جمہوریت کس مرض کی دوا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام آدمی کی صحت پہ جمہوری بحثوں کا کیا اثر پڑتا ہے؟ جمہوری حکومت ہو یا غیر جمہوری، انتخابات ہوں یا نہ ہوں، ہمارے تھانوں کا ماحول وہی رہتا ہے۔ تفتیش کا طریقہ کار وہی ہوتا ہے جو تفتیشی افسر کے من میں آئے۔ اس ماحول کو ہم نے ایک خوبصورت نام دیا ہوا ہے، تھانہ کلچر۔ حالانکہ جو کلچر تھانوں میں ہوتا ہے عمومی طور پہ معاشرے کا کلچر بھی وہی ہے۔ یعنی طاقتور کی چلتی ہے اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ تھانیدار برطانوی راج کے قوانین کی پیداوار نہیں اسی معاشرے سے اُس نے جنم لیا ہے۔

محکمہ پٹوار جو کہ محکمہ مال کاحصہ ہے کے کام کرنے کے جو عمومی ریٹ ہوتے ہیں اُن کا جمہوریت یا آمریت سے کوئی تعلق نہیں۔ ملک میں اسمبلیاں ہوں یا نہ ہوں کام کے عوض یہ صدقہ دینا پڑتا ہے۔ باقی بھی ملک کا کوئی شعبہ دیکھ لیں، اُس کی کارکردگی یا نالائقی سے جمہوریت یا اُس کی غیر موجودگی کا کوئی تعلق نہیں۔ رشوت اور اقربا پروری ہمارے معاشرے اور اُس کے کلچر کے لازمی جزو ہیں۔ اِن کا جمہوریت سے کیا واسطہ۔ ایکسیئن صاحبان محکمہ بلڈنگ کے ہوں یا محکمہ ہائی وے کے، اُنہوں نے اپنا حصہ لینا ہوتا ہے۔ سیاست کے اتار چڑھاؤ سطحی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ معاشرے کا خمیر اور اُس کی اصلیت وہی رہتی ہے۔

جمہوریت مڈل کلاس اور اُوپر کے طبقات کا مسئلہ ہے۔ یہیں کے لوگ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور اسمبلیوں میں جاتے ہیں۔ آزاد ئی اظہار ایسے ہی لوگوں کے لئے ہوتا ہے ورنہ ملک کی ننانوے فیصد آبادی کا آزاد ئی اظہار جیسی تھیوریوں سے کوئی سروکار نہیں۔ لاہور اور اُس کے گردونواح کی حالت دیکھ لیجیے۔ لاہور کے قریب کسی تھانے میں تشدد ہو جائے اور پولیس غفلت کی مرتکب ہو یا کسی اور نالائقی کی، لواحقین کو لاش یا لاشیں سر پر اُٹھا کے کہیں ایسی جگہ لانی پڑتی ہیں جہاں وہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جائیں۔ آج کل ٹی وی کیمروں کا راج ہے۔ ٹیلی ویژن پہ کچھ آ گیا، کسی کوریج کی زیادتی ہو گئی تب ہی حکومتوں کے کانوں پہ کوئی چیز رینگتی ہے۔ نہیں تو بڑی بڑی چیزیں ہو جائیں ’آہوں اور سسکیوں کے بیچ دَب کے رہ جاتی ہیں۔

اِن باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ غیر جمہوری حکومتوں میں سب اچھا ہوتا ہے یا اُن میں فرشتوں کا راج ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ اُن حکومتوں کی کمزوریاں اور نالائقیاں اپنی جگہ۔ پاکستان کی تاریخ میں جو بڑے سانحات رونما ہوئے ہیں ایسا غیر جمہوری حکومتوں میں ہی ہوا ہے۔ کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی جو اصلیت ہے اُس کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں۔ جو خرابیاں ہیں وہ ہیں اور جمہوریت کے ہونے سے وہ کم نہیں ہوتیں۔ یہ بڑے لوٹ مار کے قصے جن کے بارے میں ہم آج کل سنتے ہیں اور جن کی وجہ سے بڑے بڑے یا جیلوں میں ہیں یا پیشیاں بھگت رہے ہیں یہ سب جمہوری ادوار کی پیداوار ہیں۔ لوٹ مار پہلے بھی ہوتی تھی، لیکن جو وارداتیں آج کل قومی گفتگو کا حصہ بنی ہوئی ہیں اِن ساروں کا تعلق جمہوری حکومتوں سے ہے۔

اس لیے جب ہمارے شہروں میں رہنے والے دانشورانِ کرام جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں یا جمہوریت کی کمی بیشی کے بارے میں ماتم کرتے ہیں تو سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ کس بات کا رونا رو رہے ہیں۔ آزاد ئی اظہار کا تو یہ حال ہے کہ بڑے سیٹھوں کا آسانی سے نام نہیں لیا جا سکتا۔ مجبوریاں حائل ہو جاتی ہیں کہ نام لیں تو یہ ہو جائے گا، فلاں چیز رک جائے گی اور مختلف پرابلم کھڑے ہو جائیں گے۔ سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنانا نسبتاً آسان ہے۔

مختلف اداروں کے بارے میں اول تو بات کی ہی نہیں جا سکتی ’کچھ کہا بھی جائے تو گول مول انداز میں ہی ممکن ہوتا ہے۔ لیکن بنیادی نکتہ وہی ہے کہ ننانولے فیصد آبادی کا جمہوریت اور جمہوری بحثوں سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی تھانے جانا ہو تو مروجہ طریقوں سے کام چلانا پڑتا ہے۔ محکمہ پٹوار سے کام پڑے تو ہاتھ میں کچھ رکھنا پڑتا ہے۔ آئین کا کون سا آرٹیکل کیا کہتا ہے یا کون سی آزادی کی ضمانت دیتا ہے‘ ان چیزوں کا اثر نہ کسی تھانیدار پہ پڑا ہے نہ کسی پٹواری پہ۔

تو جمہوریت کو لے کے ایک پاکستانی شہری کیاکرے۔ بجلی کا میٹر لگوانا ہو تو پاکستانی آئین کسی کام کا نہیں۔ واپڈا والوں سے عموماً کوئی کام بھی کروانا ہو تو جنہیں ہم با اثر کہتے ہیں اُن کی بات تو کچھ اور ہو سکتی ہے عام شہری کو وہی حربے بروئے کار لانے پڑتے ہیں جو مملکتِ خداداد میں مؤثر سکہ سمجھے جاتے ہیں۔

ایک بات پاکستانی ذہن میں ابھی تک نہیں اُتری کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہمارے ہاں جمہوریت اور لا قانونیت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یعنی جمہوریت کی تمام نظر آنے والی یا سطحی چیزیں یہاں موجود ہیں : الیکشن، اسمبلیاں، آزاد ئی اظہار وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ ہی پرلے درجے کی لا قانونیت بھی معاشرے میں عام ہے۔ قانون کے لبادے میں یا قانون کا سہارا لیتے ہوئے بڑی سے بڑی ڈکیتی با اثر لوگوں کے حوالے سے ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ ہم جیسے جمہوریت کی بحثوں میں لگے رہتے ہیں۔

قانون کی حکمرانی کا مطلب ہے قانون کی پاسداری اور یہ کہ قانون ہر ایک پہ لاگو ہے۔ یہ تو ہمارے ہاں ہے نہیں۔ تھانوں میں جا کے دیکھ لیں، لاچاروں کے ساتھ رویہ اور ہوتا ہے اور جو کوئی کچھ اثرورسوخ رکھیں اُن کی حیثیت مختلف ہوتی ہے۔ ہر جگہ ہر محکمے میں آپ یہی دیکھیں گے۔ سڑکوں پہ ٹریفک وارڈنوں کا رویہ دیکھ لیں۔ موٹر سائیکل والوں کو دھرا ہوا ہو گا، بڑی گاڑیوں والوں کو کم ہی پوچھا جاتا ہے۔ لیکن کہنے کو تو جمہوریت ہر ایک کے لئے یکساں ہے۔ آئین پاکستان بھی ہر ایک کے لئے ہے اور آئین کی رو سے ہر شہری برابر ہے عملی طور پر دیکھیں تو اس سے کوئی بڑا مذاق ہو نہیں سکتا۔

ویسے بھی جمہوریت جہاں کی پیداوار ہے یعنی انگلستان یا یورپ وہاں قانون کی حکمرانی کا تصور پہلے اجاگر ہوا اور جمہوریت بہت بعد میں آئی۔ بیشتر دنیا میں جمہوریت تو پچھلے تقریباً سو سال کی پیداوار ہے۔ انگلستان اور فرانس کے علاوہ بیشتر یورپی ممالک میں بادشاہتیں رائج تھیں۔ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں بڑی بڑی یورپی بادشاہتیں تباہ ہوئیں۔ کہیں جمہوریت آئی، کہیں ہٹلر جیسی آمریت۔ دوسری جنگ عظیم کی تباہیوں کے بیچ میں ایک طرف جمہوری افکار کو تقویت ملی اور دوسری طرف نوآبادیاتی نظام فرسودہ سمجھا جانے لگا۔

ہمارا تو ویسے بھی جمہوریت اور اُس کے تقاضوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ہمیں جو جمہوریت ملی وہ انگریزوں کی دَین تھی نہیں تو اسمبلیوں اور الیکشنوں سے ہمارا کیا واسطہ۔ ہماری تاریخ میں تو ایسی کوئی چیز نہیں تھی۔ اسی لیے جمہوریت کی ظاہری چیزوں کے ہونے کے باوجود جسے آپ جمہوریت کی روح کہہ سکتے ہیں اُسے یہاں پنپنے میں مشکل ہوتی ہے۔

ایک اور بات بھی غور طلب ہے۔ مختلف معاشروں کے مختلف تقاضے ہوتے ہیں۔ عزت اور شرمساری کے معیار مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پہ ہمارے ہاں کسی لڑکی یا عورت کی مرضی کی شادی یا گھر سے چلے جانا عزت پہ بڑا حرف سمجھا جاتا ہے۔ کرپشن کا الزام اتنا برا نہیں سمجھا جاتا۔ لوگوں کے بارے میں پتہ ہو گا کہ انہوں نے ناجائز ذرائع سے پیسے کمائے ہیں۔ لیکن اگر اُن کے صحن میں دو یا تین گاڑیاں کھڑی ہیں تو انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

یورپ یا جاپان میں لڑکی کا اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ شام گزارنا بالکل نارمل بات سمجھی جاتی ہے لیکن خاندان کے سربراہ پہ بد دیانتی کا الزام لگے تو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ جاپان میں عزت اور بے عزتی کے معیار اور بھی سخت ہیں۔ ذاتی بے راہ روی وہاں کوئی عیب نہیں سمجھتا جاتا لیکن آپ کی حرکات کی وجہ سے خاندان یا جس کمپنی میں آپ کام کر رہے ہیں اس پہ کوئی آنچ آئے تو بڑی بے عزتی مانی جاتی ہے۔

امریکا میں صدر نکسن کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صدر کلنٹن کو مواخذے کی کارروائی سے گزرنا پڑا ’کسی اور حرکت کی وجہ سے نہیں صرف جھوٹ بولنے پر۔ یہاں ہم بڑے سیدھے منہ سے جھوٹ بول دیتے ہیں اور اسے کوئی بڑا عیب سمجھا ہی نہیں جاتا۔ نواز شریف اوراُن کا سارا خاندان اب تک حیرت زدہ انداز سے پوچھتا ہے کہ ہم نے آخر کیا کیا؟ غلط بیانیوں کا ایک پورا سلسلہ ہے لیکن اُن کی کتاب میں یہ کوئی جرم بنتا ہی نہیں۔ اُن کی غلطی نہیں، ہمارے معاشرے کی اقدار ہی ایسی ہیں۔ جب تک یہ اقدار نہ بدلیں جمہوریت یہاں ایک نعرہ ہی رہے گا۔ اس کی کوئی زیادہ حقیقت نہ ہو گی۔

بشکریہ روز نامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •