھی۔ یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ مرنے والا جتنا قریب لکھنے والے سے تھا، شاید ہی کسی کے قریب رہا ہو۔ اگلی سانس میں لیکن یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کئی سال سے مرحوم کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں تھی۔ ”میں کئی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اس سے ملا جائے کہ اچانک اس کے مرنے کی خبر ملی۔ یہ خبر سنتے ہوئے، دل ملول ہو گیا‘‘۔ کم و بیش اسی طرح کا جملہ ہر مضمون میں شامل ہوتا ہے۔
میں جب اس طرح کے کالم اور مضامین پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی نے میرے سامنے آئینہ رکھ دیا ہو۔ بے شمار لوگوں کے چہرے مجھے چاروں طرف دکھائی دینے لگتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ کسی نہ کسی حوالے سے میرے بہت قریب تھے۔ وہ دنیا سے گئے تو مجھ پر اچانک منکشف ہوا کہ ان سے ملے کئی سال ہو گئے تھے۔ میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ ان سے ملا جائے۔ میرا ارادہ لیکن میرے عمل میں نہ ڈھل سکا۔
تعزیتی کالم پڑھتے ہوئے میں جب اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہوں تو معلوم ہوتا کہ میں محبتوں اور رشتوں کے جن فصیلوں میں محفوظ تھا، وہ تو آہستہ آہستہ ڈھے رہی ہیں۔ ہر موت مجھے پیغام دے رہی ہے کہ میرے حفاظتی حصار ٹوٹ رہے ہیں۔ باپ کا سایہ سر پر نہیں رہا۔ ممتا کی دیوار گر چکی۔ بزرگوں کی رخصتی نے مجھے برہنہ سر کر دیا۔ اب میرے سر پر دعا کی چادر نہیں رہی جو آسمان سے اترنے والی کسی مصیبت کو تھام لے۔ میرے پاؤں تلے محبت کا فرش نہیں رہا جو کسی خالہ، کسی ماموں یا کسی چچا نے بچھا رکھا تھا۔ اب تپتی زمین ہے اور میری آبلہ پائی ہے۔
میں خیال کرتا ہوں کہ پیسہ اور دنیوی وسائل ان رشتوں کا متبادل ہیں۔ میں پیسے اور مال و اسباب کی تلاش میں سرپٹ دوڑتا ہوں۔ میں نے ایک لمحے کو رک کر نہیں سوچا کہ جس پیسے کی تلاش میں، میں نے ماں کی صحبت کو کھویا، کیا دنیا کا سارا سرمایہ لگا کر، میں وہ سکون خرید سکتا ہوں جو مجھے ماں کے پاس دو پل بیٹھنے سے ملتا تھا؟ سفرِ حیات کی دھول میں باپ بھولی بسری داستان بن گیا۔ مجھے خیال نہیں آیا کہ میں اگر کچھ دیر اس کے پاس بیٹھ جاتا تو کتنی راحت اور برکت اپنے دامن میں سمیٹ لیتا۔
ہر موت پر میں کچھ دیر کے لیے رکتا ہوں۔ محرومی کا یہ احساس مجھے کچوکے لگاتا ہے۔ میں اس کی چبھن کو کچھ دیر محسوس کرتا ہوں۔ پھر دوڑنے لگتا ہوں۔ اپنا مستقبل سنوانے کے لیے۔ اپنے کاروبار کی افزائش کے لیے۔ حتیٰ کہ میرے قویٰ جواب دے جاتے ہیں۔ فطرت کا جبر رخشِ عمر کی باگ تھام لیتا ہے۔ اس کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ اب میرے پاس وقت ہوتا ہے لیکن میرے ارد گرد لوگ نہیں ہوتے۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے رشتوں کی فصیلیں اپنی امان میں لے لیں۔ لیکن اُس وقت میرے ارد گرد صرف جانے والوں کی یادوں کا حصار ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بیٹھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ میں اب تنہائی میں صرف عمرِ رفتہ کا ماتم کر سکتا ہوں۔
عابد علی کی وفات پر لکھے تعزیتی کالم مجھے کہاں سے کہاں لے گئے۔ میں نے سوچا کل اسی طرح کے مضامین میرے بارے میں بھی لکھے جائیں گے۔ ”مرحوم سے میرا بہت قریبی تعلق تھا مگر کئی سال سے ملاقات نہیں ہوئی۔ کل انتقال کی خبر سنی تو دل لہو سے بھر گیا…‘‘۔ تعزیتی مضامین لکھنے والے نہیں جانتے کہ وہ خودکب کے مر چکے۔ صرف مٹی ڈالنا اور قبر پر کتبہ لگانا باقی ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •