بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے ایک نئی مشکل کا آغاز کیا: حسین حقانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ کی ارم عباسی سے بات کرتے ہوئے سابق پاکستانی سفیر، مصنف اور تجزیہ نگار حسین حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان جس خدشے کا اظہار کر رہا ہے وہ حقیقی خدشہ ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر تعلقات اگر بہت بگڑ گئے اور جنگ تک نوبت آ گئی تو یہ بڑھ کر ایٹمی جنگ بن بھی سکتی ہے، لیکن اس میں دونوں ممالک کا مفاد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا سب سے اہم فریق کشمیر کے عوام ہیں۔ اگر کشمیریوں کی زندگیاں بہتر نہیں ہوں گی تو کوئی بھی فیصلہ درست نہیں سمجھا جائے گا۔ بھارتی حکومت نے جس طرح سے کشمیر کے عوام کو دبایا ہے، پابندیاں لگائی ہیں اس سے ان کے خلاف خود بھارت کے بہت سارے دانشور اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، بین الاقوامی رائے عامہ بھارت کے خلاف ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ طاقت تو بھارت کے پاس ہے لیکن اگر کشمیری عوام مکمل طور پر بھارت سے مایوس ہو گئے اور یہ تعلق ٹوٹ گیا تو بھارت میں یہ فیصلہ کتنا ہی مقبول رہے۔ اگر کشمیر میں کشمیری عوام نے بھارتی اقدامات کو قبول نہ کیا تو پھر بھارت کو شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکمت عملی تو یہ ہے کہ کشمیری لیڈروں کو اتنا دبا دو کہ وہ کوئی منظم مزاحمت نہ کر سکیں۔ اگر ایسا ہوا تو سیاست ایک اور مرحلے میں آجائے گی۔

حسین حقانی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے تین پہلو ہیں۔

ایک پہلو ہے کشمیری عوام کا، ان کے جذبات کو ٹھیک طریقے سے سنبھالا جا سکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کو اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں کے کشمیری عوام کے جذبات پر توجہ دینی پڑے گی۔

ایک پاکستان بھارت تنازع ہے جسے دونوں ممالک کو مل کر حل کرنا ہو گا۔

تیسرا پہلو دہشت گردی کا ہے جسے پاکستان کو حل کرنا ہو گا تاکہ دنیا میں جب بھی کشمیر کا ذکر ہو تو دہشت گردی کا اس کے ساتھ ذکر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے اپنے لیے ایک نئی مشکل کا آغاز کیا ہے۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارت کشمیر کی قیادت کے ساتھ ایسا کوئی سمجھوتا کرنے میں کامیاب ہو جائے جس کے بعد کشمیر میں اگلے چند برسوں کے لیے امن ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب اتنا کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان دنیا کو کی توجہ اس طرف دلا سکتا ہے کہ کشمیر میں کیسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور انہیں حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اس معاملے میں پاکستان کا اپنا ریکارڈ بھی اچھا نہیں ہے۔

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اقتصادی طور پر کوئی اثر دنیا پر نہیں ہے، دنیا اپنا مفاد دیکھتی ہے۔ بیان بازی کا شوق ہمیں ہے چاہے معاملے سے تعلق ہو یا نہ ہو۔

پاکستان امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکہ سے ہمیشہ امداد مانگی ہے۔ ہماری تجارت محض چھ ارب ڈالر ہے، ہم نے کبھی بھی وہ گہرا تعلق نہیں بنایا جو قوموں کا ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •