جنوبی افریقہ میں ریپ کے واقعات کے خلاف احتجاج: ’میرا ریپ ہوا اب مجھے اپنی بیٹیوں کے لیے ڈر لگتا ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ چند ہفتوں میں خواتین کے ریپ اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث جنوبی افریقہ کی عوام میں اشتعال پایا جاتا ہے۔

حالیہ واقعات میں ایک کم عمر بچی کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد اس کا سر مبینہ طور پر مسخ دیا گیا جبکہ ایک اور یونیورسٹی کی طلبہ کو مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

خواتین کے ریپ اور قتل جیسے واقعات کے بعد ملک میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک مہم چلائی گئی جس میں ایک آن لائن پیٹیشن پر پانچ لاکھ سے زائد افراد نے دستخط کیے جس کے ذریعے ملک میں سزائے موت کے قانون کو دوبارہ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جنوبی افریقہ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر سرل رمافوسا نے اس حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان اقدامات میں جرائم پیشہ افراد کی فہرست کو عوام الناس کے سامنے لانا، ’جنسی جرائم کی شنوائی کے لیے مخصوص عدالتوں‘ کی تعداد میں اضافہ اور ان جرائم میں ملوث افراد کے لیے سخت سے سخت سزائیں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا عورت کا مرد کے ساتھ جبری سیکس کرنا ریپ ہے؟

انڈیا: ریپ معاشرے کی بےحسی کا عکاس

ریپ ویڈیوز کے وائرل ہونے کا خطرناک رجحان

’شادی کے جھوٹے وعدے پر کیا گیا سیکس ریپ ہے‘

جنوبی افریقہ

Getty Images
جنوبی افریقہ میں خواتین کے ریپ اور قتل جیسے واقعات کے بعد ملک میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا

جوہانسبرگ میں مقیم 37 سالہ فوٹو گرافر سارہ میڈگلے کو ایک دہائی قبل ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ اب تک اس صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اب وہ دو بچوں کی ماں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی افریقہ کی نامہ نگار ایستھر اکیلو اوگولا کو اپنی کہانی بتائی ہے۔

سنہ 2010 میں مجھے میرے سابقہ بوائے فرینڈ نے ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب جنوبی افریقہ میں فٹ بال کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا۔

میرا سابقہ بوائے فرینڈ تقریباً 18 ماہ تک مجھے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا رہا جس کے بعد مجھ میں حوصلہ پیدا ہوا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔

ان 18 مہینوں کے دوران میں نے اسے کئی دفعہ دھمکی دی کہ میں تمھیں چھوڑ جاؤں گی مگر جب بھی میں ایسا کرنے کی کوشش کرتی تو وہ مزید مشتعل ہو جاتا۔

وہ مجھے لات مارتا، بعض اوقات میرا گلا دباتا اور کاٹتا۔ وہ ہمیشہ مجھے دھمکی دیتا کہ اگر میں نے اسے چھوڑنے کی کوشش کی تو وہ میری بیٹیوں کا ریپ کرے گا اور انھیں میرے سامنے قتل کر دے گا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ اس نے مجھے ٹیزر کے ذریعے بجلی کا جھٹکا بھی دیا تھا۔

میں نے اس سے بات کا ذکر کبھی کسی سے نہیں کیا کیونکہ میں اس بات پر شرمندہ تھی کہ میں اپنے حق کے لیے بھی کھڑی نہیں ہو سکتی ہوں۔

اس نے مجھے میرے دوستوں اور اہل خانہ سے بھی دور کر دیا تھا کیونکہ طلاق ہونے کے بعد مجھ میں خود اعتمادی نہیں رہی تھی اور اس نے مجھے یہ باور کروا دیا تھا کہ میرے گھر والے اور دوست میری پرواہ نہیں کرتے۔ میں یہ بھی سمجھتی تھی کہ وہ میری بچیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

جب میں نے اسے چھوڑنے کی ہمت کی تو میں نے یہ انتہائی خفیہ انداز میں کیا۔ تاہم اسے چھوڑنے کے دس روز بعد وہ میرے دروازے پر کھڑا تھا۔ یہ کہنا کہ اسے دیکھ کر میں دنگ رہ گئی تھی، تو یہ بہت کم ہو گا۔

اس نے کہا وہ صرف آخری مرتبہ ایک مدد طلب کرنے وہاں آیا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کہ پاس اس کے چچا کے فارم پر جانے کے لیے نہ تو پیسے ہیں اور نہ ہی وسائل۔ اس کے چچا کا فارم میرے گھر سے 25 کلومیٹر دور تھا۔

ان نے مجھ سے وعدہ کیا کہ اگر میں اسے وہاں تک پہنچا دوں تو وہ ہمیشہ کے لیے میری زندگی سے نکل جائے گا۔ میں نے اس کا اعتبار کر لیا۔

میرے ریپ کے برسوں بعد بھی میں اپنے آپ کو کوستی ہوں کہ میں نے اس کی بات کا اعتبار کیوں کیا کہ وہ مجھے کچھ نہیں کہے گا۔


جنوبی افریقہ میںاگست سے ابتک پیش آئے واقعات

  • 14 سالہ سکول کی طلبہ جانیکا مالو کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ ریپ کے بعد مبینہ طور پر اس کا سر دیوار سے مارا گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ اس کیس میں اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔
  • 19 سالہ یونیورسٹی سٹوڈنٹ کو مبینہ طور پر ورغلا کر پوسٹ آفس میں قائم مردوں کے کمرے میں لے جایا گیا اور وہاں اس کا ریپ کیا گیا اور بعدازاں اسے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کیس میں پوسٹ آفس کے ایک ملازم پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
  • 19 سالہ تھیولوجی سٹوڈنٹ جیسی ہیس اپنے بستر پر مردہ پائیں گئیں جبکہ ان کے 85 سالہ دادا کو ہاتھ پاؤں باندھ کر واش روم میں بند کیا گیا تھا۔ اس کیس میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
  • 25 سالہ باکسر بےبی لی کو ان کے سابقہ بوائے فرینڈ نے، جو کہ ایک پولیس افسر ہے، ان کی گاڑی میں گولی مار دی۔ انھوں نے بھاگنے کی کوشش کی اور اس کوشش کے دوران ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس سے وہ ہلاک ہو گئیں۔
  • 30 سالہ میگھن کریمر کی لاش ایک گڑھے سے ملی۔ مبینہ طور پر ان کی گردن کے گرد رسی لگی ہوئی تھی۔ اس کیس میں تین ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
  • 32 سالہ سیلز کوچ کے جسم کے حصے ایک اپارٹمنٹ کے قریب پڑے بیگ سے ملے۔ اس مشتبہ فرد کو اس سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

گاڑی میں کچھ دور سفر کرنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ اس کے رویے میں تبدیلی آئی تھی۔ میں نے یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ شاید یہ اس لیے ہے کہ وہ ہیروئن پینے کا عادی ہے۔ (بد قسمتی سے مجھے اس کا علم اپنے تعلق کہ دوران بہت بعد میں ہوا۔)

میں نے اسے بتایا کہ میں صرف فارم ہاؤس کے گیٹ تک جاؤں گی اور وہاں سے واپسی کی راہ لوں گی۔

جیسا کہ میں نے پہلے سوچا تھا کہ چیزیں ٹھیک نہیں ہیں اسی دوران اس کے ایک عمل نے میرے خدشات کو درست ثابت کیا۔ اس نے کہا کہ تم صرف اس وقت واپس جا سکتی ہو جب میں اس کی اجازت دوں گا اور یہ کہنے کے بعد گاڑی کے دروازے لاک کر دیے۔

جب ہم فارم پر ہہنچے تو وہ میری والی سائیڈ پر آیا، گاڑی کا دروازہ کھولا اور مجھے میرے بالوں سے پکڑ کر باہر گھسیٹا۔ اس نے میرے سر پر لاتیں ماری جس سے میں بیہوش ہو گئی۔

جب مجھے ہوش آیا تو میں نے اپنے آپ کو فارم کے ایک کونے میں بنے کوارٹر میں اس حالت میں پایا کہ وہ میرے اوپر تھا۔ اس کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی تھا اور جب میرا سابقہ دوست مجھے ریپ کر چکا تو پھر اس کے دوست نے بھی میرا ریپ کیا۔

میں دوبارہ بیہوش ہو گئی۔ جب میں ہوش میں آئی تو وہ جا چکے تھے اور میرے قریب فارم ہاؤس کی صفائی کرنے والی کھڑی تھی۔

مجھے اپنی بچہ دانی نکلوانا پڑی

اس کے پاس پانی کی ایک بالٹی تھی اور وہ اپنے کپڑوں سے مجھے ڈھانپنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میں نے اس سے رکنے اور پولیس یا ایمبولینس کو فون کرنے کو کہا۔ بعد میں ایک ایمبولینس پہنچی اور مجھے اسپتال لے گئی۔

بدقسمتی سے مجھے جو چوٹیں آئیں وہ بہت گہری تھی اور مجھے اپنی بچہ دانی نکلوانا پڑی۔

جب یہ سب ہو رہا تھا تو مجھے پتہ چلا کہ میرے مجرم کی ضمانت ہوچکی ہے اور وہ شہر چھوڑ گیا تھا۔

بالآخر اسے گرفتار کیا گیا اور آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سنہ 2017 میں قید کے ساتویں برس میں مثانے کے کینسر کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔

میں پوری ایمانداری سے کہہ سکتی ہوں کہ ان سات برسوں میں وہ پہلا موقع تھا جب سکھ کا سانس لیا۔ میں نے اس کے دوست کے خلاف کبھی بھی مقدمہ نہیں چلایا کیونکہ میں کسی اور ممکنہ سماعت کے کرب سے گزر نہیں سکتی تھی۔

مجھے میرے سابقہ بوائے فرینڈ سے متعلق برے خواب آتے تھے کہ وہ واپس آئے گا اور مجھے اور میرے بچوں پر حملہ کر دے گا۔

میں اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گئی تھی کیونکہ میں اکیلے نہیں رہ سکتی تھی۔

جب آپ سانپوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں تو تمام قسم کے سانپوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں حتیٰ کہ ان سے بھی جو زہریلے نہیں ہوتے۔

بدقسمتی سے اب میں مردوں سے خوفزدہ ہوں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ اسے ظاہر نہ کروں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مردوں کو احساس ہے کہ وہ کتنے ڈراؤنے ہوسکتے ہیں۔

میں اپنے بچوں کی حفاظت کے متعلق جنونی ہو گئی تھی

ریپ کے بعد زندہ بچ جانے والی بیٹیوں کی ماں کے لیے بدترین چیز یہ ہے کہ آپ یہ سوچتے ہیں کہ کہیں آپ کی بچیوں کو ساتھ ایسا کوئی واقع نہ ہو جس سے آپ گزری ہیں۔

یہ تباہ کن ہو گا کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے وہ ان کے ساتھ بھی ہوں۔

لہذا میں نے اپنے بچوں کو یہ سیکھایا ہے کہ میں ہمیشہ ان کی محفوظ جگہ رہوں گی۔ وہ ہمیشہ مجھ پر اعتماد کر سکتے ہیں، وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور میں ہمیشہ ان پر یقین کروں گی۔

جنوبی افریقہ

EPA
جنوبی افریقہ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے

میں اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں جنونی ہوگئی تھی۔ میں نے انھیں فون خرید کردیے اور خود کو مسلسل ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتے ہوئے پایا۔ وہ جہاں بھی جاتیں میں ان کے ساتھ جاتی چاہے وہ صرف اپنے دوستوں کے ساتھ مال میں ہی گھوم رہیں ہوں۔

آخر کارمجھے تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور اپنی جنونی کیفیت سے نکلنے کے لیے دوبارہ علاج کروانا پڑا۔

ذاتی طور پر مجھے نہیں لگتا کہ جنوبی افریقہ میں خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ خاص کام کیا جا رہا ہے۔

لوگ یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ خواتین کے لیے صورتحال کتنی سنگین ہے اور بدقسمتی سے حملوں کو معاف کرنے والوں میں سے کچھ ایسی خواتین ہیں جو کہتی ہیں کہ ’جو ہوا سو ہوا۔ لوگوں کو آگے بڑھنے اور مثبت رہنے کی ضرورت ہے۔‘

یہ خواتین کے ساتھ زیادتی اور انھیں قتل کرنے کے واقعات کا حل نہیں ہے۔


بین الاقوامی سطح پر جنوبی افریقہ کا موازنہ کیسے ہوتا ہے؟

برائے بی بی سی رئیلٹی چیک کی ٹیم

خواتین کے خلاف جنسی تشدد کی موازنہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ ممالک مختلف طریقوں سے جرائم کا ریکارڈ مرتب کرتے ہیں اور کچھ معاملات میں اعداد و شمار غائب یا کئی سال پرانے ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ بہت سے ممالک میں خواتین پر جنسی تشدد سے متعلق رپورٹ درج ہی نہ ہوتی ہوں۔

خواتین اور لڑکیوں کے قتل کی شرح کے بارے میں اعداد و شمار موجود ہیں، حالانکہ سب سے حالیہ اعداد و شمار سنہ 2016 کے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد شمار بتاتے ہیں کہ جنوبی افریقہ دنیا میں اس برس قتل کا جرم کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر تھا۔

جنوبی افریقہ میں ہر 100،000 خواتین میں سے 12.5 خواتین کی اموات تشدد کے باعث ہوئیں۔ لیسوتھو، جمیکا اور ہونڈوراس سب سے اوپر تھے۔ 183 ممالک کی فہرست میں خواتین کو قتل کر کے ہلاک کرنے کی عالمی اوسط 2.6 تھی۔

جنوبی افریقہ میں خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کی طرف سے سن 2016 میں ایک رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ نو میں سے ایک ہی ریپ کیس کی اطلاع پولیس کو دی گئی اور یہ تعداد اس سے بھی کم ہے اگر اس کے ساتھے نے اس عورت کے ساتھ زیادتی کی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9998 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp