بریگزٹ: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ملکہ برطانیہ سے جھوٹ بولنے کی تردید کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بورس جانسن

Getty Images
جب بورس جانس سے سوال ہوا کہ آیا انھوں نے پارلیمان کی معطلی کی وجوہات بیان کرتے وقت ملکہ سے جھوٹ بولا تھا تو ان کا جواب تھا ‘بالکل نہیں’

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے اس بات کی تردید کی ہے انھوں نے ملکہ برطانیہ کو ملک کی پارلیمان کو پانچ ہفتے تک معطل رکھنے کا مشورہ دیتے وقت جھوٹ کا سہارا لیا تھا۔

بورس جانسن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سکاٹ لینڈ کی اعلی ترین عدالت نے پارلیمان کو معطل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن نے پارلیمان کی معطلی کے حوالے سے ملکہ برطانیہ کو گمراہ کیا تھا۔

جب بورس جانس سے سوال ہوا کہ آیا انھوں نے معطلی کی وجوہات بیان کرتے وقت ملکہ سے جھوٹ بولا تھا تو ان کا جواب تھا ‘بالکل نہیں۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ‘انگلینڈ کی ہائی کورٹ واضح طور پر ہم سے متفق ہے، تاہم آخری فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا ہو گا۔’

یہ بھی پڑھیے

’بریگزٹ میں تاخیر پر مجبور کیا گیا تو انتخابات ہوں گے‘

بریگزٹ: دارالعوام میں جانسن کی شکست، اب آگے کیا ہوگا؟

برطانوی پارلیمان کو آرڈر میں رکھنے والے جان برکاؤ کون ہیں؟

برطانوی قوانین کے تحت پارلیمان کو معطل کرنے کا اختیار ملکہ برطانیہ کے پاس ہے جو روائیتی طور پر اس حوالے سے وزیر اعظم کی جانب سے دیے گئے مشورے پر ہی عمل کرتی ہیں۔

بدھ کے روز ایڈن برگ کی کورٹ آف سیشن نے ایک متفقہ فیصلے میں قرار دیا تھا کہ وزیر اعظم کے اس فیصلے کے پیچھے ‘پارلیمان کی ترقی کو روکنے کا نامناسب مقصد’ کارفرما ہے۔

یہ فیصلہ 70 ممبران پارلیمان کی جانب سے پارلیمان کی معطلی کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ایک درخواست پر آیا ہے۔

اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ایسا کہنا ‘نامعقول’ ہو گا کہ یہ اقدام جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ نئے آنے والے وزیر اعظم کے لیے اس نوعیت کے اقدامات کرنا ایک عام کی بات ہے۔

پارلیمان

UK PARLIAMENT
برطانوی پارلیمان کی حالیہ پانچ ہفتوں کی معطلی منگل کی صبح سے شروع ہوئی ہے پارلیمان کی کارروائی کا دوبارہ آغاز اب 14 اکتوبر کو ہو گا

گذشتہ ہفتے لندن کی ہائی کورٹ نے اسی نوعیت کی ایک پیٹیشن کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ پیٹیشن جینا ملر نے دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ کے ججوں نے یہ دلیل دی تھی کہ پارلیمان کی معطلی کا فیصلہ ‘خالصتاً سیاسی’ نوعیت کا ہے اور عدالت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔

برطانوی پارلیمان کی حالیہ پانچ ہفتوں کی معطلی منگل کی صبح سے شروع ہوئی ہے پارلیمان کی کارروائی کا دوبارہ آغاز اب 14 اکتوبر کو ہو گا۔

لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ‘ییلو ہیمر ڈاکومنٹ’ کی اشاعت کے بعد ‘اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم’ ہو گیا ہے کہ پارلیمان کی کارروائی کو دوبارہ شروع کیا جائے۔

‘ییلو ہیمر ڈاکومنٹ’ میں وضاحت کی گئی ہے کہ نو ڈیل بریگزٹ کی صورت میں زیادہ سے زیادہ بدترین صورتحال کیا ہو سکتی ہے۔

یہ دستاویز ممبران پارلیمان کے اصرار پر جاری کیا گیا ہے اور اس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ نو ڈیل بریگزٹ کی صورت میں برطانیہ میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن کی قلت ہو سکتی ہے۔ اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدن والے افراد پر ہو گا۔

اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایسی صورتحال چھ ماہ تک رہ سکتی ہے جس کی وجہ سے ادویات کی رسد کم ہو سکتی ہے۔ پورے برطانیہ میں نو ڈیل بریگزٹ کے حق اور مخالفت میں مظاہرے ہو سکتے ہیں۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئرلینڈ کے ساتھ برطانیہ کی سرحد کے ساتھ بندش کے باعث کچھ کاروبار اپنی تجارت روک کرسکتے ہیں جس سے بلیک مارکیٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اگرچہ پارلیمان کو ہر سال کچھ وقت کے لیے معطل کیا جاتا ہے مگر بریگزٹ کے تناظر میں موجودہ معطلی کو اس کی ٹائمنگ کی وجہ سے کافی تنقید کا سامنا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اس وقت میں معطلی صرف اس وجہ سے کی ہے تاکہ بریگزٹ پر ان کی حکمت عملی اور نو ڈیل بریگزٹ کے ان کے ارادے اور تیاریوں پر تنفید کو روکا جا سکے۔

بریگزٹ

PA Media
دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئرلینڈ کے ساتھ برطانیہ کی سرحد کے ساتھ بندش کے باعث کچھ کاروبار اپنی تجارت روک کرسکتے ہیں جس سے بلیک مارکیٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے

دریں اثنا یورپی یونین کا کہا ہے کہ بورس جانسن کی جانب سے انکار کے باوجود وہ بریگزٹ پر ہونے والے ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے شمالی ‘آئرلینڈ بیک سٹاپ’ کی تجویز پر نظر ثانی کرنے کو تیار ہیں۔

یورپین پارلیمان کے صدر ڈیوڈ سیسولی کا کہنا ہے ‘بیک سٹاپ’ کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔ بیک سٹاپ کا مقصد بریگزٹ کے بعد سخت آئرش بارڈر سے بچنا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کی جانب سے متعین ثالث مشیل بارنئیر کا کہنا ہے کہ ‘برطانیہ میں صورتحال سنجیدہ اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ پرامید رہنے کے لیے ہمارے پاس کچھ وجوہات نہیں ہیں۔’

انھوں نے متنبہ کیا کہ اگرچہ نو ڈیل بریگزٹ جیسی صورتحال سے بچاؤ کے لیے پارلیمان ایک قانون کی تیاری میں مصروف ہے مگر پھر بھی برطانیہ بغیر کسی ڈیل کے یورپی یونین سے نکل سکتا ہے۔

تاہم وزیر اعظم بورس جانسن کا اصرار ہے کہ برطانیہ 31 اکتوبر کی موجودہ ڈیڈ لائن تک یورپی یونین کو چھوڑنے کے لیے ‘تیار’ ہو گا۔ ‘اگر ہمیں کسی ڈیل کے بغیر نکلنا پڑا تب بھی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ بدترین صورتحال سے بچنے کی تیاریاں ہیں۔ اور آپ ہر حکومت سے اسی چیز کی توقع رکھتے ہیں۔’

‘درحقیت ہم یقینی طور پر نو بریگزٹ ڈیل کے لیے تیار ہوں گے، اگر ایسا کرنا پڑا تو۔ اور میں ایک مرتبہ پھر واضح کرتا ہوں ہمارا مقصد اس طرح (نو ڈیل بریگزٹ) سے مسئلے کا اختتام نہیں۔’

تاہم چانسلر جان میک ڈونل کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر ‘ناراض’ ہیں کہ پارلیمان کی معطلی کے دوران اس حوالے سے ہونے والی منصوبہ بندی پر ممبرانِ پارلیمان بات نہیں کر پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10736 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp