آرٹیکل 370: کشمیری گلوکار کو جب ممبئی میں گھر خالی کرنے کو کہا گیا

ثمرہ فاطمہ - بی بی سی اردو، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے شہر ممبئی میں کرائے کا مکان ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں۔ لاکھوں لوگ ہر سال امیدوں اور خوابوں کے ڈھیر سر پر اٹھائے یہاں آتے ہیں اور رہائش کے انتظامات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مگر کشمیریوں کے لیے یہاں کرائے کا مکان لینا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ بہت سے مالک مکان ڈرتے ہیں کہ آپ اگر کشمیری ہیں تو کہیں آپ کا تعلق شدت پسندوں سے نہ ہو۔ اور آگر آپ پر کوئی رحم کھا کر مکان دے بھی دے تب بھی آپ اپنے نئے گھر میں چین کی نیند نہیں سو سکتے۔

ایسی ہی مشکلات کا سامنا ایک چوبیس سالہ کشمیری گلوکار عادل گریزی کو حال ہی میں کرنا پڑا جب کشمیر میں آرٹیکل370 کے خاتمے کے بعد انھیں مکان خالی کرنے کو کہا گیا۔

عادل ممبئی کے اندھیری ویسٹ علاقے میں اپنے دو دوستوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جس دوران وہ اپنے گھر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر گئے ہوئے تھے، ان کے پراپرٹی ایجینٹ نے معاہدے میں ان کی جگہ فلیٹ میں ان کے ساتھ رہنے والے ان کے دوست اجے کا نام لکھ دیا۔ اور اسے منع کر دیا کہ واپس آنے پر عادل کو وہاں نہ رہنے دے۔ تاہم پراپرٹی ایجینٹ راشد نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مسلمان کشمیری پنڈت کون ہیں؟

کشمیری مائیں کیا سوچتی ہیں؟

کشمیر میں زندگی کیمرے کی آنکھ سے

کئی دن کی جدو جہد کے بعد اوشیورا تھانے کے پولیس اہلکار رگھوناتھ کدم کے کہنے پر ایجینٹ راشد نے ان کا نام واپس معاہدے میں داخل کیا۔

معاہدے میں نام کیوں بدلا گیا؟

عادل نے بتایا کہ وہ اپریل میں کشمیر میں واقع اپنے گھر گئے تھے۔ اگست میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی۔

تین ستمبر کو جب وہ واپس ممبئی پہنچے تو ان کے دوست اجے نے بتایا ’ہم سے کہا گیا ہے کہ عادل یہاں نہیں رہ سکتا۔ تمھیں فوری طور پر گھر خالی کرنا ہوگا۔ کشمیر میں صورتحال بہت خراب ہے اور ایجینٹ نے کہا ہے کہ وہ کسی طرح کا رسک نہیں لینا چاہتے۔‘

عادل نے بتایا کہ انھیں لگا کہ یہ معاملہ دو چار روز میں ٹھنڈا پڑ جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دو روز بعد ایجینٹ راشد کا فون آیا اور ان سے دوبارہ گھر خالی کرنے کو کہا گیا۔ عادل نے بتایا کہ ان کے دوست اجے سے کہا گیا کہ اگر وہ عادل کو گھر میں غیر قانونی طور پر رکھتے ہیں تو انھیں بھی گھر چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

چند روز تک کوئی دوسری رہائش گاہ ڈھونڈنے میں ناکامی پر عادل نے کشمیر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جانے سے پہلے 7 ستمبر کو عادل نے اپنے اس تجربے کے بارے میں انسٹاگرام پر ایک سٹوری پوسٹ کی۔ اس سٹوری کے پوسٹ ہوتے ہی ان کے مداحوں کی جانب سے حمایتی پیغامات پوسٹ کیے جانے لگے۔

اگلے روز عادل کے پاس ممبئی کے اوشیورا پولیس تھانے سے انسپیکٹر رگھوناتھ کدم کا فون آ گیا۔

عادل نے بتایا ’میں ممبئی پولیس کا بہت شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اس مشکل وقت میں میری مدد کی۔‘

عادل کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس کے کہنے پر راشد نے عادل کا نام معاہدے میں واپس شامل کر دیا اور ان سے معافی بھی مانگی۔

ایجینٹ نے پولیس کو کیا وجہ بتائی

پولیس اہلکار رگھوناتھ کدم نے بی بی سی کو بتایا کہ پراپرٹی ایجینٹ نے پولیس کی مداخلت کے بعد اپنی اس حرکت کے لیے معافی مانگی۔

انھوں نے بتایا کہ پراپرٹی ایجینٹ عادل کو گھر سے نکالنے کی کوئی جائز وجہ نہیں دے پایا اور اس نے پولیس سے کہا کہ عادل گھر چلا گیا تھا، ہم کو نہیں معلوم تھا کہ وہ واپس بھی آئے گا یا نہیں۔

ممبئی

Getty Images

تاہم پراپرٹی ایجینٹ راشد نے عادل کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ممبئی میں پراپرٹی ایجینٹ پولیس کی جانب سے تصدیق کے بغیر کسی کو کرائے پر مکان نہیں دیتے ہیں۔ عادل نے اپنے بارے میں پولیس کی تصدیق کا سرٹیفیکیٹ نہیں جمع کرایا تھا۔ حالانکہ عادل کے بقول انھوں نے وہ تمام کاغذات جمع کیے تھے جو ان سے مانگے گئے تھے۔

‘گھر ملنا آسان نہیں’

عادل نے بتایا ’میں اپنے دوستوں کے لیے مشکل کا باعث نہیں بننا چاہتا تھا۔ میں نے گھر کی تلاش شروع تو کر دی تھی لیکن یہ آسان نہیں تھا۔ ان دنوں ممبئی میں تیز بارش ہو رہی تھی۔ اس کے علاوہ بھی ممبئی میں گھر کرائے پر لینا کوئی آسان کام نہیں۔‘

’بہت سے لوگ عام دنوں میں بھی کشمیریوں کو گھر نہیں دینا چاہتے ہیں، پھر یہ تو کشمیر میں خراب صورتحال کا دور تھا۔ کوئی راضی بھی ہو جائے تو آپ کو پہلے ’نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ‘ بنوانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ڈیپازٹ کی بڑی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔‘

عادل نے بتایا ’میں سڑک پر نہیں آنا چاہتا تھا۔ گھر نہ ملنے کی صورت میں میرے پاس کشمیر واپس جانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ میڈیا میں کشمیری نوجوانوں کے بارے میں جس طرح لکھا جاتا ہے اس وجہ سے ہمیں گھر ملنا مشکل ہوتا ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں۔ وہ صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کو گھر نہیں دیں گے۔

عادل گریزی کہتے ہیں کہ وہ خود اپنے گانے لکھتے اور انھیں گاتے ہیں۔ یوٹیوب پر ان کے سینکڑوں مداح ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ کشمیریوں کے بارے میں اکثر لوگوں کو گھر کرائے پر دینے میں خدشات ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری شورش کے پس منظر میں لوگوں میں اس طرح کے خدشات ہونا کچھ حد تک تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ہر شخص دہشت گرد یا شدت پسند نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11120 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp